• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی مصنف کی کتاب کی رونمائی اُس کیلئے نہایت اہمیت رکھتی ہے جیسے ایک مصور کی پینٹنگ یا مجسمہ ساز کا شاہکار اُس کی تخلیقی صلاحیتوں کا عکاس ہوتا ہے، ویسے ہی ایک کتاب ایک مصنف کی ذہنی صلاحیت کی تخلیق ہوتی ہے۔ میں گزشتہ 23 سال سے پاکستان کے صف اول اخبار ’’جنگ‘‘ میں باقاعدگی سے معاشی کالم تحریر کررہا ہوں۔ میں نے ملکی، خطے اور بین الاقوامی معاشی امور پر قلم اٹھایا اور حقائق پر مبنی مثبت کالم تحریر کئے جنہیں ملک اور بیرون ملک پسند کیا گیا۔ تحقیق اور ریسرچ ہمیشہ میرے کالموں کا خاصہ رہی۔ پارلیمنٹرین کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں معاشی اور بزنس کمیونٹی کے مسائل کا عملی تجربہ رہا۔ خوش قسمتی سے ایک صنعتکار، سفارتکار، بزنس کمیونٹی کے نمائندے اور معیشت دان ہونے کے ناطے مجھے قومی اسمبلی میں اہم قائمہ کمیٹیاں دی گئیں جن میں فنانس ریونیو، کامرس اور اکنامک افیرز شامل ہیں۔ پہلی بار قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو نے اس سال بجٹ 2025-26 ء قومی اسمبلی میں منظور کیا۔قائمہ کمیٹی برائے کامرس نے مجھے ملک میں چینی بحران اور مصنوعی قلت پیدا کرکے مقامی مارکیٹ میں گٹھ جوڑ اور سٹے بازی سے چینی کی قیمتیں بڑھانے پر تحقیقات کا ٹاسک دیا اور حال ہی میں میری چینی بحران پررپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی جسے اسمبلی اور میڈیا میں نہایت پذیرائی ملی۔ اس رپورٹ میں میری کمیٹی نے ان اداروں کی نشاندہی کی جو چینی بحران کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح قائمہ کمیٹیوں میں جی ایس پی پلس سہولت اور پاکستان کے بڑھتے قرضوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اہم تجاویز پیش کیں جسے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں نے سراہا۔ میں 2002ءسے اب تک 1200 سے زائد معاشی کالم تحریر کرچکا ہوں اور ان کالموں کا مجموعہ گیارہ کتابوں کی صورت میں شائع ہوچکا ہے جن میں میری نئی کتاب ’’معیشت اور پارلیمنٹ‘‘ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ میں نے اپنی زندگی کے سفر پر ایک سوانح عمری A Limitless Pakistani بھی شائع کی ہے۔ میں نے معیشت اور سیاست کو ایک دوسرے سے جڑے دیکھا ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کتاب اسی خلا کو پر کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ معاشی حقائق کو پارلیمانی ذمہ داری سے جوڑا جاسکے۔ تقریب رونمائی کے مہمان خصوصی اور میرے قریبی دوست سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی تھے جبکہ تقریب میں گورنر خیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزیر مملکت مذہبی امور کھیل داس، چین کے قونصل جنرل یانگ یوڈونگ، جاپان، روس، عراق کے قونصل جنرلز، مراکو کے اعزازی قونصل جنرل اشتیاق بیگ، معین الدین حیدر، انور مقصود، بشیر جان محمد، سراج الدین عزیز، ڈاکٹر ہما بقائی، سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر سرمد علی، رکن قومی اسمبلی نوید قمر، قاسم گیلانی، سحر کامران، نفیسہ شاہ، کرنل اسد نیازی، فتح اللّٰہ خان، رسول بخش چانڈیو، عمیر بیگ، معروف معیشت دان، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات، دوست احباب اور میڈیا کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جو میرے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ پاکستان کے معاشی مسائل محض تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں۔ پارلیمنٹ، بطور اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ، قوانین سازی، بجٹ، نگرانی اور احتساب کے ذریعے ملکی معیشت کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں معاشی بحث اکثر شواہد اور تحقیق سے محروم رہی ہے۔ میں نے اس کتاب میں تجارت، صنعت اور عام آدمی سے جڑے مسائل کو مستند ڈیٹا کے ساتھ جرات مندی سے پیش کیا ہے۔ چینی اسکینڈل پر میری حالیہ رپورٹ بدعنوانی کے خلاف میری جدوجہد کا واضح ثبوت ہے۔ میری کتاب ’’معیشت اور پارلیمنٹ‘‘ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ پارلیمانی فیصلے کس طرح مہنگائی، اقتصادی ترقی، ٹیکس نظام، عوامی قرضوں، تجارت اور سماجی بہبود کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ کتاب تحقیق پر مبنی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ پیچیدہ معاشی تصورات کو ایسی زبان میں پیش کیا جائے جو نہ صرف پالیسی سازوں بلکہ طلبہ، محققین، صحافیوں اور باشعور شہریوں کیلئے بھی قابل فہم ہوں۔ یہ کتاب محض تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ مسائل کے حل کے ساتھ معاشی طرزِ حکمرانی میں پارلیمنٹ کے کردار کو مضبوط بنانے کیلئے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ میں پارلیمنٹ میں اپنے ساتھیوں، تاجر برادری، ماہرین تعلیم اور اپنے قارئین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے کالموں کو پسند کیا اور اہم تجاویز دیں۔ میں اپنے اہل خانہ اور دوستوں کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے تحریری سفر کے دوران صبر، تعاون اور حوصلہ افزائی کا مظاہرہ کیا۔ مجھے یاد ہے کہ کالم لکھنے کے باعث اتوار کے دن میں درجنوں دعوتوں میں شرکت نہیں کرسکا جس پر دوستوں سے ندامت ہے ۔میں تقریب رونمائی کے دیگر اسپیکرز، اپنی تحقیقی ٹیم جو گزشتہ کئی سال سے مستند اور تصدیق شدہ ڈیٹا فراہم کررہی ہے اور میرے کمپوزر جو گزشتہ دو دہائیوں سے ہر اتوار میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ میں اپنے اہل خانہ بالخصوص اپنی اہلیہ نورین کا مشکور ہوں جنہوں نے اس طویل سفر میں ہمیشہ مسکراتے ہوئے میرا ساتھ دیا۔ میں تقریب کے تمام معزز مہمانوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے تقریب رونمائی میں شرکت کی۔ مجھے امید ہے کہ ’’معیشت اور پارلیمنٹ‘‘ بامعنی معاشی مباحث کیلئے ایک مستند حوالہ اور معاشیات کے طلبہ کیلئے مفید اور معلوماتی ذریعہ بنے گی۔

تازہ ترین