• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج وہی ممالک اور ادارے ترقّی کی راہ پر گام زن ہیں، جو اپنے انتظامی، معاشی اور تعلیمی ڈھانچے میں اے آئی کو بروئے کار لا رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستان کا مقام اور مستقبل مُلک کے پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑاچیلنج ہے۔ 2025ء میں جاری ہونے والی مائکرو سافٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مجموعی استعمال 15فی صد سے بھی کم ہے اور یہ استعمال بھی محض سوشل میڈیا فلٹرز اور دیگر غیر اہم کاموں تک محدود ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اس کم شرح کے تین بڑے اسباب ہیں، انٹرنیٹ کی محدود دست یابی، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی اور مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے ٹُولز کی عدم موجودگی۔ جب تک ان رکاوٹوں کو دُور نہیں کیا جاتا، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال ابتدائی اور محدود ہی رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق، اے آئی کے مؤثر استعمال کے ضمن میں متّحدہ عرب امارات اور سنگاپور سرِفہرست ہیں، جہاں نصف سے زیادہ افراد روزمرّہ کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ استعمال فیصلہ سازی، ٹریفک کے نظام، امراض کی تشخیص اور عدالتی و انتظامی امور تک پھیلا ہوا ہے، جب کہ سنگاپور نے ’’اسمارٹ نیشن‘‘ نامی منصوبے کے ذریعے ایک مربوط ریاستی ڈھانچا قائم کیا ہے اور وہاں ڈیٹا پالیسی، عوامی خدمات کی فراہمی، مالی نگرانی اور پالیسی سازی بھی مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہوتی ہیں۔

متّحدہ عرب امارات نے مصنوعی ذہانت کی الگ وزارت بھی قائم کی ہے اور مذکورہ بالا ممالک میں اے آئی کی کام یابی کا سبب اُن کا مضبوط تعلیمی ڈھانچا، سرمایہ کاری کےمواقع، سٹارٹ اپ ایکوسسٹم، حکومتی پالیسیز کا تسلسل اور مقامی زبان میں ٹولز کی دست یابی ہے۔

یاد رہے، جن ممالک میں مقامی زبان میں مصنوعی ذہانت تک رسائی آسان ہے، وہاں ترقّی کا گراف بلند ہے۔ عرب دُنیا نے عربی زبان کے ماڈلز، مقامی چیٹ بوٹس اور تحقیق کے لیے عربی ڈیٹا کا باقاعدہ انفرااسٹرکچر قائم کیا ہے، جب کہ اس کے برعکس پاکستان میں اُردو اور علاقائی زبانوں کے لیے معیاری ماڈلز اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی شدید کمی ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت کا زیادہ تر مواد انگریزی پر مشتمل ہے، اس لیے وہ ممالک، جن کے باشندے انگریزی پرمہارت نہیں رکھتے، اس کے فوائد اُٹھانے سے قاصر رہتے ہیں اور اُن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا ڈھانچا ابھی ابتدائی مرحلےمیں ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر ڈیٹا پالیسی موجود ہے، نہ معیاری عوامی ڈیٹا پورٹلز۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر بڑے ماڈلز کی تیاری اور کلاؤڈ انفرااسٹرکچر بھی غیرمعیاری ہے۔ تاہم، پاکستان کی موجودہ پالیسی اس ضمن میں حوصلہ افزا ہے، لیکن اس کے مؤثر ہونے کے لیے فنڈنگ، تربیت، ڈیجیٹل رسائی، تحقیق اور ایک مکمل ایکو سسٹم ضروری ہے۔

مُلک میں اے آئی کی ترقّی کے حوالے سے ضروری ہے کہ پاکستانی حکومت اپنی افرادی قوّت کو اگلے پانچ سے سات برسوں میں مکمل ڈیجیٹل تربیت فراہم کرے اور مقامی زبانوں میں ماڈلز، ڈیٹا اور ٹولز تیار کرے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے، تو دُنیا کے دیگر ممالک مقامی زبان سے فوائد حاصل کرتے رہیں گے، جب کہ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ اس سے محروم رہ جائے گا۔

پاکستان میں مصنوعی ترقّی کے امکانات روشن ہیں۔ مُلک کی نوجوان آبادی اور ان کی ٹیکنالوجی میں بڑھتی دل چسپی، بین الاقوامی کمپنیز کی توجّہ اور بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپس اے آئی کے لیے ایک قدرتی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اگر حکومت صحت، زراعت، ٹرانسپورٹ، انصاف اور تعلیم کے شعبے میں ابتدائی عملی پروگرام شروع کرے، مقامی ڈیٹا کےاصول بنائے، اساتذہ اور طلبہ کے لیے تربیت لازمی قرار دے، جامعات میں تحقیقاتی مراکز قائم کرے اور انٹرنیٹ کی رفتار اور رسائی کو ترجیح دے، تو پاکستان چند برسوں میں اے آئی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔

یاد رہے، مسئلہ صرف رفتار کا نہیں، بلکہ ترجیحات کا ہے۔ دنیا آج مصنوعی ذہانت کو وہی اہمیت دے رہی ہے، جو کبھی صنعتی انقلاب، بجلی، انٹرنیٹ اور موبائل فون کو حاصل تھی اور جن اقوام نے ان مواقع کو نظرانداز کیا، وہ کئی دہائیاں پیچھے رہ گئیں۔ 2025ء کے عالمی جائزے یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اب بہت کم وقت بچا ہے۔

حکومت کو آئندہ دس برسوں میں اے آئی کو قومی پالیسی، معاشی منصوبہ بندی، تعلیمی نصاب، حکومتی خدمات اور عوامی استعمال کا لازمی حصّہ بنانا ہوگا، وگرنہ ہم معیشت سمیت تمام میدانوں میں دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ دوسری جانب اگر پاکستان نے اے آئی کو ریاستی ترقّی کی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون کے طور پر اپنایا، تو یہ ٹیکنالوجی انتظامی نظام شفاف، تعلیم معیاری، معیشت کو مسابقانہ اور نوجوان نسل کو باصلاحیت بنا سکتی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید