اس سے پہلے کبھی ہم نے ہما کو اسقدر بپھرا ہوا نہیں دیکھا تھا۔ مستند ذرائع سے معلوم کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلےمیں نے ہتھیار ڈالدیئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ ہُما پرندہ مذکر ہے یا مؤنث ہے۔ آپ کے لئے میری صلاح ہے کہ آپ اپنا قیمتی وقت ضائع مت کریں۔ اس بات پر جان جوکھوں میں مت ڈالیں کہ ہُما مذکر ہے یا مؤنث ہے آئین میں بھی اس بات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ ہُما پرندہ مذکر ہے یا مؤنث ہے۔
بہت بڑی بپتا میں تھا ہُما بیچارہ۔ اس کا دُکھ دیکھا نہیں جاتا تھا۔ ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہما دکھی تھا یا دکھپاتی۔ آئیں میں ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہُما مذکر ہے یا مؤنث ہے۔ مگر یہ طے تھا۔ہُما غصے سے بے قابو ہوتا جارہا تھا۔ ہُما پرندہ تھا۔ اس کی باہیں نہیں تھیں۔ باہیں نہیں تھیں تو ہُما کے دو ہاتھ بھی نہیں تھے۔
ہمانے پنجے بھینچتے ہوئے کہا۔’’صدیوں سے میری کن پٹی پر پستول تان کر کسی ٹکلے کے سرپر بیٹھنے کے لئے مجھے مجبور کیا جاتا رہا ہے۔اپنی پیاری جان بچانے کے لئے میں طرح طرح کے ٹکلوں کے سر پر بیٹھتا رہاہوں۔ سیاسی اسباق میں گدھے کو باپ بنانے کا درس دیتا رہا ہوں۔ مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ ایک گدھا قیامت تک گدھا رہے گا۔ اس کے سر پر میرے بیٹھ جانے سے وہ گدھا کسی گھوڑے کا باپ نہیں بن سکتا۔ تاریخ میں کئی مرتبہ ہوچکا ہے کہ کسی گدھے کے سر پر میرے بیٹھ جانے کے بعد وہ گدھا گدھا نہیں رہا۔ وہ ٹنڈا گھوڑا کہلوانے میں آیا۔ اور ملک میں موجود گنتی کے گھوڑے ہر لحاظ سے گدھے کہلوانے میں آئے۔مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘
ہما نے کہا۔ ’’کسی گدھے کے سر پر بیٹھ کر میں اسے گھوڑا بننے نہیں دوں گا۔‘‘
ایک نیم سیانے نے ہما سے کہا۔ ’’تیری حیثیت ہی کیا ہے ہُما؟ تیری کنپٹی پر بندوق کی نالی رکھ کر تجھے کسی بھی ٹکلے کے سر پر بیٹھنے کیلئے آمادہ کیا جاسکتا ہے‘‘۔
آگ بگولا ہوتے ہوئے ہُما نے کہا۔’’میں مانتا ہوں کہ تاریخ کے ہر دور میں ٹکلا تو کیا، میں نے ٹکلے کی آل اولاد کے سر پر بادل نخواستہ بیٹھ کر انہیں حکمران وقت بنایا ہے۔‘‘
نیم سیانے نے پوچھا۔’’کچھ الگ سوچا ہے تم نے اس مرتبہ‘‘ہما نے کہا۔’’میں نے پورے ٹولے کو مکمل طور پر پہچان لیا ہے۔ وہ ٹکلا ایک ہی شخص ہے۔ ہر دور میں اسکو نیا نام، نئی پہچان، نئی چال اور نئی ڈھال دیکر اسے میرے سامنے لایا جاتا ہےاور ہر بار مجھے اس کے سر پر بیٹھنے کے لئے مجبور کیاجاتا ہے۔ مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ میں اب ٹکلے کے سر پر بیٹھ کر ٹکلے کو ایک سو دسویں بار حاکم وقت بننے نہیں دوں گا۔‘‘
ہما کے ہم دوست ڈرگئے۔ ہما نہ جانے کیا کرنے والا تھا، یا کرنے والی تھی۔ یاد رہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ہما مذکر ہے یا مؤنث ہے۔ آئین بھی اب تک خاموش ہے۔ ٹکلے کے سر پر بیٹھنے سے ہما کا انکار کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں تھی۔ تاریخ بدلنے والی تھی۔ تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہونے جارہا تھا۔
ہم نے ہما سے پوچھا۔’’تم کیا کرنے جارہے ہو ہما؟ ایسی کوئی حرکت مت کرنا کہ تم ہم سے اور ہم تم سے جدا ہوجائیں۔ کچھ بتائے بغیر ملک کے پولیس والے تمہیں ایک سو سال قید بامشقت کی سزا سنا سکتے ہیں۔
ہما نے کہا۔’’تاریخ کے صفحے جل کر خاک ہوجائیں ۔ مجھے نہیں پروا۔ میں ٹکلے اور ٹکلے کی آل اولاد کے سر پر کبھی نہیں بیٹھوں گا۔‘‘
ایک نیم سیانے نے کہا۔ ’’مت بھول ہما کہ رکھنے والوں نے تیری کن پٹی پر بندوق کی نالی رکھی ہوئی ہے۔‘‘
’’جانتاہوں۔ مجھے نہیں پروا۔‘‘ ہما نے ٹکلے کے بارے میں بہت ہی برے الفاظ بولنے کے بعد کہا۔ ’’صدیوں سے ذلّت کی زندگی جی رہاہوں۔ بہتر ہے کہ ٹکلے کے سر پر بیٹھنے سے انکار کر کے عزّت کی موت مرجاؤں۔‘‘
اچانک ماحول پر خاموشی چھاگئی۔ نیم سیانوں کے سردار نے کہا۔ ’’تو تو کب سے مرچکا ہے ہما۔‘‘
ہم سب کو تعجب ہوا۔ نیم سیانوں کے سردار نے کہا۔’’صدیوں پہلے تونے ایک ٹکلے کے سر پربیٹھنے اور اسے بادشاہ بنانے سے انکار کردیا تھا۔ تب بندوقیں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ تاننے والوں نے تیری کن پٹی پر تیر تان کر رکھا تھا۔ ٹکلے کے سر پر بیٹھنے سےتیرا انکار سن کر چلانے والوں نے تیری کن پٹی پر تیر چلادیا تھا اور تو اللّٰہ سائیں کو پیارا ہوگیا تھا۔‘‘
دانتوں تلے انگلیاں دیکر ہم سب نے نیم سیانوں کے سردار کی باتیں سنیں۔ سردار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ‘‘تیر کھا کر تو مرگیا تھا۔ ہما مارنے والوں نے تیرے جسم میں بھس بھر کر تجھے زندہ دکھائی دینے والا ہما بنادیا ہے۔ ورنہ تو تو کب کا مرکھپ گیا ہے۔ ‘‘