دعا، اُمید، روشنی، خوشی، مسکراہٹ اور محبت کے استعارے، ہمارے وجود کا حصہ ہمارے مستقبل کا مان ہمارے بچے جو ہمیں جینا سکھاتے ہیں۔ وہ خود کیسے جیتے ہیں، یہ اک سوال ہے۔ کیا وہ ذہنی، جسمانی، سماجی اور روحانی طور پر خوش اور مطمئن اور صحت مند ہیں۔
پاکستان12نومبر1990ء میں CRC Convention on the Rights of Child بچوں کے حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کا حصہ بنا، جس میں بچوں کے حقوق کے 40سے زیادہ آرٹیکلز جس میں12بچوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہیں،ایک نظر میں ملاحظہ کریں۔ 1۔ زندگی بقاء اور نشوونما، 2۔ شناخت، نام اور شہرت، 3۔ خاندان یا مناسب سرپرستی، 4۔ تعلیم، 5۔ صحت، پانی، خوراک، صفائی اور محفوظ ماحول، 6۔ تشدد، زیادتی اور مشقت سے تحفظ، .7 آزادی رائے، 8۔ آزادی خیال، مذہب اور عقیدے، 9۔ معلومات تک رسائی، 10۔ کھیل، تفریح اور آرام، 11۔ خصوصی ضروریات والے بچوں کے حقوق، 12۔ استحصال اور خطرات سے بچائو جیسے نشہ، اسمگلنگ، جبری شادی اور کم عمری کی مشقت۔
ان حقوق کو دیکھتے ہوئے زرا سوچیں کہ کیا ہمارے بچوں کو یہ حقوق ملے یا ان میں سے کچھ ملے؟ پھر سوچیں پیارے وطن کے بچوں نے2025ء کیسا گزارا؟ اچانک میرے ذہن میں یہ خیال در آیا کہ کیوں نہ اس سوال کا جواب بچوں سے ہی معلوم کیا جائے۔
یہ سوچ ہی تھا کہ آگے نسبتاً تاریک راستے پر جاتا ہوا دس، بارہ سال کا بچہ نظر آیا، بکھرے بال، میلے کپڑے اور اور بوسیدہ جوتے، میں نے اسے روکا اور پوچھا،بیٹے 2025ء کا سال آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے کیسا تھا؟ اس نے ہنس کر مجھے دیکھا اورکہا، کیا کروگی معلوم کر کے میڈم؟ اُس کا لہجہ کسیلا تھا، پھر بھی میں نے کہا، معلوم کرنا چاہتی ہوں، شاید مسائل اور مشکلات میں کچھ کمی آجائے۔
یہ کہتے ہوئے میری آواز، میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی ، اس نے چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد جواب دیا، یہ سال میں نے جھیلا ہے ، تین سو پینسٹھ دنوں کا سال، چاہو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پوچھ لو، یہ کہہ کروہ ہنسا اور بولا، ہم اتنے چھوٹے ہیں کہ ہماری آواز بڑے لوگوں تک نہیں جاتی، ہمارے ہاتھ اتنے چھوٹے ہیں کہ محلات کے دروازے تک نہیں پہنچتے، جس پر دستک دی جائے۔ پڑھتے ہو؟ جواب ملا، نہیں، ہمارے علاقے میں کوئی بچہ اسکول نہیں جاتا، سب کام کرتے ہیں۔ میں بھی ایک ورکشاپ پر کام کرتا ہوں۔
یہ سن کر خیا ل آیا کہ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق تقریباً دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ غربت، کتابوں کی عدم دستیابی اساتذہ کے تشدد اور، رویوں نے بچوں کو پڑھائی سے منتنفر کردیا ہے۔ چائلڈ لیبر میں قریباً 1 کروڑ، بیس لاکھ سے زیادہ بچے ہیں، صرف سندھ میں 13لاکھ بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔
یہ بچے بچپن بیچ کر روٹی خریدتے ہیں۔ ان میں50.4فیصد بچے شدید حالات، سخت موسم، طویل اوقات اور غیر محفوظ حالات میں کام کررہے ہیں، جہاں ان کا جسمانی اور جنسی استحصال بھی ہوتا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے بچے شدید جسمانی تشدد کا سامنا کرتے ہیں اور اکثر قتل بھی کردیے جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں 14سالہ گھریلو ملازمہ پر شدید جسمانی اور جنسی تشدد کیا گیا۔ لیکن کسی کرتا دھرتا کو سزا نہیں ملی۔
اس بچے سے نام پوچھا تو بولا، نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بچے، بچے ہوتے ہیں، آئو میرے ساتھ، اور اپنی آنکھوں سے دیکھو میرے دیگر ساتھی بچوں پر کیا بیت رہی ہے۔ اُس بچے کے ساتھ نیم تاریک راستے پر آگے بڑھی تو تعفن زدہ کچرا کنڈی نظر آئی، جہاں کئی نوزائیدہ بچوں کی لاشیں تھیں جنہیں جانور بھنبھوڑ رہے تھے، ان بچوں کی بے حرمتی کی وجہ غربت ہو یا گناہ، یہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ 2025ء کی پہلی سہ ماہی تک62بچے کچرا کنڈیوں سے ملے۔
صرف کراچی میں جنوری کے مہینے میں6نوزائیدہ بچوں کی لاشیں کچرا کنڈیوں سے ملیں، اس کے علاوہ گمبٹ، جامشورو، ٹنڈو یوسف، نوکوٹ، ٹنڈو محمد خان کی کچرا کنڈیوں یا ندی نالوں کے قریب سے ان کی لاشیں ملیں، دوسری طرف سیالکوٹ میں صرف فروری کے مہینے میں5نومولود بچیوں کی لاشیں کچرے کے ڈھیر سے ملیں، لیکن خیبر پختونخوا کی ایک بڑی خبر ہے کہ نوشہرہ میں زندہ دفن کیے جانے کے بعد 1122کی مدد سے زندہ بچ جانے والی بچی کو پاک آرمی کے آفیسر نے گود لے لیا۔
آگے بڑھے تو کچھ جرگے جیسا منظر تھا، بہت سارے بچے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں زمین اور چار پائیوں پر بیٹھے تھے، یہ دیکھ کر دم گھٹنے لگا، ایک طرف نومولود بچوں کی لاشیں تھیں، دوسری طرف غذائی قلت اور خون کی کمی کا شکار ماؤں کے بچے تھے، جنہوں نے دنیا کی روشنی نہیں دیکھی۔
پاکستان نومولود بچوں کی اموات کے لحاظ سے دنیا میں سب سے خطرناک ملک ہے۔ یہاں قریباً665بچے روزانہ مردہ پیدا ہوتے ہیں،700بچے روزانہ ایک ماہ کی عمر تک فوت ہوجاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق58فیصد بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔ 5سال سے کم46فیصد بچوں کا وزن کم ہے۔ 18فیصد بچوں کی جسامت اور قد جھوٹا ہے۔
سال میں80000بچے نمونیہ سے، 53000سے زائد ڈائریا سے مر جاتے ہیں۔ آگے بڑھے تو ایک جانب معصوم سہمے ہوئے بچے جن کی آنکھوں میں خوف اور آنسو تھے۔ اتنے خوف زدہ کیوں ہو؟ ہمارے پوچھنے پرایک بچے نے ڈرتے ڈرتےکہا کہ ،ہمیں اغوا کرکےلایا گیا ہے،ہم یہاں رات سے بیٹھے ہیں، پتا نہیں وہ کہاں ہیں جو ہم سب کو ایک ٹرک میں لائے تھے۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق 2025ء میں 20505بچے اغوا ہوئے، جن میں صرف کراچی سے595بچے اغوا یا گم ہوئے۔ گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے روشنی ہیلپ لائن1138قابل تحسین کردار ادا کررہی ہے ان بچوں کو والدین سے ملاکر ان کی زندگیوں کو دوبارہ روشن کررہی ہے۔ 2025ء میں بچوں کی اسمگلنگ کے کیسز کی تعداد بھی بڑھی، قریباً588کیس درج ہوئے۔ آگے بڑھ کر میں ٹھٹھک گئی،ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ برا ہوا ہے۔ ہمارا قیاس صحیح تھا۔
آنکھوں میں حیرت، چہرے پر خوف، نگاہیں نیچی کیے بیٹھے تھے۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں جنسی درندوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا،زیادہ تر کو تو قتل کردیا، جو زندہ رہ گئے، وہ زندہ لاشیں ہیں، جو ہمیں نظر آرہی تھیں۔ یہ کیسا وقت آیا ہے، کیا کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ابھی تو ان بچوں نے زندگی کو سمجھنا تھا۔ پھولوں کی طرح کھلنا اور تتلیوں کے پیچھے بھاگنا تھا۔ ماں، باپ سے معصوم سوال کرنےتھے، مگر ایک آہ اور ایک آنسو…
ایک رپورٹ کے مطابق2025ء جنوری تا جون 950بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل بھی کردیا گیا۔ مجرم زیادہ تر قریبی جاننے والے یا رشتہ دارتھے۔ اس سال قریباً12بچے روزانہ جنسی زیادتی کا شکار ہوئے۔ 400سے زیادہ کیس صرف سندھ میں درج ہوئے۔
سانگھڑ میں11سالہ بچی سے زیادتی، لاڑکانہ میں12سالہ ذہنی مریضہ بچی کے ساتھ گینگ ریپ، جیکب آباد میں گندم کی فصل میں12سالہ لڑکا تین درندوں کا شکار، دادو میں6سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی، کوٹ ڈیجی میں13سالہ طالب علم سے5 وحشیوں کی زیادتی، میہڑ میں زیارت کے لیے جانے والی8سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، تلہ گنگ میں مدرسے کے طالب علم سے قاری کی زیادتی، پھول نگر میں4سالہ بچہ کا زیادتی کے بعد قتل، کراچی میں7سالہ بچی کے ساتھ اسکول کے ملازم کی زیادتی، نارتھ کراچی میں7سالہ بچہ زیادتی کے بعد قتل، حیدرآباد میں 4سالہ بچی سے زیادتی، ایبٹ آباد میں 13سالہ ملازمہ زیادتی کے بعد قتل، سجاول میں14سالہ ذہنی معذور بچی سے زیادتی، سول اسپتال کراچی میں آپریشن تھیٹر کی لفٹ میں لفٹ آپریٹر کی10سالہ بچے کے ساتھ زیادتی، ٹنڈو محمد خان میں8سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، میرپور میں7سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت دم گھٹنے سے ہوئی اور بچی کا معدہ خالی تھا۔ ایک بھوکی بچی کسی کی جنسی بھوک کی نذر ہوگئی۔
کراچی میں سگی بھانجی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا ماموں پکڑا گیا۔ حیدرآباد میں13سالہ بھتیجے سے چچا کی زیادتی اور اس سے بھی زیادہ دل چیر دینے والی خبر جھیک اڈا میں سگے باپ نے بیوی سے طلاق کے بعد12سالہ سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، اسی باپ نے کسی سے ادھار لیا ہوا تھا، وہ ادا نہ کرسکا تو اس شخص کو گھر بلاکر اپنی بیٹی سے زیادتی کروائی۔ راجن پور میں چچا نے14سالہ بھتیجی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس کے حاملہ ہوجانے پر باپ نے بچی کو قتل کردیا۔ راولپنڈی میں7سالہ بچی بیماری سے فوت ہوگئی۔
تدفین کے دوسرے دن باپ جب بچی کی قبر پر گیاتو بچی کا کفن باہر پڑا تھا اور اسے قبر میں کسی نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ ،نہ زمین پھٹی، نہ آسمان گرا، ادھر کراچی میں شربت کی ریڑھی لگانے والا سات سے تیرہ سال کی بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، گرفتار ہوا تو اس کے موبائل سے100سے زیادہ بچیوں کی ویڈیوز بھی ملیں جو اس نے اور مالک مکان نے بنائی تھیں۔ اگر آج تک کسی کو عبرتناک سزا ملی ہوتی تو کیا یہ سب ممکن تھا۔ جب ریاست بے خبر ہو تو والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ کاش والدین بچوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ان کے تحفظ پر توجہ دیں۔
یہ مناظر دیکھ کر میری آنکھیں دھندلا گئی، حلق نمکین ہوگیا،لیکن ابھی تو بہت کچھ دیکھنا ہے۔9سالہ خیرپور ناتھن شاہ کی بچی کواس کے چچا نے سود کے عوض50ہزار میں بیچ دیا تھا، جو اپنوں سے دور ڈری سہمی بیٹھی تھی، پتا چلا اب جس کی ملکیت تھی وہ اسے لے کر جا رہا تھا۔ اور میں سوچ رہی تھی،رشتوں کی حرمت اور خوب صورتی کیا ہوتی ہے، آپ بھی سوچیں۔ بچےجوماں باپ کے دل کا ٹکڑا ہوتے ہیں، کیسے اپنے بچوں کو خود سے جدا کر سکتے ہیں۔
ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ کراچی ڈیفنس میں ہوا، جہاں طلاق کے بعد ماں نے اپنے دو بچوں کو ذبح کردیا۔ کراچی ہی میں گھریلو جھگڑوں کے بعد باپ نے اپنے دو بچوں کے ساتھ سمندر میں کود کر جان دے دی، پنجاب میں باپ نے اپنی دو بچیوں کو گلا کاٹ کر قتل کردیا۔
یہاں ان بچوں کی لاشیں بھی نظر آرہی ہیں جو کھلے مین ہولز میں گر کر جاں بحق ہوگئے، جن میں3سالہ ابراہیم بھی شامل ہے، جس کی لاش کچرا چننے والے بچے کو ملی۔ اس8ماہ کی بچی کی لاش بھی ملی، جسے اغوا کے بعد سیوریج لائن میں پھینک دیا گیا۔
ہمارے بچوں کے لئے 2025 بہت ڈراوناثابت ہوا۔وہ دو پائوں والے یا چار پائوں والے کتوں کا نشانہ بھی بنے ، ادارے کتا مار مہم نہیں چلا سکتے، کیونکہ جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں باہر نکل آتی ہیں، ہمارے پھول جیسے بچے چاہے چبالیے جائیں اور پھر کتے کے کاٹے کا انجکشن بھی کم کم ہی دستیاب تھے۔ میرا ساتھی بچہ مسکراکر بولا، میڈم ادھر تو دیکھو، چھوٹی چھوٹی بچیاں چمکدار رنگوں کے کپڑے اور دوپٹے اوڑھے بیٹھی ہیں، چند نے تو لال لپ اسٹک بھی لگائی ہے۔
میں نے پوچھا، بیٹے آپ اتنا تیار کیوں ہو؟ کہنے لگیں، ہماری شادی ہے۔اُف خدایا۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں18فیصد سے زیادہ لڑکیوں کی کم عمری میں شادی ہوجاتی ہے۔
انہیں ان کے بچپن سے چھین کر ایسی زندگی میں دھکیل دیا جاتا ہے جو انہوں نے نہیں چُنی۔ اس تعداد میں مون سون کی دلہنیں شامل نہیں جنہیں خراب موسمی حالات اور آفات کی وجہ سے والدین پیسوں کے عوض کسی بھی عمر کے شخص سے کمسن بچیوں کی شادی کردی جاتی ہے، یکب آباد میں12سالہ لڑکی کی30سالہ شخص سے شادی، خیرپور میں14سالہ بچی کی40سالہ شخص سے شادی، خانپور میں12سالہ بچی کی60سالہ سے شادی، کراچی میں15سالہ لڑکی کی50سالہ سے شادی ہوئی تودولہا کو گرفتار کر لیا لیکن شادی تو ہو گئی۔
سندھ میں18سال سے کم عمر بچوں کی شادی قانوناً جرم تھی مگر پھر بھی اس سال شادیاں ہوئیں۔ صدشکر16مئی2025ء کو پاکستان میں تاریخ رقم ہوئی ہے۔ چائلڈ ’’میرج ریسٹرینٹ‘‘ بل قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہوا اور صدر مملکت نے بل پر دستخط کردیے۔
2025 میں بچے کس دکھ،کرب سےگزرے، اس کا اندازہ تو سب کو ہو گیا۔ایک طرف رونگٹے کھڑی کر دینے والی صورت حال تو دوسری طرف موبائل کی دنیا میں مگن، ارد گرد سے بے نیاز بے شمار بچے جو کسی سے بات کرتےنہ کسی کی طرف دیکھتے، بس اسکرین پر نظریں جمائے رہتے ہیں۔
اس سال بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی بہت زیادہ بڑھی، خاص بات یہ کہ انٹر نیٹ پر بچوں کے لیے نقصان دہ مواد تک رسائی پر والدین اور ارباب اختیارنے کچھ نہیں کیا۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فون اور اسکرین کے زیادہ استعمال سے بچوں میں جنون اور دیوانگی کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔
سوشل میڈیا اور گیمز کے زیادہ استعمال سے بچوں میں نیند کی کمی کا امکان بڑھ جاتا، ڈیپریشن کی علامات اور ذہنی صحت کے مسائل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں توازن بہت ضروری ہے۔ یورپی یونین، آسٹریلیا اور ملائیشیا میں16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر قانون سازی کی جارہی ہے، جس کا اطلاق 2026ء سے ہوگا، جبکہ ہمارے ملک میں والدین، اساتذہ اور ارباب اختیار کسی کو بھی فکر نہیں ہے، حالانکہ ہمارے بچے اس سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔ اُن میں ڈپریشن اور خودکشی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ 2025ء میں تقریبا45بچوں نے خودکشی کی، جس پر صرف افسوس نہیں عملی اقدام کی ضرورت ہے۔
ایک سوال ذہن میں یہ بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا،ہمارے بچے مرضی سے ہنس کھیل سکتے ہیں، مرضی سے رو سکتے ہیں، میں سوچ رہی ہوں، آپ بھی سوچیں۔ ادھر بھی نظر ڈالیں، اس سال بچے آن لائن استحصال کا بھی شکار ہوئے۔ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے آن لائن استحصال میں ہم دنیا میں تیسرے نمبر پر آچکے ہیں۔
چائلڈ پورونو گرافی کی روک تھام کے امریکی ادارے کی شکایت پر حیدرآباد کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن NCCIAنے کارروائی کرکے بچوں کے قابل اعتراض مواد پر مشتمل ویڈیوز، موبائل فون اور دیگر اشیاء برآمد کیس، جسے ٹنڈو آدم کے گوٹھ بخشو نظامانی سے آپریٹ کیا جارہا تھا۔
ملک میں بچے گھر، اسکول، مدرسہ، اسپتال، بازار، تفریح گاہ کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ کراچی میں کمسن طالبہ سے نازیبا حرکات کرنے پر وین ڈرائیور گرفتار ہوا اور میرپور میں پرائمری اسکول کی طالبہ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنے پر استاد جسے باپ کا درجہ دیا جاتا ہے کو قانون کا سامنا ہے۔ قانون کی بات کریں تو فوراً پولیس ذہن میں آتی ہے۔ محراب پور میں پولیس نے ڈھائی سالہ بچہ کو زرعی اراضی کے مقدمے میں ملزم نامزد کردیا ہے۔ ادھر آٹھ سالہ صہیب کو تربت بلوچستان میں دہشت گردی جیسے سنگین مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
آگے بڑھیں، اُن بچوں کو بھی دیکھیں، جو خود سےکھڑے نہیں ہوسکتے، چل نہیں سکتے، جنہیں ان کے والدین نے اس حات تک پہنچایا ہے۔ یہ پولیو زد بچے ہیں۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود 2025ء میں بھی ہم پولیو کو شکست نہیں دے سکے۔
اس سال کے نومبر تک پولیو کے 30کیس رپورٹ ہوئے،یوں پولیو فری پاکستان کا خواب اس سال بھی پورا نہ ہوسکا۔ اس میں والدین کا حفاظتی ٹیکوں کے خلاف مزاحمتی رویہ بہت بڑی وجہ ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہEPIپروگرام کے تحت بچوں کو لگائے جانے والے حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے جو5مہلک بیماریاں جو قریباً ختم ہوگئی تھیں، وہ اب دوبارہ سر اٹھا رہی ہیں، جن میں خسرہ اور روبیلا سرفہرست ہیں۔
میرا حوصلہ جواب دے گیا تھا، اب مجھ میں مزید ہمت نہیں ان روتے، سسکتے بچوں کو دیکھنے کی، اسی اثنا میں ساتھی بچہ بولا، میڈم مجھے دیر ہوگئی ہے، ورکشاپ جانا ہے، ورنہ استاد بہت مارے گا۔ ارے ہاں تمہیں جانا چاہیے۔ سنو تم پڑھنا چاہتے ہو، میرے سوال پر وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، پھر ہمارے گھر میں روٹی نہیں پکے گی، شام میں کوئی اسکول نہیں ہے، جہاں ہم مزدور بچے پڑھ سکیں، میں نے ارد گرد کھڑے بچوں پرنظر ڈالی، ان کے مسکراہٹ سے عاری چہرے مجھ سے سول کررہے تھے، کیا آنے والے سالوں میں بھی ہمارا استحصال ہوگا، ہم پر تشدد ہوگا، ہمیں علم کی روشنی سے دور رکھا جائے گا، ہم سے ذہنی، جسمانی، روحانی اور جنسی زیادتی ہوتی رہے گی، ہم ناتواں غذا کی قلت کے ساتھ بیماریوں میں مبتلا ہوتے رہیں گے۔ وہ کون سی دنیا ہے، جہاں بچوں کے ساتھ نرمی، محبت اور شفقت والا سلوک ہوتا ہے۔
2025ء میں آئینی ترامیم کا بہت ذکر ہوتا رہا۔ کاش کوئی ایسی ترمیم بھی ہوجائے کہ پاکستان کا ہربچہ غذا کی کمی کا شکار نہ ہوگا، تعلیم سے بہرہ مند ہوگا، اس کے لیے آلودگی سے پاک صحت مند ماحول ہوگا، بچوں کے ساتھ ظلم زیادتی اور استحصال کرنے والے کو بدترین سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ہمارے بچے آکسیجن کی مانند ہیں لیکن جب معاشرہ آکسیجن سے بے نیاز ہوجائے گا تو زندہ کیسے رہے گا۔ بچوں کو صرف ہنسنا، زندہ رہنا اور آگے بڑھنا ہے، اس کے یے ہمیں بچوں کے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔
حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین اور ہر شہری کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی، بچوں کے لیے آلودگی سے پاک ماحول، صاف پانی اور صحت مند غذا کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ انہیں تاریکیوں سے بچانے کے لیے علم کی روشنی دینا ہوگی، تاکہ2026ء میں میرے ملک کے بچوں کی آنکھوں میں جگنو چمکیں اور لبوں پر مسکراہٹ ہو۔