اسلام آباد (قاسم عباسی ) گیلپ پاکستان کی ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران پاکستانی گھرانوں کی نامیاتی (یعنی صرف روپوں میں) آمدن تو ضرور بڑھی ہے، مگر افراطِ زر نے سب کچھ نگل لیا ۔یوں آمد ن بڑھنے کے باوجود حقیقی معیار زندگی بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوا۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق اوسط گھریلو آمدن میں روپے کی صورت میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن مستقل بڑھتی مہنگائی نے اس آمدن کی “حقیقی” قدر کو کم کر دیا۔2018-19 سے 2024-25 کے دوران ملک میں یہ رجحان دیکھا گیا کہ لوگوں کے ہاتھ میں پہلے سے زیادہ رقم ضرور آرہی ہے، مگر اس رقم سے خریدی جانے والی چیزیں کم ہو گئی ہیں۔ یعنی 2019 کے مقابلے میں اب قوتِ خرید کم ہے۔قومی سطح پر گھریلو آمدن تقریباً 98 فیصد بڑھی—یعنی بظاہر آمدن تقریباً دگنی ہو گئی۔ مگر جب مہنگائی کا اثر نکال کر حقیقی قوتِ خرید دیکھی گئی تو قومی سطح پر 10 فیصد کمی سامنے آئی۔سب سے زیادہ فرق شہری علاقوں میں نظر آیا جہاں آمدن تو 83 فیصد بڑھی لیکن حقیقی قوتِ خرید 17 فیصد تک گر گئی۔ دیہی علاقوں میں نامیاتی آمدن میں سب سے زیادہ اضافہ یعنی 109 فیصد ہوا، مگر پھر بھی وہاں کے گھرانوں کی حقیقی خریداری کی صلاحیت میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔