راہبر وہ ہی رہیں راہ دکھائیں ہم لوگ
وہ تو مجبور ہیں یہ فرض نبھائیں ہم لوگ
جو ضروری ہے وہ ہم خود ہی مکمل کر لیں
بیٹھے بیٹھے یونہی باتیں نہ بنائیں ہم لوگ
وقت تیزی سے راستے بدل رہا ہے۔ کچھ نہ کچھ تیاریاں ہو رہی ہیں۔ سب مصروف ہیںکوزہ گر، حیلہ ساز، چارہ گر اور مقتدر۔ آئین میں ترامیم ہو رہی ہیں اس کیلئے بھی تیاریاں کرنا پڑتی ہیں۔ مسودے ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ ڈرافٹوں کا تبادلہ ہوتا ہے کہیں خواب دیکھے جاتے ہیں اور کہیں انکی تعبیر۔ کہیں تاحیات کیلئے لائحہ عمل بنتا ہے۔ کہیں 2030ء کا وژن دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے مثالیں بہت سی ہیں مصر ہے ہزاروں سال پرانا ۔ مصری اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم آمد اسلام سے پہلے سے ہی توحید کے قائل تھے۔ ملائیشیا، برما، سعودی عرب، ترکی، آذربائیجان، آپ بھی اس فہرست میں اپنے مطالعے کی بدولت اضافہ کر سکتے ہیں۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ ایک نسل پوچھتی ہے،ایک جواب دیتی ہے مگر سیکھتی دونوں ہیں۔بنیادی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری عملی ذمہ داری اپنے گھر کو مستحکم کرنا ہے۔ہم میں سے اکثر اپنے معاشرے کی آزادی اور تعمیر میں فکر مند رہتے ہیں۔ یہی سوچتے ہیں کہ معاشرہ خوشحال ہوگا تو ہمارے گھر بھی خوشحال ہو جائیں گے۔ لیکن اسی دھن میں 78 سالہ تاریخ میں پاکستان میں ہزاروں گھر برباد ہوتے دیکھے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، بلوچستان کی انقلابی پارٹیوں والے، جمہوریت کی بحالی میں ہزاروں سیاسی کارکنوں کے گھر اجڑ گئے ۔یہ پارٹیاں اب توخود بھی باج گزار ہو چکی ہیں ۔اس لیے ان پارٹیوں نے اپنے ایسے وفادار مگر معاشی بدحال کارکنوں کے گھروں کی بحالی کیلئے کوئی فنڈز قائم نہیں کیے۔ محلے دار بھی ایسے تباہ حالوں کی مدد نہیں کرتے ۔خود اس پارٹی کے عہدے دار بھی ان ہمہ وقتی کارکنوں کی بربادی کو آبادی میں نہیں ڈھالتے۔
میری بہت سے درد مند پاکستانیوں سے دل کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ سب اس بنیادی نکتے سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ یہ جو ہم بدحال پاکستانیوں کو کسی باقاعدہ سسٹم کے بجائے کسی مسیحا کا انتظار رہتا ہے یہ کلچر لاحاصل رہا ہے۔ بہت سے اچھے حکمران آئے لیکن وہ کوئی مضبوط سسٹم وراثت میں نہیں چھوڑ گئے۔ 1973 ءکا آئین منظور ہو گیا کسی حد تک متفقہ بھی۔ لیکن وہ اتنا نازک ہے کہ اسے خود اپنے آپ کو بچانا مشکل ہوتا ہے وہ واہگہ سے گوادر تک کے 25 کروڑ کی حفاظت کیسے کرے گا ۔
ہم سب کو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس وحدت ارضی یعنی پاکستان یعنی دریائے سندھ کے دونوں طرف صدیوں سے آباد بستیوں میں سارے معدنی قدرتی اور افرادی وسائل عطا کیے ہیں جو کسی بھی ریاست کے استحکام کیلئے ضروری ہیں۔ ہم گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ خدائے بزرگ و برتر نے جب ہمیں اتنے فراواں وسائل دیے، اتنی حسین سرزمین، اتنے اہم اور حساس محل وقوع والا ملک، اتنے جفا کش کروڑوں انسان، 60 فیصد جوان توانا آبادی تو ایسے ہی اچھے حکمران کیوں عطا نہیں کیے ۔ہمیں اس نکتے کا بھی معروضی تجزیہ کرنا چاہیے کہ دنیا میں ہر ملک کو ہر وسیلہ اور ہر طاقت تو عطا نہیں کی گئی ہے ۔اب کہنے کو تو ہماری تاریخ کا یہ وقت سب سے مشکل کٹھن اور پریشانیوں والا ہے لیکن یہ حقیقت بھی تو تسلیم کریں کہ سارے وسائل رکھنے والی مملکت اور یہاں کی قبل از پاکستان کی علم و فضل ثقافت کی صدیاں،حرف و دانش ،تدبر بہترین حکمرانی کے ہزارئیے تو موجود ہیں۔ معدنی طاقتیں،قدرتی وسائل اور افرادی قوت، اب ہمیں جدید ترین ٹیکنالوجی میسر آگئی ہے جس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ، کم پڑھے لکھے، چٹے ان پڑھ بھی، اسمارٹ فون ہاتھ میں لیے ہر وقت مختلف پیکیجوں کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ہماری خوشحالی، استحکام اور محفوظ مستقبل انہی الگو ردموں ،پوسٹوں اور ریلوں میں موجود ہے۔ ہماری خوشحالی ہمارے لہلہاتے کھیتوں، پہاڑوں میں چھپے خزانوں اور ریگزاروں کی تہوں میں دستیاب ہے۔ ہمیں واشنگٹن، لندن ،ریاض،دبئی،برسلز کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن ہمیں پہلے یہ طے کرنا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم خود سو فیصد نہ سہی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم پر قادر و مالک مہربان ہے۔ جو کہتا ہے انسان بغیر کوشش کے کچھ نہیں۔ ہمیں اسلام آباد کے ایوانوں ،پنڈی کے قلعوں، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد، گلگت کے گورنر ہاؤسوں، وزرائے اعلیٰ ہاؤسوں کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھنے کے بجائے اپنے آنگنوں ،اپنی اولادوں کی آنکھوں، اپنے ہمسایوں کی پیشانیوں پر نظر جمانے کی ضرورت ہے۔ اپنے آس پاس اسکولوں، مدرسوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کوچنگ سینٹروں میں جھانکنے کی طلب ہے۔ ہماری خوشحالی ہمارے آس پاس ہی ہماری راہ تک رہی ہے۔ ہم انہیں بڑے گھروں، اونچے محلوں میں تلاش کرتے ہیں ۔یہ بڑے لوگ جو ہمارے وسائل کی چابیاںاپنے ہاتھوں میں گھماتے پھرتے ہیں۔ ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں ہیں کچھ نہیں کر سکتے، سب کچھ تو ہمارے پاس ہے۔یہ جاگیردار، وڈیرے، چوہدری ،خوانین، سردار یہ از خود ہمارے رہبر نہیں بن گئے ۔ ہم نے بتدریج انہیں اپنا سب کچھ سونپ دیا ہے۔ ملک کے مالک ہم ہیں لیکن حکم یہ ہم پر چلاتے ہیں۔ ان کو عالمی سطح پر بھی ایسے ہی گماشتے مل جاتے ہیں یہ آپس میں معاہدے کرتے ہیں ۔ ایک بڑی گیم چل رہی ہے۔اقبال ہمارے مفکر ہمارے شاعر مشرق بہت پہلے کہہ گئے ہیں
بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند
اقوام متحدہ کیا کرتی ہے۔ قبریں تقسیم کرتی ہے۔حکمران منتخب ہیں یا غیر منتخب۔ کہیں غاصب ہیں، جابر ہیں۔ اب تو اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں نے یہ احتجاج بھی چھوڑ دیا ہے ۔قومیںبک رہی ہیں بہت سستی ۔دنیا میں امیروں کے سب ہیں غریبوں کا کوئی نہیں ۔
ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ زمینی حقائق کو برتری دی جائے ۔اپنے وسائل پر انحصار بڑھایا جائے۔جو کام ہم کر سکتے ہیں وہ تو کریں ۔جہاں جہاں ایسا ہو رہا ہے وہاں کوئی مداخلت بھی نہیں کر رہا ہے۔ دنیا میں ایسے ممالک موجود ہیں جہاں شہریوں نے خود ہمت کی اور اپنے مسائل حل کیے ہمارے ہاں بھی اخوت، الخدمت،دی سٹیزن فاؤنڈیشن، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی، انڈس ہسپتال، ایدھی، چھیپا اور ہر شہر میں ایسے افراد اور ادارے موجود ہیں ۔ہم ان کی طاقت بن سکتے ہیں ہر محلے میں اگر مسائل ہیں تو وسائل بھی ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے کونسلر چیئرمین ہم میں سے ہی ہیں ۔ان سے مشاورت کریں۔یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر، پروفیسرز، محقق ہمارے ہیں ۔ان کے ساتھ مل کر اپنے شہر اور اپنے وسائل کے حوالے سے معروضی اور غیر جانبدارانہ ریسرچ کریں کہ ہم 15 سال بلکہ 22 سال بعد 2047 میں پاکستان کی صدی میں کہاں ہوں گے۔ جہاں جہاں خلا ہیں، گیپ ہیں جو ہم خود پر کر سکتے ہیں انہیں پر کریں۔اس سلسلےمیں آپ کی معاونت بھی ناگزیر ہے ۔میری رہنمائی کریں۔
یہ زمیں خود تو وسائل نہیں اگلے گی کبھی
ہے جو شیریں کی طلب تیشہ اٹھائیں ہم لوگ