• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں، جزو وقتی لیڈر نہیں!

بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے باہر آنے کے لئے اڈیالہ جیل باہر آنے کے لئے اپنے ضمیر، مشن، ضدی مزاج اور سیاسی نظریہ اور مذہبی عقیدہ کی قربانی دینا پڑے گی جس کے لئے ایک عمران خان کے عقائد کی نفی کرنے والے پی ٹی آئی کے ایک رہنما کا دعویٰ ہے کہ ’’پاکستانی نیلسن منڈیلا‘‘ اس وقف’’سیاسی ضعف‘‘ کا شکار ہیں جس کے لئے وہ سیاسی طاقت کی بحالی کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار بیٹھے میں وہ پی ٹی آئی کے’’جز وقتی لیڈروں‘‘ کے دعوئوں کی’’طفل تسلیوں‘‘ پر نہ چاہتے ہوئے بھی یقین کرنے پر مجبور ہیں اور ان کے انتظار میں اپنے سیل کے دروازے پر ٹکٹکی لگائے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں کہ شاید’’ہائیبرڈ لیڈرز‘‘ میں سے کوئی ایک انہیں’’حقیقی آزادی‘‘ کی خوشخبری سنانے کے لئے منظر پر نمودار ہوگا لیکن نہ ممکن ہے اور نہ آئندہ دہائیوں تک اس’’خواہش‘‘ کی تکمیل کا امکان ہو سکتا ہے حالانکہ بانی نے تھک ہار کر فوجی قیادت سے ملاقات کی ضد چھوڑ کر سیاسی قیادت سے مذاکرات کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کردی تھی لیکن مقتدر حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت ان حالات میں پی ٹی آئی کے ساتھ مشروط مذاکرات کے لئے آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی اور بڑھتے ہوئے سیاسی فاصلوں کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی جانب سے کچھ ایسے اقدامات سامنے آئے جنہوں نے مذاکرات کے ماحول کو سازگار بننے سے روکا۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے آغاز ہی سے عمران خان کی فوری رہائی اور حکومت کی برطرفی جیسی بڑی شرائط سامنے رکھیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات "کچھ لو اور کچھ دو" کی بنیاد پر ہوتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے نزدیک عمران خان کی رہائی ہی واحد حل ہے، جس پر حکومت کسی صورت سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔عمران خان اکثر یکطرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف حکومت کو’’چور‘‘ یا ’’مینڈیٹ چور‘‘ قرار دے کر ان کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس سخت لہجے نے حکومتی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت اکثر یہ بیان دیتی رہی ہے کہ وہ حکومت کے بجائے "اصل طاقتوں" (اسٹیبلشمنٹ) سے بات کرنا چاہتی ہے۔ اس رویے نے سیاسی حکومت کو مذاکراتی عمل سے دور کر دیا اور اسے ایک غیر متعلقہ فریق بنا دیا۔

تحریک انصاف کی قیادت کے اندر موجود اندرونی خلفشار نے بھی مذاکرات کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا ہیں، اسی بنیاد پر پارٹی میں اس وقت واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک دھڑا سیاسی حل اور پارلیمانی بات چیت کا حامی ہے، جبکہ دوسرا دھڑا کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو "غداری" قرار دیتا ہے۔

پارٹی امور میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کے اثر و رسوخ نے بھی پارٹی کے اندر بے چینی پیدا کی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو لگتا ہے کہ ان کے پاس فیصلے کا کوئی حقیقی اختیار نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ حکومت کے سامنے کوئی ٹھوس تجویز پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

جیل میں ہونے کی وجہ سے عمران خان تک رسائی محدود ہے، جس سے پارٹی کے اندر "کمیونیکیشن گیپ" پیدا ہوا ہے۔ مختلف رہنما مختلف بیانات دیتے ہیں، جس سے حکومتی مذاکراتی ٹیم تذبذب کا شکار رہتی ہے کہ کس کی بات کو حتمی مانا جائے۔

9 مئی کے واقعات اور اس کے بعد کے پرتشدد احتجاج (جیسے نومبر 2025 کے واقعات) نے حکومت اور ریاستی اداروں کے اندر پی ٹی آئی کے خلاف سخت غصہ پیدا کیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کو صرف وقت حاصل کرنے اور احتجاج کی تیاری کے لیے استعمال کرتی ہے۔حکومت اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ عمران خان کو ریلیف دینا ان کی اپنی سیاسی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بات چیت کا حصہ نہیں بنے گی جس کا مقصد عدالتوں پر دباؤ ڈال کر عمران خان کو رہا کروانا ہو۔

چونکہ عمران خان پر درجنوں مقدمات چل رہے ہیں، حکومت کا موقف ہے کہ اب معاملہ ’’سیاسی‘‘ نہیں بلکہ’’قانونی‘‘ ہو چکا ہے، لہٰذا مذاکرات کی میز پر ان مقدمات کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ’’سیاسی ہٹ دھرمی‘‘ اور’’اعتماد کا فقدان‘‘ ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنی پوری سیاست کو عمران خان کی رہائی کے گرد گھما دیا ہے، جبکہ حکومت پی ٹی آئی کو ایک غیر مستحکم سیاسی قوت سمجھتی ہے جس کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ ممکن نہیں۔ پارٹی کے اندرونی انتشار نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ڈائیلاگ کا عمل مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا۔

تازہ ترین