سندھ میں 2025ء کا آغاز گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی کی افواہوں سے ہوا۔ اِس ضمن میں کئی نام بھی گردش میں رہے۔ بعض حلقے صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن اور ناصر حسین شاہ کے وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کی ’’اطلاع‘‘ دیتے رہے، تو دوسری طرف مصطفیٰ کمال، نہال ہاشمی اور بشیر میمن کو گورنر ہاؤس میں بِٹھایا جاتا رہا، تاہم سال کے اختتام تک اِن عُہدوں پر کوئی تبدیلی رُونما نہیں ہوئی۔
اگر سیاسی ماحول کی بات کی جائے، تو سندھ حکومت اِس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اُسے کسی خاص اپوزیشن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ صوبے میں ایم کیو ایم، حزبِ اختلاف کی نشستوں پر براجمان ہے، جو وفاق میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد کا حصّہ ہے۔ گزشتہ برس کئی بار ایسے مواقع آئے، جب شہریوں کو توقّع تھی کہ اپوزیشن اِن معاملات پر حکومت کو ٹف ٹائم دے گی، مگر بات’’ ہلکی پُھلکی موسیقی‘‘ اور روایتی تنقید سے آگے نہ بڑھ پائی۔
البتہ، پیپلز پارٹی کی حکومت کو وکلاء اور قوم پرست جماعتوں کی جانب سے ایک ایسی مہم کا سامنا ضرور کرنا پڑا، جس کا شاید اُسے گمان تک نہیں تھا۔ یہ معاملہ تھا، چولستان میں نئی نہروں کا۔ جب یہ منصوبہ سامنے آیا، تو سندھ میں اِس کے خلاف سخت اور تاریخی ردّ ِعمل دیکھنے کو ملا۔ صوبے کا شاید ہی کوئی ایسا شہر، قصبہ یا گاؤں ہو، جہاں اِس منصوبے کے خلاف احتجاج نہ ہوا ہو۔
مظاہرین کا موقف تھا کہ نئی کینال سے سندھ پانی کی بوند بوند کو ترس جائے گا اور یہاں کی زراعت تباہ ہوجائے گی۔ کہا گیا کہ اِس منصوبے کی منظوری صدر آصف علی زرداری نے دی ہے، یوں پیپلز پارٹی عوامی کٹہرے میں کھڑی ہوگئی اور پنجاب، اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ، پیپلز پارٹی کے خلاف بھی نعرے بلند ہوئے۔ صوبائی حکومت شدید دباؤ میں نظر آئی کہ اُسے غالباً پہلی بار اپنے حلقوں میں اِس طرح کا احتجاج بُھگتنا پڑا، یہاں تک کہ ارکانِ اسمبلی کا عوام میں جانا بھی مشکل ہوگیا۔
صُورتِ حال کی سیاسی نزاکت کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے بلاول بھٹو کو میدان میں اُتارا، جنہوں نے عوامی غصّہ کم کرنے کے لیے سندھ کے کئی شہروں میں کینال منصوبے کے خلاف جلسے کیے۔ اِسی دَوران وکلاء نے ببرلو کے مقام پر دھرنا دے کر سندھ آنے، جانے والا ٹریفک روک دیا۔ کئی روز جاری رہنے والا یہ دھرنا، مزاحمت کا ایک استعارہ بن گیا اور پورے صوبے سے لوگ وہاں اظہارِ یک جہتی کے لیے پہنچے۔
بعدازاں، وفاق کی جانب سے کینال منصوبے پر کام روکے جانے کے اعلان پر یہ دھرنا اور احتجاجی تحریک ختم ہوئی۔ بلاشبہ، اِس تحریک کو صوبے کی بڑی تحریکات میں شمار کیا جائے گا۔ یہ معاملہ تھما، تو ننگرپارکر میں کارونجھر کی پہاڑیوں سے معدنیات نکالنے کا منصوبہ سامنے آگیا، جس کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی۔ یہ علاقہ جہاں ماحولیات کے حوالے سے اہم ہے، وہیں اِن پہاڑیوں پر ہندوؤں اور جین مت کے پیروکاروں کے مقدّس مقامات بھی ہیں، جو تاریخی اثاثوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
عدالتی احکامات پر یہ منصوبہ روک تو دیا گیا، مگر سال کے آخر میں اِس طرح کی خبریں سامنے آئیں کہ بعض طاقت وَر حلقوں کی جانب سے صوبائی حکومت کو بتا دیا گیا ہے کہ کارونجھر منصوبے پر کام کا آغاز ہر صُورت ہوگا۔ اِن مزاحمتی تحریکوں کے اثرات سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات پر بھی اثرانداز ہوئے، جس میں مزاحمتی وکلاء کے اُمیدوار، عبدالحسیب جمالی نے سخت مقابلے کے بعد پیپلز پارٹی کے سرفراز میتلو کو شکست دی۔ عبدالحسیب جمالی نے 2679، جب کہ پی پی اُمیدوار نے2604 ووٹ حاصل کیے۔
صوبے میں امن و امان کی صُورتِ حال اِس لحاظ سے تو خاصی تسلّی بخش رہی کہ سال بَھر کوئی بڑا ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا، البتہ اسٹریٹ کرائمز، بھتّا خوری اور گاڑیاں چھننے جیسے واقعات حسبِ سابق ہزاروں کی تعداد میں رپورٹ ہوئے۔ شہریوں کو کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اِن جرائم کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے کسی نوعیت کے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہوں۔ اِس بات کی گونج اُس وقت بھی سُنائی دی، جب حکومت نے کیمروں کے ذریعے اِی چالان کا سلسلہ شروع کیا۔
شہریوں نے سوشل میڈیا پر بڑی شدّ و مد سے یہ سوال اُٹھایا کہ’’ اِن کیمروں کو گاڑی میں بیٹھے افراد کی سیٹ بیلٹس تو نظر آ جاتی ہیں، لیکن گاڑیاں اور موبائل فون چھیننے والے نظر کیوں نہیں آتے۔‘‘ امن و امان کے ضمن میں کچّے کے ڈاکوؤں کا ذکر بھی ضروری ہے، جن کی جانب سے وارداتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جب مُلک میں سیلاب آیا، تو صوبائی حکومت کے بعض ارکان کی جانب سے یہ’’خوش خبری‘‘ سُنائی گئی کہ اب ڈاکو سیلاب کی وجہ سے اپنی کمین گاہوں سے باہر آنے پر مجبور ہوجائیں گے، جنہیں پکڑ لیا جائے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
تاہم، اکتوبر میں ایک بڑی پیش رفت یہ سامنے آئی کہ لگ بھگ70 ڈاکوؤں نے ایک تقریب میں خُود کو حکومت کے حوالے کیا۔ اِن ڈاکوؤں کا تعلق شکارپور، لاڑکانہ اور سکھر وغیرہ سے تھا۔ یہ الگ بات کہ سندھی پریس میں ڈاکوؤں کے سرینڈر سے متعلق مختلف کہانیاں بھی بیان کی جاتی رہیں، جو بہرحال حکومت کے حق میں نہیں تھیں۔
سیلاب کی بات چل نکلی ہے، تو بتاتے چلیں کہ گزشتہ برس سندھ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بہت حد تک محفوظ رہا، تو دوسری طرف، کئی برس قبل آنے والے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ حکومت کا’’چھت فراہمی منصوبہ‘‘ جاری رہا، جس کے تحت مزید درجنوں خاندانوں کو گھر بنا کر دئیے گئے۔ جون کی ایک صبح یہ حیرت انگزیز خبر سامنے آئی کہ ملیر میں واقع جیل سے سوا دو سو قیدی فرار ہونے میں کام یاب ہوگئے۔ اِس حوالے سے بہت سی چہ میگوئیاں بھی ہوتی رہیں۔ اگلے دنوں میں بیش تر قیدی خُود واپس آگئے، جب کہ کئی ایک کو پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر گرفتار کیا۔
گزشتہ برس کراچی سمیت صوبے کے کئی مقامات پر شہریوں کو بہتر سفری سہولتوں کی فراہمی کے لیے پیپلز بس سروس کے نیٹ ورک میں وسعت لاتے ہوئے کئی نئے روٹس متعارف کروائے گئے، جب کہ کراچی میں کچھ پُلوں کی تعمیر و مرمّت بھی کی گئی، تاہم مجموعی طور پر کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، بلکہ جو منصوبے گزشتہ برس زیرِ تعمیر تھے، وہ 2025ء میں بھی زیرِ تعمیر ہی رہے۔
اِس ضمن میں ریڈ لائن بس منصوبے اور کریم آباد انڈر پاس کا خصوصی طور پر ذکر ہوتا رہا کہ یہ دونوں منصوبے شہریوں کے لیے وبالِ جان بنے رہے۔ کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لیے حب کینال تعمیر تو کی گئی، مگر یہ اپنے افتتاح کے دن ہی سے تنقید کی زد میں آگئی۔ سوشل میڈیا انفلوئینسرز اور بلدیہ عظمیٰ میں اپوزیشن لیڈر سمیت کئی افراد نے ایسی ویڈیوز شئیر کیں، جن میں کینال ٹوٹی پھوٹی حالت میں نظر آ رہی تھی، جس پر میئر کراچی مختلف وضاحتیں دیتے رہے۔
اِسی طرح پیپلز پارٹی کو شاہ راہِ بھٹو کی پہلی ہی بارش میں ٹوٹ پُھوٹ پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں جولائی میں پیش آنے والے اُس واقعے کا ذکر بھی ضروری ہے، جس میں لیاری کے علاقے بغدادی کی ایک پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اِس واقعے نے ایک بار پھر شہر میں تعمیر ہونے والی بے ہنگم تعمیرات اور بوسیدہ عمارتوں کی جانب توجّہ مبذول کروائی۔ حکومت، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے اِس ضمن میں کچھ بھاگ دوڑ تو نظر آئی، مگر واقعہ پرانا ہونے کے ساتھ ہی سب کچھ پہلے کی طرح ہونے لگا۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ گزشتہ برس سندھ سے متعلق کون سے ایشوز ٹرینڈ کرتے رہے، تو تقریباً سب کا یہی جواب ہوگا کہ’’صوبے کے اُفق پر دو موضوعات چھائے رہے اور اِن دنوں کا تعلق ٹریفک سے تھا۔‘‘ صوبائی حکومت نے ایک اچانک فیصلے کے ذریعے شہریوں پر لازم کیا کہ وہ اب اپنی گاڑیوں پر اجرک والی نمبر پلیٹس نصب کریں گے، حالاں کہ کچھ ہی عرصہ قبل اِن پلیٹس میں تبدیلی لائی گئی تھی۔ اِس فیصلے سے صوبے کے لاکھوں افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔
پھر یہ کہ جس بھونڈے انداز میں اِس فیصلے پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کی گئی، اُس سے بھی شہریوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔ ایک طرف تو یہ معاملہ شہری سندھ اور دیہی سندھ کے ساتھ لسانی رنگ اختیار کر گیا، تو دوسری طرف پکڑ دھکڑ نے عوام میں اشتعال پیدا کیا۔
حکومت کا موقف تھا کہ نئی نمبر پلیٹ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، جس کے ذریعے گاڑیوں کا بہتر طور پر ریکارڈ رکھا جاسکے گا، جب کہ شہریوں کا مطالبہ تھا کہ کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے، جس کے تحت نئی نمبر پلیٹس کا حصول آسان ہوسکے کہ صوبے میں گورنینس کی صُورتِ حال سب کے سامنے ہے۔ قصّہ مختصر، حکومت نے بڑھتے عوامی اشتعال کے پیشِ نظر اجرک والی نمبر پلیٹس کی ڈیڈ لائن بڑھا دی، جس میں سال کے آخر تک توسیع ہوتی رہی۔
شہری ابھی کچھ سنبھلے ہی تھے کہ اُنھیں پتا چلا کہ اب صوبے میں اِی-چالان ہوا کریں گے، جس کے لیے کئی شاہ راہوں پر کیمرے نصب کیے گئے تھے۔ اِس نئے چالان سسٹم کا آغاز کراچی سے ہوا، جسے بعدازاں صوبے کے دیگر شہروں تک وسیع کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ اِس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ کراچی سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوچُکا ہے اور بقول شخصے، اِسے ’’تیزابی غسل‘‘ دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم، اِس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چُرائی جاسکتیں کہ نظام میں بہتری کے لیے اچھی حکمتِ عملی کے ساتھ ہی آگے بڑھنا ہوگا۔
بلاشبہ، دنیا کے جدید شہروں میں ای-چالان نظام بہت کام یابی سے کام کر رہا ہے، مگر وہاں اِسے کام یاب بنانے کے لیے اچھا انفرا اسٹرکچر، شفّافیت اور گڈ گورنینس کا بھی سہارا لیا گیا، جو سندھ میں ناپید ہیں۔ یہاں ایک طرف ای-چالان نظام متعارف کروایا گیا، تو دوسری طرف، شہر کی معروف شاہ راہیں بھی گاؤں، دیہات کی سڑکوں کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ ایک سنجیدہ اعتراض یہ سامنے آیا کہ سڑکوں پر گڑھوں، دھول مٹّی، تجاوزات، کُھلے مین ہولز اور گندے پانی کے جوہڑوں کی موجودگی میں کس طرح ٹریفک قوانین کی پاس داری کرتے ہوئے گاڑی چلائی جاسکتی ہے؟
نیز، جرمانے کی رقوم پر بھی اعتراضات اُٹھائے گئے، یہاں تک کہ جو شہری ای-چالان کے حامی تھے، اُن کی جانب سے بھی موجودہ صُورتِ حال میں بھاری جرمانے ناانصافی قرار پائے۔ گویا، ایک اچھا فیصلہ، ناقص منصوبہ بندی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ٹریفک ہی سے متعلق دوسرا ٹاپ ٹرینڈ، ٹینکر حادثات تھے۔
کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ صوبائی حکومت 2024ء میں بھی ٹینکر حادثات کے سبب عوامی غیض و غضب کا نشانہ بنی رہی اور 2025ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، مگر وہ اِس خونی کھیل کی روک تھام میں بُری طرح ناکام رہی، بلکہ اِس ضمن میں کوئی خاص سنجیدگی تک نظر نہیں آئی۔ گزشتہ برس بھی بدمست ٹینکرز کی زد میں آکر درجنوں افراد کا خون سڑکوں پر بہتا رہا۔
حادثات کے بعد کئی علاقوں میں گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں، جب کہ ٹینکرز کی فٹننس، ڈرائیورز کی ذہنی حالت، عُمر، نشہ اور ڈرائیونگ لائسنس جیسے معاملات بھی رپورٹ ہوتے رہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمّے داریاں پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ اِسی سلسلے کی ایک کڑی کُھلے مین ہولز بھی ہیں، جو شہریوں کے لیے موت کے کنویں ثابت ہو رہے ہیں۔ سالِ رفتہ کئی ایسے اندوہ ناک واقعات ہوئے، جن میں بچّے اِن کُھلے مین ہولز میں گر کر جان کی بازی ہار گئے۔
ایسا ہی ایک واقعہ سال کے آخری دنوں میں کراچی کے ایک شاپنگ سینٹر کے باہر پیش آیا، جب بچّہ، والدین کی آنکھوں کے سامنے کُھلے مین ہول میں جاگرا۔ ستم ظریفی یہ بھی ہوئی کہ اِس واقعے پر میئر کراچی ذمّے داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملبہ ٹاؤن اور یوسی پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وہ متاثرہ خاندان سے معافی مانگنے کے لیے اُن کے گھر گئے۔
معافی طلب کرنا ایک اچھی بات ہے، مگر اصل کام یہی ہے کہ تمام بلدیاتی ادارے، خواہ وہ میئر کا آفس ہو یا ٹاؤن اور یوسیز، مل کر شہریوں کو کم از کم اِن کُھلے مین ہولز، ٹوٹی پھوٹی، دھول مٹّی سے اٹی سڑکوں، کچرے کے ڈھیروں اور جابجا کھڑے گٹر کے پانی سے نجات دلائیں تاکہ کراچی اور صوبے کے دیگر شہروں کے باسیوں کے بنیادی بلدیاتی مسائل تو حل ہوسکیں۔
وفاقی حکومتی پالیسی کے تحت سندھ حکومت نے صوبے سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے، جن سے کراچی اور دیگر علاقوں سے ہزاروں افغان خاندانوں کی روانگی ممکن ہوسکی۔ اِس ضمن میں ایک دل چسپ صُورتِ حال اُس وقت سامنے آئی، جب ناردرن بائی پاس پر قائم افغان مہاجر کیمپ سے تین ہزار خاندانوں کا انخلا شروع ہوا، تو بعض قوم پرست رہنماؤں اور وکلاء نے سوشل میڈیا مہم کے ذریعے صوبے بھر سے سندھی زبان بولنے والوں کو کیمپ پہنچنے کی دعوت دی تاکہ وہ خالی کردہ مکانات میں آباد ہوسکیں۔
اِس مہم کے نتیجے میں صوبے کے دُوردراز علاقوں سے ہزاروں افراد افغان کیمپ پہنچ گئے، جس کے سبب کئی ناخوش گوار واقعات بھی رُونما ہوئے۔ بعدازاں، حکومتِ سندھ نے ایک بڑے آپریشن کے ذریعے افغانیوں کی جانب سے خالی کردہ مکانات مسمار کردئیے۔ یہ معاملہ بہت دنوں تک سوشل میڈیا پر چھایا رہا۔
سندھ میں18برس بعد نیشنل گیمز کا خُوب صورت ایونٹ ہوا، جس کی افتتاحی تقریب میں بلاول بھٹو بھی موجود تھے۔ سال بَھر ادبی تقاریب کا سلسلہ جاری رہا۔ اِس ضمن میں آرٹس کاؤنسل آف پاکستان، کراچی کے39 روزہ عالمی ثقافتی میلے اور عالمی اُردو کانفرنس کا بہت چرچا رہا۔ ایکسپو سینٹر میں منعقدہ دفاعی نمائش اور کتاب میلے میں عام شہریوں کی دل چسپی دیدنی رہی، تو کلچر ڈیز بھی منائے جاتے رہے۔
سکھر اور حیدرآباد میں بھی کئی ادبی و ثقافتی تقاریب ہوئیں، جن میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سندھ حکومت نے اِس طرح کی تقاریب کی بھرپور سرپرستی کی۔ وزیرِ اعلیٰ اور وزراء خُود بھی کئی تقاریب میں موجود رہے۔ قصّہ مختصر، مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو سندھ میں جمود کی کیفیت ہی طاری رہی کہ چند واقعات کے سِوا، حالات گزشتہ برسوں کا تسلسل معلوم ہوئے۔ وہی مسائل، عوامی دُکھڑے اور ویسی ہی حکومتی بے نیازی۔