• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سالِ رفتہ لالی وڈ میں ’’نیلوفر‘‘ ، بالی وڈ میں ’’دُھرندر‘‘ اور ہالی وڈ کے ’’پریڈیٹر‘‘ کی خُوب دُھوم رہی، مگر باکس آفس پر ان تینوں فلمز نے کیا گُل کِھلائے، سالِ گزشتہ کی اینٹرٹینمنٹ داستان میں پیشِ خدمت ہے۔ ویسے اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں سال2025ء چینی فلم ’’نی زا2 ‘‘کے نام رہا، جس نے چین سمیت دنیا بھر میں 2بلین ڈالرز سے زائد بزنس کیا، جب کہ فلم کا بجٹ صرف 80ملین ڈالرز تھا۔ یعنی 20ارب روپے (پاکستانی کرنسی میں) میں بننے والی اس فلم نے تقریباً 600ارب روپے کا کاروبار کرکے فلم ساز کو مالامال کردیا۔

’’ابھی رُکیں، ذرا صبر کریں‘‘، اس فلم کو دیکھنے والوں کی تعداد بھی جان لیں۔ جی ہاں، فلم بینوں کی بات کی جائے، تو صرف چین میں32کروڑ شائقین نے یہ فلم دیکھی۔ نیز، ٹکٹس کے فروخت کے لحاظ سے بھی یہ اب تک کی تاریخ کی کام یاب ترین فلم ہے۔ دیکھا جائے، تو چین کئی میدانوں میں شان دار کام یابی کے بعد امریکی فلم انڈسٹری ہالی وڈ کو بھی شکستِ فاش دینے میں کام یاب رہا۔ 

چین میں اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ90 ہزار سینما اسکرینز ہیں، تو ہالی وڈ یا بالی وڈ کے ہر فلم ساز کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اُس کی فلم چین میں ریلیز ہوکر کام یابی سے ہم کنار ہوجائے کہ یہ اور کوئی خزانہ ہاتھ لگ جانے سے کم نہیں ہوتا۔ خیر، یہ سالِ گزشتہ پاکستانی فلم انڈسٹری ’’لَو گُرو‘‘ کے نام رہی کہ ہمایوں سعید اور ماہرہ خان کی جوڑی نے باکس آفس پر خُوب دھوم مچائی۔ 

نیز، بیرونِ ملک بھی کام یاب قرار پانے والی اس فلم کا سب سے بڑا سرپرائز، احمد علی بٹ تھے، جنھوں نے اس بار لَوگُرو کے لَو ٹرائی اینگل کو مکمل کیا۔’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ سیریز، ’’پنجاب نہیں جائوں گی‘‘اور ’’لندن نہیں جاؤں گا‘‘ کے بعد ڈائریکٹر ندیم بیگ کی یہ پانچویں فیچر فلم تھی۔ لگ بھگ 25کروڑ روپے کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے ریلیز کے بعد دنیا بھر سے75کروڑ روپے کا بزنس کیا۔

اس طرح یہ فلم پاکستان کی تاریخ کی دوسری کام یاب ترین فلم قرار پائی، کیوں کہ اس سے قبل کی کام یاب ترین فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ تھی، جس نے دنیا بھر میں 400کروڑ کا بزنس کیا تھا۔ لَو گُرو کے علاوہ اس سال لالی وڈ میں صرف دو قابلِ ذکر فلمز ریلیز ہوئیں۔ ایک ہارر فلم ’’دیمک‘‘ اور دوسری، فواد اور ماہرہ خان کی ’’نیلوفر۔‘‘ تاہم، نیلوفر سنیما گھروں میں بُری طرح ناکام ثابت ہوئی۔20کروڑ روپے کے بجٹ سے بننے والی یہ فلم مُلک بھر کے سنیما گھروں سے اپنی لاگت بھی پوری نہ کرسکی۔ 

مذکورہ فلم نہ صرف پاکستانی سنیما، بلکہ اداکار فواد خان اور ماہرہ خان کی جوڑی کے لیے بھی دھچکا قرار دی جارہی ہے۔ البتہ فلم ’’دیمک‘‘ اپنی لاگت وصول کرنے میں کام یاب رہی۔ اس فلم سے فیصل قریشی نے کئی برس بعد سنیما پرکام یاب کم بیک کیا۔ جب کہ2025ء میں بھی جاوید شیخ، بہروز سبزواری اور ثمینہ پیرزادہ نے بطور سینئر فن کار، اپنے کردار سے بھرپور انصاف کیا۔ 

لالی وڈ سے اب چلتے ہیں بالی وڈ کی طرف، جہاں سلمان خان کی ’’سکندر‘‘ بُری طرح فلاپ ہوئی۔ فلم نے ایک سوکروڑ روپے کی حد تو عبور کرلی، لیکن اس کے بعد دھڑ دھڑ دھڑام ہوگیا، البتہ عامر خان کی بطور پروڈیوسر اور ہیرو ریلیز ہونے والی فلم ’’ستارے زمیں پر‘‘ شائقینِ فلم کو بے حد پسند آئی۔ نیز، اس فلم کو ایوارڈز کے لیے بھی فیوریٹ قرار دیا جارہا ہے۔

شاہ رُخ خان 2025ء میں بالی وڈ سے مسلسل غیر حاضر رہے۔ تاہم، اُن کے بیٹے، آریان خان کی صُورت، اُن کی جھلک، نیٹ فلکس سیریز میں ضرور نظر آئی، بلکہ اس سیریز میں تو پورا بالی وڈ ہی نظر آیا۔ اور کیسے نہ آتا، کنگ خان کے شہزادے کا جو پہلا پراجیکٹ تھا۔ اُمید ہے شاہ رُخ اگلے سال اپنی بیٹی کے ساتھ فلم ”کنگ“ میں نظر آئیں گے، جس کا ٹیزر یوٹیوب پر آچکا ہے، جب کہ سالِ رفتہ کی کام یاب ترین ٹاپ فائیو فلمز میں کسی بھی ’’خان ہیرو‘‘ کی کوئی فلم نہیں شامل نہیں تھی۔ 2025ء میں سال کی بہترین فلم کا اعزاز’’چھاوا‘‘ نے حاصل کیا۔فلم کے ہیرووکی کوشل تھے، جب کہ اکشے کمارنے مسلمان مغل بادشاہ، اورنگ زیب کے کردار میں لاجواب اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ ماضی کی طرح سالِ رفتہ بھی بالی وڈ میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف کئی فلمز (لگ بھگ دس فلمز )بنیں، جن سے لیاری کے بیک گرائونڈ پر بننے والی ایک پراپیگنڈا فلم ’’دھرندر‘‘ نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ 

فلم میں اکشے کھنّہ نے رحمان بلوچ اور سنجے دت نے چوہدری اسلم کے کردار ادا کیے،اور دونوں فلم کے ہیرو رنویر سنگھ پر بھاری پڑگئے۔ متنازع موضوع پر بننے والی فلم دھرندر، کا پاکستان اور بھارت کے سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہوا، جب کہ فلم میں بہت زیادہ تشدّد دکھایا گیا۔ تشدّد تو رومانٹک فلم ’’سیارہ‘‘ پر بھی غالب تھا، لیکن فلم کے گانے اور نئے اداکار سب کو اتنے بھائے کہ فلم سال کی کام یاب ترین فلمز میں سے ایک قرار پائی۔ چوں کہ یہ فلم پر عاشقی سیریز سے متاثر تھی، تو اسی سبب ’’عاشقی تھری‘‘ کی ریلیز میں تاخیر بھی ہوئی۔ بہرحال، 2025ء کا ایک اور تجربہ اُس وقت کام یاب رہا، جب فلم ’’ہاؤس فل فائیو‘‘ میں دو اینڈنگز کے ساتھ ریلیز کی گئی۔ یعنی فلم ایک، لیکن اختتام دو۔ 

اس فلم میں اکشے کمار، ابھیشک بچن اور ریتیش دیش مکھ سمیت درجن بھر فن کاروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ شنید ہے کہ فلم سیارہ، دھرندر، چھاوا اور ستارے زمین پرسالِ رفتہ کے ’’بہترین فلم ایوارڈ‘‘ کے لیےایک دوسرے کو ٹکّر دیں گی۔ بالی وڈ کی ٹاپ ٹین فلمز کی بات کی جائے، تو سالِ گزشتہ دس فلمز نے باکس آفس پر 80ارب روپے (پاکستانی روپے)سے زائد بزنس کیا۔

سب سے زیادہ کمائی فلم چھاوانے کی۔ فروری میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے24 ارب روپے سے زائد کا بزنس کیا۔ بالی وڈ کے شہنشاہ، امیتابھ بچّن 2025ء میں فلمزسے غیر حاضر رہے، جب کہ تامل فلمز کے سُپر اسٹار کمل ہاسن کا کم بیک پھیکا رہا کہ اُن کی فلم ’’ٹھگ لائف‘‘ باکس آفس پر ڈبّا ثابت ہوئی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر منی رتنم، جب کہ موسیقاراے آر رحمان تھے۔ 900کروڑ روپے کے بجٹ سے بننے والی یہ فلم باکس آفس پر محض تین سو کروڑ ہی کماسکی۔ 

تامل فلمزہی کے میگا اسٹار، رجنی کانت کی فلم ’’قلی ‘‘نے اگرچہ باکس آفس پرکوئی دھماکا تو نہیں کیا، لیکن ہٹ ضرور ثابت ہوئی۔ 1200کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی یہ فلم 2000کروڑ روپے کمانے میں کام یاب رہی۔ اس فلم میں رجنی اورناگ ارجن کے علاوہ عامر خان بطور گیسٹ آرٹسٹ تھے۔ ریتک روشن کی ایکشن سے بھرپور فلم ’’وار‘‘ کا (دوسرا حصّہ) اگرچہ 900کروڑ کمانے میں کام یاب رہی۔ تاہم، 1200کروڑ روپےکے بڑے بجٹ سے بنائی گئی اس فلم کو زیادہ بزنس کے باوجود ایک ناکام فلم ہی کہا جائے گا۔

بالی وڈ کی پرانی فلمز کی دوبارہ ریلیز کا سلسلہ جاری رہا اور تامل، ملیالم، کناڈا اور انگلش زبانوں کی 60فلمز ہندی میں ڈب کرکے ریلیز کی گئیں۔ ان فلمز نے صرف سینما گھروں سے مجموعی طور پر 13ہزار کروڑ( پاکستانی کرنسی میں) کا بزنس کیا۔ یعنی بالی وڈ کی ہندی زبان میں ڈب ہونے والی تمام فلمز کا بزنس ایک کام یاب چینی فلم سے بھی کم تھا، اسی سے چینی سنیما کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

نیز، بھارتی سنیماؤں میں کناڈا زبان میں بننے والی فلم ’’کنتارا چیپٹر ون‘‘ نمبر ون رہی۔ یعنی اس فلم نے ہندی، تامل، ملیالم، تیلگو، مراٹھی اور پنجابی سمیت سب ہی کو پیچھے چھوڑ دیا۔واضح رہے،تین ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی اس فلم نے دنیا بھرسے 25ارب روپے سے زائد کا بزنس کیا۔

اداکاراکشے کھنّہ کے لیے 2025ء لکی ایئر تھا کہ وہ اپنے پورے کیریئر میں سالِ رفتہ سب خانز پر بھاری اور سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ اِن رہے۔ انھوں نے چھاوا میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب اور دھرندر میں رحمان بلوچ کے کردار ادا کیے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اپنی پہلی فلم کے تیس سال بعد اُن کا زمانہ آیا۔ گرچہ اُنھوں نے اپنے کیریئر میں بارڈر، دل چاہتا ہے اور تال سمیت کئی بلاک بسٹرموویز میں کام کیا، لیکن کریڈٹ ہمیشہ کوئی اورہی لے جاتا رہا۔ 

بعدازاں، انھوں نے رومانی فلمز چھوڑ کے کامیڈی فلمز سے کیریئر سنبھالنے کی کوشش کی اور اب فلم ریس، ہم راز، چھاوا اور دھرندر کے منفی کرداروں نے اُنھیں بالی وڈ میں ایک الگ ہی پہچان دے دی ہے۔ اگر بالی وڈ کی دس کام یاب فلمز نے دنیا بھر میں 80ارب روپے کا بزنس کیا، تو اُن کے مقابلے میں ہالی وڈ کی دس کام یاب ترین فلمزموویزنے صرف نارتھ امریکا یعنی کینیڈا اور امریکا سے 900ارب روپے کا بزنس کیا۔ نارتھ امریکا میں سالِ گزشتہ ’’مائن کرافٹ‘‘ بزنس کے اعتبار سے نمبر ون، دوسرے نمبرپر’’لیلو اینڈ اسٹچ‘‘ رہی، جب کہ مہنگی ترین فلمز سپر مین اور جراسک ورلڈ کا نمبر تیسرا اور چوتھا تھا۔ 

ہالی وڈ فلمز کو یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ انگریزی زبان کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے، اسی لیے اگر دنیا بھر کے بزنس کی بات کی جائے، تو ’’زوٹوپیا 2‘‘نے نمبر ون کا تاج پہنا اور’’ لیلو اینڈ اسٹچ‘‘ سال کے آخر میں نمبر 2پر پہنچ گئی۔ یہ دونوں فلمز ایک ایک ارب ڈالرز کمانے میں کام یاب رہیں۔ مائن کرافٹ اور جراسک ورلڈ ایک بلین سے پہلے ہمّت ہارگئیں۔ 

دونوں فلمز کا بزنس ڈھائی سو ارب روپے سے زائد رہا۔ ٹام کُروز کی ’’مشن امپاسیبل سے سب کو بہت امیدیں تھی، لیکن وہ بس ایورج ہی رہی۔ اس فلم کا بجٹ40کروڑ ڈالرز تھا، جب کہ بزنس صرف 60کروڑ ڈالرز تک رہا۔ سال کے آخر میں دنیا کی کام یاب ترین فلم ’’اواتار‘‘ کا ایک اور حصّہ ریلیز ہوا۔ تاہم، تادمِ تحریر اس کی باکس آفس رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ 2009ء میں ریلیز ہونے والی ’’اواتار‘‘ 3بلین ڈالرز کے قریب یعنی800ارب روپے سے زائد کا بزنس کرچکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمینیٹر، ٹائٹینک اور اواتار کے جیمز کیمرون کتنے کام یاب رہتے ہیں کہ بہرکیف، لالی وڈ، بالی وڈ اور ہالی وڈمیں اس بار تو سپر اسٹارز کا سحر قائم نہیں رہ سکا۔

اس وقت دنیا بھر میں دو لاکھ کے قریب سنیما اسکرینز موجود ہیں۔ یعنی ایک ہی وقت میں دنیا بھر میں دو لاکھ شوز ہوسکتے ہیں اور اگر ایک اسکرین کے ناظرین کا ایوریج دو سو افراد بھی لگایا جائے، تو تین گھنٹے کا ایک شو، چار کروڑ افراد دیکھ سکتے ہیں۔ ان دو لاکھ میں سے آدھی یعنی90ہزار کے قریب سنیما اسکرینز، چین میں، 40ہزار امریکا اور تقریباً دس ہزار کے قریب بھارت میں ہیں، جب کہ پاکستان میں سینما اسکرین کی تعداد 200سے بھی کم ہے۔ 

ایک اور دل چسپ بات یہ کہ اگرچہ سب سے زیادہ فلمز بھارت میں بنتی ہیں، لیکن منہگے ٹکٹ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بزنس امریکا میں کرتی ہیں، جب کہ سب سے زیادہ فلمز، چین میں دیکھی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے، تو بھارتی سنیما کا ’’انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کنگ‘‘ کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی نظر آتا ہے۔ بزنس اور دولت کی بات کی جائے، تو سالِ رفتہ اداکاروں میں آرنلڈشوازنگر، شاہ رُخ خان، روک ڈیوائن جانسن، جارج کلونی اور ٹام کروز کے نام دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ان سب کی دولت اندازاً ایک ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔پاکستان کی بات کی جائے، تو اداکار ہمایوں سعید کے پاس ایک ارب روپے کے اثاثوں کی خبریں تو سننے میں آئیں،لیکن کسی مصدقہ ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ 

اسی طرح انسٹاگرام پر دنیا بھر میں سلینا گومز40اور ڈیوائن جانسن39کروڑ فینز فالوئنگ کے ساتھ اسٹارز میں سب سے آگے رہے، جب کہ بالی وڈ میں شاردھا کپور، نو کروڑ سے زائد اور سلمان خان سات کروڑ فالورز کے ساتھ سب سے آگے تھے، جب کہ اداکارائوں میں دیپیکا، کترینا اور پریانکا سلمان سے بھی آگے رہیں۔ پاکستان میں ہانیہ عامر انسٹا گرام کی شہزادی کہلائیں، کیوں کہ اُن کے دو کروڑ کے قریب فالورز دنیا بھر میں موجود ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید