وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعتراف کیا ہے کہ لاہور کے دورے کے دوران ان کی جانب سے غلط زبان کا استعمال ہوا لیکن وہ عمل کا ردِ عمل تھا۔ انہوں نے اپنے دورۂ لاہور کے دوران غلط زبان کے استعمال پر معذرت کرلی ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے انہیں کچھ نہیں کہا۔ بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حوالے کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفادات کے مطابق پالیسی بنانی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملاقات کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا باہر نکلنا جائز ہے، وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں، ان کے کراچی جانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے متحرک ہوں۔