انسان، روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور حقیقت میں دونوں اپنی ضروریات و تسکین کے محتاج ہیں۔ جسم اور رُوح کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف وسائل اور اسباب پیدا فرمائے۔ انسان کی جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لیے اناج، غلّہ، پھل، پھول اور دیگر اشیاء میسّر ہیں، جب کہ رُوح کی غذا کے لیے ایک مخصوص مہینہ مقرّر کیا گیا، جسے’’ماہِ رمضان‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس ضمن میں اللہ ربّ العزّت نے فرمایا۔’’اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلی اُمّتوں پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔'‘‘(سورۃ البقرہ)
اِس ماہ کو’’رمضان‘‘ کہنے کی متعدّد وجوہ ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رمضان لفظ’’رمض‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی جَلا دینے کے ہیں۔ چوں کہ ماہِ رمضان گناہوں کو جَلا دیتا ہے، اِس لیے اسے رمضان کہا گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔’’کیا تم جانتے ہو کہ رمضان کو رمضان کیوں کہا گیا؟ اِسے رمضان اِس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ گناہوں کو جَلا دیتا ہے۔‘‘(کنز العمال)اللہ ربّ العزّت نے ماہِ رمضان کو عفو، مغفرت، بشارت، رضا، سرور اور قبولیت کے ساتھ مخصوص فرمایا۔
اس نے روزہ داروں کو اپنی رحمت سے اجرِ عظیم دینے کا وعدہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ اِس عظیم مہینے کی خاص طور پر تیاری فرماتے اور صحابۂ کرامؓ کو اِس کی فضیلت اور اہمیت سے آگاہ کیا کرتے۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ماہِ رمضان کی آمد سے قبل خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔’’تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آنے والا ہے۔ پس، اس میں نیّتیں درست کرلو، اس کی حرمت کی تعظیم کرو، بے شک اللہ کے نزدیک اِس مہینے کی بہت حرمت ہے، اس کی حرمت پامال مت کرو۔‘‘(کنز العمال)
اِسی طرح ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ماہِ شعبان کے آخری دن ماہِ رمضان کی عظمت، فضیلت و اہمیت کے ساتھ نیکیوں کی جانب رغبت دلاتے ہوئے مسلمانوں کو ثواب کا مژدہ سُنایا۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن فرمایا۔’’اے لوگو! تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ تعالی نے اس کے روزے فرض قرار دیئے اور رات میں قیام کو نفل قرار دیا، اس مہینے میں جس شخص نے نفل عمل کیا، وہ دوسرے مہینے میں فرض ادا کرنے والے کے برابر ہے اور جس شخص نے اس میں ایک فرض ادا کیا، وہ دوسرے مہینے میں ستّر فرائض ادا کرنے والے کے برابر ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنّت ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
جس نے ایک روزہ دار کو افطار کروایا، وہ اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے آزادی کا سبب ہے اور اسے اس روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔ یہ ایسا مہینہ ہے، جس کا ابتدائی حصّہ رحمت، درمیانی حصّہ مغفرت اور آخری حصّہ دوزخ سے آزادی کا ہے۔‘‘(شعب الایمان للبیہقی)
ماہِ رمضان ایسا پیارا مہینہ ہے، جس کے استقبال کے لیے آسمان پر بھی تیاریاں ہوتی ہیں اور جنّت سجائی جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔’’ماہِ رمضان کے استقبال کے لیے جنّت سجائی جاتی ہے اور جب رمضان آتا ہے، تو جنّت کہتی ہے کہ’’یااللہ! اس مہینے میں اپنے بندوں کو میرے لیے خاص کر دے۔‘‘(مجمع الزوائد) رسول اللہ ﷺ کا ماہِ رمضان المبارک کے استقبال کا انداز یہ تھا کہ آپ ﷺ ماہِ رجب کے شروع میں دُعا فرمایا کرتے۔’’اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان وبلغنا رمضان‘‘(اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمارے لیے برکت فرما اور (خیریت کے ساتھ) ہمیں رمضان تک پہنچا۔)‘‘
جب ماہِ شعبان شروع ہوتا، تو آپ ﷺ کثرت سے نفلی روزے رکھتے تاکہ رمضان المبارک میں فرض روزے آسانی سے ادا کیے جا سکیں۔ اِسی طرح صحابۂ کرامؓ کو بھی نفل روزوں کی ترغیب دِلاتے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔’’رسول اللہ ﷺ ماہِ رمضان سے قبل منبر پر فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کے روزے فلاں فلاں دن سے شروع ہوں گے اور ہم اِس سے قبل نفلی روزہ رکھ رہے ہیں، جو چاہے پہلے روزہ رکھے اور جو چاہے رمضان تک تاخیر کرلے۔‘‘(سنن ابنِ ماجہ)
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کے معمولات میں بھی تبدیلی رُونما ہوجاتی۔ آپ ﷺ عبادات میں کثرت سے مشغول رہتے اور رات بھر اللہ تعالیٰ سے دُعا و مناجات کرتے۔ اُمّ المومنین، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔’’جب ماہ رمضان شروع ہوتا، تو رسول اللہ ﷺ کی نمازوں میں اضافہ ہوجاتا، اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دُعا کرتے اور اس کا خوف طاری رہتا۔‘‘(شعب الایمان للبیہقی) رسول اللہ ﷺ رمضان کی آمد کی خبر اِس طرح دیتے۔’’بے شک، تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ یہ مہینہ، مبارک مہینہ ہے، جس کے روزے اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کیے ہیں۔
اس میں جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور سرکش شیطان جکڑ دیئے جاتے ہیں۔‘‘(سنن نسائی)حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان کا آغاز ہوتا، تو نبی کریم ﷺ فرماتے۔’’ایسے مہینے کا آنا مبارک ہو، جس میں صرف بھلائی ہے، اس کے دن میں روزہ اور رات میں قیام ہوتا ہے۔ اس میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے مترادف ہے۔‘‘(غنیۃ الطالبین)
روزے کا مقصد نہ صرف بھوک اور پیاس کی حالت میں صبر و تقویٰ پیدا کرنا ہے بلکہ یہ انسان کو گناہوں سے بچنے، دل کو پاکیزگی عطا کرنے اور روحانی ترقّی کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کی غرض و غایت سے متعلق فرمایا۔’’تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘(سورۃ البقرہ) شبِ قدر کا ذکر قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہؐ میں نہایت فضیلت کے ساتھ آیا ہے۔
یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس میں عبادت کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ ماہِ رمضان میں قرآنِ کریم کی تلاوت اور نفل نمازوں کا اہتمام روحانی ترقّی اور اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اِس مہینے میں صدقات دینے اور روزہ داروں کو افطار کروانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے تاکہ انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت مکمل ہو۔