• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2025 ءمیں ملکی معیشت کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کے باعث ملکی معیشت میں بتدریج بہتری آرہی ہے جبکہ سفارتی سطح پر پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں شاندار سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جسکے نتیجے میں پاکستان نے امریکہ سے بہتر رعایتی ٹیرف حاصل کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی ’’ایشیائی ترقیاتی آئوٹ لک رپورٹ‘‘ کے مطابق پاکستان کی معیشت درمیانی مدت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں آنے والے سیلاب ترقی کے عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں جس سے انفراسٹرکچر اور زراعت کے شعبے متاثر ہوں گے جو خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔ 2025 ءمیں گوکہ پاکستان نمایاں ترقی حاصل نہ کرسکا تاہم پاکستان کی معیشت بحران سے نکلنے میں کامیاب رہی جس سے جزوی معاشی استحکام آیا۔ 2025 ءمیں GDP گروتھ 2.6 فیصد سے 3 فیصد رہی حالانکہ یہ شرح آبادی میں اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔ 2026ءمیں پاکستان کی GDP گروتھ 3 فیصد رہنے کی توقع ہے جس کیلئے ہمیں بلند گروتھ ماڈل کی طرف جانا ہوگا جس میں GDP گروتھ 5 سے 6 فیصد ہو جو ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے، جس کیلئے توانائی، معدنیات (کان کنی)، آئی ٹی کے طویل المدتی منصوبوں میں امریکی اور سعودی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جارہا ہے۔ گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ میں جولائی سے دسمبر 2024ء میں 9.6فیصد اضافہ ہوا تھا لیکن جولائی سے نومبر 2025ءمیں سالانہ بنیاد پر صرف 2.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نومبر 2025ءمیں ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ میں کمی دیکھنے میں آئی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیکسٹائل کی گروتھ مستحکم نہیں۔ بجلی، گیس اور بینکوں کے شرح سود کے بلند نرخوں کے باعث ٹیکسٹائل صنعت مشکلات کا شکار ہے اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث فیصل آباد کی متعدد پاور لومز فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کے باعث 2025 ءمیں مہنگائی میں واضح کمی آئی۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں کمی کرکے 11 سے 10.5 فیصد کردیا لیکن بزنس مینوں کا مطالبہ ہے کہ شرح سود سنگل ڈیجٹ کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ سالوں میں مہنگائی کا دبائو برقرار رہیگا اور 2026ءمیں افراط زر یعنی مہنگائی 6فیصدتک پہنچنے کا امکان ہے جسکی بنیادی وجہ بجلی، گیس کے ٹیرف اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے جو اس سال 38 ارب ڈالر سے 39ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جس سے کرنٹ اکائونٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور کئی سال بعد پاکستان نے سرپلس کرنٹ اکائونٹ اور سرپلس پرائمری بجٹ حاصل کیا ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں نے اب تک روشن ڈیجیٹل اکائونٹ (RDA) میں مجموعی 11.4 ارب ڈالر بھیجے ہیں جس میں 7.3ارب ڈالر روپے میں تبدیل کئے گئے، 1.9ارب ڈالر بیرون ملک واپس بھیج دیئے گئے اور 2.18ارب ڈالر ابھی RDA اکائونٹس میں موجود ہیں اور بیرون ملک منتقل کئے جاسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے 7ارب ڈالر کے توسیعی فنڈز پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط اور 200 ملین ڈالر کی کلائمنٹ فنانسنگ موصول ہوگئی ہیں لیکن آئی ایم ایف نے ٹیکسوں اور توانائی کے شعبے میں ریفارمز پر زور دیا ہے۔ بجٹ خسارہ بدستور ایک مسئلہ رہا ہے۔ حکومتی قرضوں میں اضافے، محدود ٹیکس نیٹ اور اضافی سرکاری اخراجات کے باعث حکومت پر مالی دبائو برقرار ہے۔2026ءمیں بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج رہیں گی۔ اسکے علاوہ ایکسپورٹ اور صنعتی پیداوار میں کمی، گردشی قرضے، خسارے میں چلنے والے حکومتی ادارے (SOEs) اور ڈسکوز، غربت اور بیروزگاری میں اضافہ، موسمیاتی خطرات، تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور سرحدوں پر کشیدگی پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ 2025 میں پی آئی اے کی نجکاری ایک خوش آئند امر ہے جس سے ادارے کے بھاری نقصانات کو منافع اور بہتر کارکردگی میں تبدیل کیا جاسکے گا۔ گزشتہ سال پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور نئے سال 2026ءمیں 2جنوری کو انڈیکس ریکارڈ 179000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا۔ اقتصادی اصلاحات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اور بینکنگ، سیمنٹ اور توانائی کے شعبوں میں منافع دیکھا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 ارب ڈالر ہونے سے پاکستان کے مجموعی ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو 3 مہینے کے امپورٹ بل کیلئے کافی ہیں۔ آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی ایکسپورٹ 4 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے اور آئندہ 5سال میں اسکے دگنا ہونے کا امکان ہے۔ 2024-25ءمیں ایف بی آر کا نظرثانی ریونیو وصولی ہدف 11900ارب روپے تھا جبکہ 2025-26ءمیں ایف بی آر کا ریونیو وصولی ہدف 14446ارب روپے رکھا گیا ہے مگر پہلے 6ماہ (جولائی سے دسمبر) میں ایف بی آر کو ریونیو وصولی ہدف میں 335ارب روپے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ 2025ءمیں آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس پر اپنی GCDA رپورٹ جاری کی جس میں پاکستان میں بڑھتی کرپشن اور گورننس کیلئے 92اصلاحات پر عملدرآمد پر زور دیا گیا ہے۔ اِسی طرح کی رپورٹ یورپی یونین GSP پلس جائزہ کمیشن اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کے بارے میں جاری کی ہیں۔ میں نے بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کی ذیلی کمیٹی میں شوگر اسکینڈل پر کرپشن پر رپورٹ جاری کی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ کرپشن اور گورننس کے مسائل کو سنجیدگی سے لے جو ملکی معیشت کیلئے ایک ناسور بن گئے ہیں اور انکی سرجری جلد از جلد ضروری ہے۔

تازہ ترین