• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ ماہِ مبارک جس کا ہر مومن کو انتظار رہتا ہے، عن قریب جلوہ گر ہونےکو ہے۔ حضور اکرمﷺ ماہِ رجب سے نہ صرف رمضان المبارک کا انتظار فرماتے، بلکہ بارگاہِ خداوندی میں دستِ دُعا دراز کرتے کہ’’اے اللہ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما، اور ہمیں ماہِ رمضان تک پہنچا۔‘‘ یعنی ہمیں صحت و عافیت کے ساتھ اتنی زندگی عطا فرما کہ ہم رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے بہرہ وَر ہوسکیں۔

اسی لیے اللہ کے نیک بندوں کو رمضان المبارک کا سال بھر انتظار رہتا ہے اور رجب کا چاند نظر آتے ہی اس انتظار میں شدّت آجاتی ہے کہ کسی طرح ماہِ مبارک میسّر آجائے۔ رمضان المبارک کا مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایۂ فگن ہونے والا ہے، اس ماہِ مبارک میں انوار وتجلّیات،رحمتوں اور برکتوں کی موسلا دھاربارش ہوتی ہے۔

گناہ گاروں کے لیے اس ماہِ سعید میں سامانِ مغفرت،’’نارِ جہنم‘‘ سے آزادی کا پروانہ ہے۔ اس ماہ میں ایمان وعمل کی بہار چھا جاتی ہے، گناہوں کی سیاہی سے زنگ آلودہ دِلوں کی صفائی اور صیقل کا سامان ہوتا ہے، جہنّم کے دروازے بند اور جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔’’اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ اور اے شر کے چاہنے والے! پیچھے ہٹ جا۔‘‘ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔ سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، اس ماہ ِصیام میں دن کا روزہ فرض کیا گیا، تاکہ نفسِ امّارہ کو اس کی خواہشات اور مرغوبات سے دُور رکھ کر زیورِ تقویٰ سے آراستہ کیا جائے اور رات کو قرآن سُن کر دِلوں کو جِلابخشی جائے۔

اسلام چوں کہ دینِ فطرت ہے، اس لیے وہ نہ صرف رہبانیت، بلکہ نری مادہ پرستی کے بھی خلاف ہے۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ اس دنیا کے خزانوں اور دفینوں سے فائدہ اٹھاؤ، اپنی خواہشات پوری کرو، مگر ایک دائرے میں اور ایک حد میں رہ کر۔ اپنے اخلاق وروحانیت کے جذبے کو کبھی افسردہ اور مُردہ نہ ہونے دو اور تمام انبیائے کرام ؑ نے ہر دَور میں اسی کے لیے کوشش کی۔

جب بھی انسانیت، انتہا پسندانہ مادیت اور حیوانیت کی زد میں آکر ہلاک ہونے کے قریب ہوئی، انہوں نے اخلاق وروحانیت پیدا کرنے کے اسباب مہیّا کیے۔ روزہ بھی سال میں ایک مرتبہ اسی لیے فرض کیا گیا کہ معدے اور مادّے کی شقاوت اور سختی دُور ہو، کچھ دن مادّیت پرستی میں تخفیف ہو، تاکہ اس میں روحانیت اور ایمان کی اتنی مقدار داخل ہوجائے، جس سے اس کی زندگی اعتدال پر آجائے، فرشتوں کی نسبت حاصل ہوجائے۔

نفس کا مقابلہ اور رُوح کی پُرفضا وسعتوں میں جولانیاں کرسکے۔ رزق کی فراوانی کے باوجود بھوکا پیاسا رہ کر وہ لذّت ونشاط حاصل کرے، جو انواع واقسام کے لذیذ کھانوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ اسی کو قرآنِ کریم ’’تقویٰ ‘‘سے تعبیر کرتا ہے۔ ارشادِ خدا وندی ہے۔’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرہ)۔ اس آیت میں روزے کا مقصد بتایا گیا کہ اس سے مراد بھوکا پیاسا رہنا نہیں، بلکہ حیوانی اور نفسانی تقاضوں کو دباکر ملکوتی صفات پیدا کرنا ہے،تاکہ دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو اور وہ تقویٰ کی صفت سے متصف ہو۔

اس مبارک مہینے کو اللہ تعالیٰ نے ’’اپنا مہینہ‘‘ فرمایا ہے، گویا اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو، جو دنیا کے بکھیڑوں میں گِھر کراللہ سے دُور ہوچکے ہیں، اپنے قریب کرنا اور اپنا بنانا چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا تو کیا تھا اپنی عبادت کے لیے،لیکن وہ اپنی ضروریات وخواہشات کی تکمیل کے لیے دنیا اور اس کے کاموں میں اس قدر منہمک ہوگیا کہ اپنا مقصدِ تخلیق ہی بھلا بیٹھا۔

اپنے خالق ومالک کی طرف سے غافل ہوگیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ انسان، جو گیارہ مہینے دنیا کے جھمیلوں، اس کی تجارت وزراعت، مزدوری ودیگر کاروبار، گھریلو امور وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں کہ ان کی اپنی ضروریات اہل و عیال بھی ہیں، بیوی بچّے بھی ہیں اور دوسرے بہت سے افراد کے حقوق بھی ان سے وابستہ ہیں، تو دنیوی اُمور میں مشغولیت کی سبب دلوں پر غفلت کے جو پردے پڑجاتے ہیں، خالق سے رشتہ کم زو رہو جاتا ہے، تو اس ایک ماہ کے لیے بندے خود کو اس دنیا کے جھنجھٹ سے نکالیں اور اپنے مقصدِ تخلیق کی طرف لوٹ آئیں۔

عبادتِ الٰہی سے اپنے دل پر پڑے غفلت کے پردے اُتاریں ڈالو، گناہوں کے سبب زنگ آلود دِلوں کو اللہ کے ذکر سے جِلا بخشیں۔ اپنے خالق ومالک کے صالح بندے بن کر اُس سے اپنا ٹوٹا رشتہ دوبارہ جوڑلیں، کیوں کہ یہ مہینہ، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا مہینہ ہے، یہ رحمتوں اور مغفرتوں کے حصول کا مہینہ ہے۔

اس ماہ کی خاص عبادت روزے کا مقصد ہی ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرماتے ہیں۔’’ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے، سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔‘‘ (بخاری، مسلم) تمام عبادات اللہ کے لیے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی اُن کا بدلہ عطا فرمائے گا، تو روزے میں ایسی کیا خاص بات ہے، جس کے لیے کہا جارہا ہے کہ ’’روزہ میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔‘‘ 

اس حدیث کی شرح میں علامہ مرتضیٰ زبیدی نے چند اقوال نقل کیے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے٭…کھانے پینے سے بے نیازی حق تعالیٰ کی شان ہے، بندہ جب روزہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے کچھ مشابہت حاصل کرتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ روزہ میرا ہے اور مَیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔٭…نماز، سجدہ، رکوع، ذکر، صدقے سے غیر اللہ کی بندگی، بُت یا گُم راہ فرقوں نے بھی کی، لیکن روزے سے غیر اللہ کی بندگی نہیں کی گئی۔ 

کبھی یہ سنا یا دیکھا نہیں گیا کہ کسی بُت پرست یا گُم راہ نے اپنے بُت یا بزرگ کے نام پر روزہ رکھا ہو، اس لیے فرمایا گیا کہ روزہ میرا ہے اور مَیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔٭…اگر کوئی کسی کا حق غصب کرے یا تکلیف و ایذا دے اور دنیا میں اُس کا حق ادا کیے یا معاف کروائے بغیر دنیا سے چلا جائے، تو اللہ تعالیٰ ظالم سے اُس کی نماز، عبادات اُس کے ظلم کے بدلے میں دلوائے گا، البتہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے، جو کسی کے حق کے بدلے میں نہیں دیا جائے گا، اس لیے اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔ ٭…عام عبادات و طاعات کا قانون یہ ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے، لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اس میں یہ قانون نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ اپنی جُودو سخا کا اظہار فرماتا ہے اور روزے دار کو بے حد وحساب اجر دیتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ روزہ صبر ہے اور صبر سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’صبر کرنے والوں کو بے حد وحساب اجر دیا جائے گا۔‘‘ ٭…نماز، روزہ، حج وغیرہ ظاہری اشکال رکھتے ہیں، مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے، جس کی کوئی ظاہری شکل نہ ہونے کی وجہ سے اس میں ریاکاری کا شائبہ نہیں ہے۔ 

اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی، چناں چہ بیہقی اور ابونعیم کی روایت میں اس کی تصریح بھی ہے، روزے میں دکھاوا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ ’’روزہ میرا ہے، مَیں ہی اس کا بدلہ دوں گا، بندہ میری وجہ ہی سے اپنے کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔‘‘ (شرح احیاء العلوم)۔جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔’’ جس نے ایمان کے جذبے اور طلبِ ثواب کی نیّت سے رمضان المبارک کا روزہ رکھا، اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش ہوگئی۔‘‘ (بخاری ، مسلم)۔

روزہ ہر مسلمان عاقل، بالغ مردوعورت پر فرض ہے، بلاعذر اس کا چھوڑنا گناہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جس شخص نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی چھوڑدیا، تو خواہ ساری عمر روزے رکھتا رہے، اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔‘‘ (یعنی دوسرے وقت میں روزہ رکھنے سے اگرچہ فرض ادا ہوجائے گا، مگر رمضان المبارک کی برکت وفضیلت کا حصول ممکن نہیں)۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

بہت سے افراد معمولی، معمولی باتوں پر روزہ چھوڑ دیتے ہیں، شریعت میں عذر یا تو سفر ہے کہ اس کی مشقّت کی وجہ سے اجازت ہے، چاہے تو روزہ رکھے یا چھوڑ دے، لیکن جتنے روزے چھوڑے گئے، ان کی قضا بعد میں لازمی ہے۔ اسی طرح وہ بیماری، جس میں روزے کی وجہ سے شدّت یا بڑھنے کا اندیشہ ہو، تو روزہ چھوڑا جاسکتا ہے۔ نیز، ضعیف العمر شخص، جو روزے کی طاقت نہیں رکھتا ہو، اسے بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، لیکن وہ اپنے روزوں کا فدیہ دے گا۔ ہر روزے کا فدیہ صدقۃ الفطر کے برابر ہے۔

اسی طرح اگر عورت حا لتِ حمل میں ہو یا بچّے کو دودھ پلاتی ہو اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اتنا ضعف ہوجائے کہ اس کی یا بچّے کی جان کو خطرہ لاحق ہو، تو اسے بھی روزہ ترک کرنے کی اجازت ہے، لیکن بعد میں اس کے ذمّے بھی قضا لازم ہے۔

یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن میں رہے کہ عورت کے لیے عذر کے ایّام میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں، جس طرح کہ اُن دنوں میں نماز پڑھنا جائز نہیں، لیکن یہ یاد رہے کہ اُن دنوں کی نمازوں کی قضا نہیں، لیکن روزوں کی قضا ضروری ہے۔ بہت سی خواتین کے ذہن میں یہ ہے کہ نماز کی طرح روزوں کی قضا بھی نہیں، تویہ غلط ہے۔ اہتمام سے بعد میں اُن روزوں کو قضا کی نیّت سے رکھنا چاہیے۔

رمضان المبارک کے خصوصی اعمال (روزہ، تراویح، تلاوت قرآنِ کریم، ذکرِ الٰہی، دُعا واستغفار) کا خصوصی اہتمام کیا جائے، اس سراپا نور مہینے میں جس قدر نورانی اعمال کیے جائیں گے، اسی قدر رُوح میں لطافت، بالیدگی اور قلب میں نورانیت پیدا ہوگی۔ خصوصاً قرآنِ کریم کی تلاوت کا اہتمام، کیوں کہ اس ماہ کو قرآنِ کریم سے خاص نسبت ہے، اسی ماہ میں قرآنِ کریم نازل ہوا۔ اس مہینے میں جھوٹ، بہتان، غیبت، حرام خوری اور دیگر تمام آلودگیوں سے پرہیز کا پورا اہتمام کیا جائے۔

حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ’’ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنے اور غلط کام کرنے سے پرہیز نہ کرے، اللہ تعالیٰ کو اُس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔‘‘ ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’بہت سے روزے دار ایسے ہیں، جنھیں بھوک، پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ روزے کی حالت میں کان، آنکھ، پیٹ اور شرم گاہ سمیت دیگر اعضاء کی حفاظت لازم ہے۔ غرض، اس مہینے میں گناہوں کا ترک کرنا لازم ہے، اگر ذرا سی ہمّت سے کام لیا جائے، تو ان چند دنوں میں گناہوں کا چھوڑنا بہت آسان ہے۔

جہاں گناہوں سے پرہیز ضروری ہے، وہاں بے فائدہ اور لایعنی مشاغل سے بھی احتراز کرنا چاہیے، کیوں کہ یہ بے مقصد کے مشاغل انسان کو مقصد سے ہٹا دیتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں قلوب کا تصفیہ بھی بہت ضروری ہے، جس دل میں کینہ ، حسد، بغض، عداوت کا کھوٹ او ر میل جمع ہو، اس پر اس ماہ مبارک کے انوار کی تجلّی کماحقہ نہیں ہو سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث کے مطابق، رمضان المبارک کی راتوں میں سب لوگوں کی بخشش ہو جاتی ہے، مگر ایک دوسرے سے کینہ وعداوت رکھنے والوں کی بخشش نہیں ہوتی۔ اس لیے تقاضائے بشریت کی بناء پر جو آپس میں رنجش ہو جاتی ہے، اُن سے دِل صاف کرلینا چاہیے اور اس ماہِ مبارک میں کسی دوسرے مسلمان سے کینہ وعداوت نہیں رہنی چاہیے۔ ماہِ مبارک کا دِل وزبان اور عمل سے احترام کرنا بھی لازم ہے۔

آنحضرتﷺ نے ماہِ رمضان کو ہم دردی وغم خواری کا مہینہ فرمایا ہے، اس لیے اس مہینے میں جو دو سخا اور عطاء وبخشش عام ہونی چاہیے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت عطا فرمائی ہے، وہ اس مہینے میں تنگ دستوں اور محتاجوں کی بطورِ خاص نگہداشت کریں۔ 

ماہِ سعید کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے، رمضان مبارک کو گزرنے نہ دیجیے، جب تک ملأ اعلیٰ میں ہماری بخشش ومغفرت کا اعلان نہ ہو جائے ، توبہ واستغفار، بارگاہِ خداوندی میں عجز ونیاز اور آہ وزاری میں کسرنہ چھوڑیے، بلکہ ساری عمر کی حسرتیں نکال لیجیے، ذکر وتسبیح ، صلوٰۃ وسلام، تکبیر وتہلیل، خصوصاً تلاوتِ قرآن پاک سے اپنے اوقات کو معمور رکھیے۔

تہجّد کے وقت اُٹھنا اور سحری کا اہتمام تو معمولات میں داخل ہی ہیں، کوشش کیجیے کہ اس ماہِ مبارک میں آپ کی نمازِ تہجّد فوت نہ ہو، خواہ دو ہی رکعتیں پڑھنے کا موقع ملے، مگر’’ آہ سحر گاہی‘‘ کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام ضرور درج کروا لیجیے۔

تراویح تو رمضان المبارک کی خاص نماز ہے، لیکن کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کم ازکم رمضان مبارک میں کسی نماز کی تکبیرِ تحریمہ فوت نہ ہو۔ تمام لغوتفریحات کو خیر باد کہہ دیجیے اور عزم کر لیجیے کہ اس ماہِ مقدس کو اپنے گناہوں کی نجاست اور گندگی سے آلودہ نہیں کریں گے۔

بلاشبہ، ماہِ مبارک قبولیتِ دُعا کا خاص موسم ہے، مانگنے والوں کو ملتا ہے اورخُوب ملتا ہے۔مانگنے والوں کی حیثیت کے مطابق نہیں، بلکہ دینے والا اپنی شان کے مطابق دیتا ہے، مگر کوئی مانگنے چاہیے والا۔ سو، اس ماہِ مبارک میں ’’کائنات کے داتا‘‘ کے دروازے پر جتنا مانگا جا سکے، مانگیے، خوب رو رو کر مچل مچل کر مانگیے، اپنے لیے بھی اپنے اہل وعیال اور دوست واحباب کے لیے بھی، اُمتِ کے بلند پایہ اکابر کے لیے بھی اور اُمت کے گناہ گاروں کے لیے بھی۔

آج کل ملک، بلکہ پوری دنیا خصوصاً عالم اسلام کے جو حالات ہیں، ان میں زیادہ ضروری ہے کہ ہم اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں کی معافی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجّہ کریں، لہٰذا اللہ کے حضور اپنے گناہوں پر معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے مغفرت طلب کریں کہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونا، توبہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید