• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وینزویلا میں امریکی آپریشن، طاقت کے استعمال کی ایک غلط روایت

امریکا نے گزشتہ دنوں وینزویلا میں ایک فوجی آپریشن کرتے ہوئے وہاں کے صدر، مادورو اور اُن کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا، جہاں وہ مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں منشیات کی اسمگلنگ اور جرائم کی سرپرستی سے لے کر امریکا کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال کی سازش تک کے الزامات شامل ہیں۔ 

مادورو نے اِن الزامات سے انکار کیا اور کہا کہ’’وہ اب بھی مُلک کے صدر ہیں۔‘‘ وینزویلا میں نائب صدر، روڈریگز نے، جن کا تعلق مادورو کی سوشلسٹ پارٹی سے ہے، ایک عدالتی حُکم پر صدارت کا عُہدہ سنبھال لیا۔ اُنہوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ اِس کارروائی سے بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ امریکا کے ساتھ کئی معاملات پر تعاون کو تیار ہیں، لیکن اس کی وضاحت نہیں کی کہ وہ معاملات کیا ہوسکتے ہیں۔

امریکی کارروائی کو جنوبی امریکا کی اندرونی سیاست، علاقائی وعالمی تناظر میں دیکھا جائے، تو اس پر ملا جُلا ردّعمل سامنے آیا۔ اکثر ممالک اِس امر پر متفّق ہیں کہ کسی بھی حکومت کی تبدیلی کے لیے طاقت کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور یہ عالمی نظام کے لیے ایک بہت ہی بُری مثال یا روایت بن سکتی ہے۔ یہ عملی سے زیادہ اصولی مؤقف ہے۔ 

اندرونِ مُلک مادورو کے حامیوں نے اس آپریشن کی مخالفت کی، لیکن ایک مضبوط اپوزیشن اور وینزویلا کے عام شہریوں نے اِس کا خیرمقدم کیا اور خوشیاں منائیں، کیوں کہ مادورو ایک سخت گیر آمر تھے، جو تیرہ سال سے مُلک پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کر رہے تھے۔ میکسیکو اور جنوبی امریکا کے کئی ممالک نے، جن میں کولمبیا وغیرہ شامل ہیں، امریکی کارروائی کی مذمّت کی، جب کہ ارجنٹائن نے کُھل کر امریکا کی حمایت کی۔ 

برازیل بھی مادورو سے خوش نہیں۔ روس، وینزویلا کا سب سے قریبی اتحادی اور اُسی کی طرح ایک سوشلسٹ مُلک ہے۔ اُس نے امریکی کارروائی کی مذمّت کی، تاہم اُس کی خود اپنی اخلاقی پوزیشن بہت کم زور ہے کہ صدر پیوٹن نے اپنے ہی پڑوسی، یوکرین پر تین سال پہلے ایسے ہی موسمِ سرما میں حملہ کیا اور آج تک وہاں جنگ جاری ہے، جس میں لاکھوں افراد ہلاک و زخمی ہوچُکے ہیں۔ اِس سے قبل اُس نے شام پر دو سال تک بم باری کی۔ افغانستان کی پہلی جنگ بھی اُسی نے شروع کی۔

چین نے بھی، جو وینزویلا کا قریبی دوست، سوشلسٹ مُلک اور عالمی طاقت ہے، امریکی کارروائی کی مذمّت کی۔ کہا گیا کہ اب چین کو بھی تائیوان پر طاقت کے استعمال کا جواز مل گیا، لیکن بیجنگ سوچی سمجھی پالیسی اختیار کرتا ہے۔امریکا کے اپنے اتحادیوں کا ردّعمل امریکا کے حق میں رہا کہ کوئی بھی ٹرمپ کو ناراض کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ 

برطانیہ، یورپ، جاپان اور جنوبی ایشیا کے اتحادیوں کا کہنا تھا کہ کارروائی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے، تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ مادورو کی صدارت ناجائز تھی۔ انہوں نے مادورو کی اقتدار سے محرومی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے بہت سے ممالک کو دھمکیاں بھی دیں، جن میں ایران، گرین لینڈ، کیوبا اور کولمبیا شامل ہیں۔ یہ ممالک اندرونی طور پر مشکلات سے دوچار ہیں، جیسے ایران، جہاں ریال کی گراوٹ پر شدید عوامی احتجاج دیکھا گیا۔

امریکی فوجی آپریشن، جسے’’Operation Absolute Resolve‘‘ کا نام دیا گیا، فوجی ماہرین کی مطابق، ٹیکنالوجی، فوجی منصوبہ بندی اور کارروائی میں امریکی فوجی برتری کی ایک مثال ہے۔ اس نے یہ آپریشن سمندر، فضا اور زمین سے کیا، جس میں150طیارے اور دوسو فوجی استعمال ہوئے۔ ان فوجیوں میں امریکا کی ڈیلٹا یونٹ کے دستے بھی شامل تھے، جو ایسے ہی برق رفتار فوجی آپریشنز کے لیے تیار کی گئی ہے۔

یہ اہل کار بیک وقت خصوصی فوجی کمانڈو تربیت اور جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو شاید دنیا کی کسی بھی فوج کو حاصل نہیں۔ اسی لیے اُنہوں نے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو سوتے ہوئے بیڈ روم سے نکال کر ایک ائیرکرفٹ تک پہنچایا اور وہاں سے نیو یارک لے گئے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ’’مَیں یہ سب اِس طرح دیکھ رہا تھا، جیسے ٹی وی پر کوئی فلم چل رہی ہو۔‘‘اِس فوجی آپریشن میں وینزویلا کے کمانڈ کنٹرول، اہم فوجی تنصیبات اور دفاعی نظام مفلوج کردیا گیا۔

ریڈار ناکارہ اور جام ہوگئے تاکہ امریکی فضائی نقل وحرکت پوشیدہ رہے۔ روس کا فراہم کردہ دفاعی نظام اور دیگر ہتھیار، خاص طور پر ریڈار اور طیارے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ یقیناً دفاعی ماہرین کے لیے یہ نئے سال کے لیے ایک اچھا موازنہ ہوگا، کیوں کہ یوکرین جنگ کو بھی تین سال ہو گئے ہیں، جہاں ابھی تک یورپی اور امریکی ہتھیاروں پر روسی برتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ یوکرین اور وینزویلا میں مماثلت کا ہونا عالمی طور پر چیلنج ہے۔

روس نے بغیر عالمی اجازت اور کسی اخلاقی جواز کے، محض لسانی تعصّب کی بنا پر یوکرین پر حملے کو جائز کہا اور کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ دوسری طرف، امریکا نے کہیں قبضہ نہیں کیا، تاہم اپنے اقدام کو جائز کہا اور اپنے فیصلے وینزویلا میں نافذ کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس فوجی آپریشن کو جنگ نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون نافذ کرنے کی کارروائی قرار دیا۔

اُنہوں نے مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ، نارکو ٹیررازم اور اسلحہ رکھنے کے ساتھ، مسلّح گروہوں سے سازباز کے سنگین الزامات لگائے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا، وینزویلا کی حکومت چلانے میں معاونت کرے گا، اس کی تیل کمپنیز وہاں کے تیل پر توجّہ دے کر مُلک کو خوش حال بنائیں گی۔ اس مؤقف پر تنقید ہورہی ہے، کیوں کہ اسے اقوامِ متحدہ کی اجازت اور علاقائی اتفاقِ رائے حاصل نہیں۔ امریکا نے یہ کارروائی تنہا کی۔ امریکی عدالت میں مادورو پر جو مقدمہ چل رہا ہے، اُس پر قانونی ماہرین میں اختلاف ہے۔

مادورو جرم سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُنہیں ریاستی استثنا حاصل ہے، جس کے تحت کسی بھی مُلک کے سربراہ کو گرفتار نہیں کیا سکتا۔ جب کہ امریکی مؤقف ہے کہ مادورو ایک مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہے تھے، جو ریاست کی شکل میں کام کر رہا تھا اور اس کا موازنہ1980ء کے پانامہ کے حکم ران، نوریگا کے کیس سے کرتے ہیں۔ امریکی فوجی آپریشن کے دَوران مادورو کے جو ذاتی محافظ ہلاک ہوئے، اُن میں 32 کیوبا کے تھے اور یہ اعلان خود کیوبا کی حکومت کا ہے۔

کیوبن ملٹری کے مطابق، انٹیلی جینس اور لڑاکا گارڈ تھے، جو سخت لڑائی کے بعد مارے گئے۔ کیوبا کی حکومت کے مطابق، یہ کیوبن سیکیوریٹی وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر عرصے سے فراہم کی ہوئی تھی۔ ماہرین سوال کرتے ہیں کہ کیا مادورو اپنی سیکیوریٹی کے لیے اپنے ہم وطنوں کو قابلِ بھروسا نہیں سمجھتے تھے۔ ویسے دونوں ایک ہی نظریے کے حامل ممالک ہیں اور امریکی مخالفت بھی مشترک ہے۔

وینزویلا، جنوبی امریکا کا ایک اہم مُلک ہے، جس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس کے زیرِ زمین تیل کے ذخائر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، لیکن نااہل حکومتوں اور ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے اس وقت بمشکل9لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جس کا بیش تر حصّہ چین خریدتا ہے۔ یہ ساؤتھ امریکا کی شمالی ساحلی پٹّی پر واقع ہے۔اس کے کریبین سی میں کئی جزائر ہیں، جب کہ آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ ہے۔کراکاس، اس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔

وینزویلا کے ایک طرف بحرِ اوقیانوس اور کریبین سی ہیں،جب کہ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو بھی قریبی سمندری پڑوسی ہیں۔ اس کی زمینی سرحدیں برازیل، کولمبیا، گیانا وغیرہ سے ملتی ہیں۔ یہ مُلک زیادہ تر شہری آبادی پر مشتمل ہے۔شہریوں میں عیسائی مذہب کے پیروکاروں کی اکثریت ہے، جب کہ قومی زبان اسپینش ہے۔

1552 ء میں اسے اسپین نے کالونی بنایا اور پھر1811 ء میں اسے آزادی حاصل ہوئی۔ حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ زیرِ زمین تیل کا دعویٰ، لیکن دو سو سال میں بھی قابلِ ذکر مقدار میں تیل نہیں نکال سکا،جب کہ روس اور چین جیسی بڑی اور ٹیکنالوجی سے لیس طاقتیں اس کی اسٹرٹیجک پارٹنر ہیں۔

اتنا تیل، لیکن نوّے فی صد سے زیادہ عوام غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ اقتصای بدحالی اس کے حُکم رانوں کی کرپشن، نااہلی اور جبر کی وجہ سے ہے۔ چی گویرا جیسے سوشلسٹ انقلابی یہاں رہے۔ ہیوگو شاویز نے یہاں طویل عرصے حکومت کی۔

یہ مُلک سیاسی عدم استحکام سے گزرتا رہا اور عوام پِستے رہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ تیل کا دعویٰ کرنے والے مُلک نے گزشتہ سال، یعنی مادورو حکومت میں کُل 4ارب ڈالرز کی برآمدات کیں، جب کہ سعودی عرب نے اِسی دوران181ارب ڈالرز کمائے۔ 

وینزویلا میں جرائم مافیا، ڈرگز کا کاروبار، کار چوری، اغوا برائے تاوان، قتل اور ڈکیتیاں روز کا معمول ہیں۔ وہاں 2024ء میں صدارتی انتخابات ہوئے۔ اپوزیشن لیڈر اور نوبیل انعام یافتہ، ماریا کورینا نے دعویٰ کیا کہ وہ بھاری اکثریت سے کام یاب ہوئیں، تاہم مادورو نے اقتدار نہیں چھوڑا۔ ماریا نے امریکی اقدام کو زبردست طریقے سے سراہا، یہاں تک کہ اپنا نوبیل انعام ٹرمپ سے شئیر کرنے کی آفر کی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ حکومت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ٹرمپ کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔

2025 ء کو ایک غیر معمولی سال قرار دیا گیا، جس میں جنگیں ہوئیں اور امن معاہدے بھی، لیکن یہ عالمی طور پر جو تبدیلی سامنے آئی، اس میں طاقت کا راج دوبارہ دنیا پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کی کوشش رہی کہ وہ اپنی بات پر ڈٹ جائیں اور کم زور ممالک کو ڈکٹیشن دیں۔اس میں امریکا اور روس آگے آگے رہے۔ چین نے زیادہ تر گلوبل ساؤتھ پر توجّہ مرکوز کیے رکھی۔ غزہ میں سیز فائر ہوا، تاہم یوکرین کی جنگ میں پیوٹن نے کوئی وقفہ نہیں آنے دیا۔

ایران دو مرتبہ جنگ میں ملوّث ہوا۔بڑی طاقتوں کی برتری بڑھتی جارہی ہے، جو اقتصادی بھی ہے اور فوجی بھی۔دوسری عالمی جنگ کے بعد کے زخموں سے اُبھرنے والی انسانی ہم دردی اور عالمی تعاون کی آوازیں کم زور پڑ رہی ہیں۔ پہلے سوشلسٹ اور کمیونسٹ ممالک میں قوم پرست لیڈرشپ عام تھی، اب جمہوری ممالک میں بھی اُنہیں مقبولیت مل رہی ہے۔ 

وینزویلا میں مادورو کا اقتدار متنازع تھا اور وہ اچھے حکم ران بھی نہ تھے۔ وہ اقتدار سے چمٹے رہنے ہی کو جیت مانتے۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد بھی نہ سمجھ پائے کہ اگر وہ پاپولسٹ لیڈر ہیں، تو اسی برّاعظم کے ٹرمپ، سُپر پاپولسٹ ہیں۔اِسی لیے وہ اُس وقت بھی لچک نہیں دِکھا پائے، جب صدر ٹرمپ نے ایک ماہ قبل اُن کا سمندری محاصرہ کیا۔

یہ کیسے ممکن تھا کہ 63 ہزار فوج اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ، جو صرف بیانات کی حد تک ساتھ دے رہے تھے، امریکا کا مقابلہ کرتے۔ گزشتہ سال80لاکھ افراد نے وینزویلا چھوڑا، جو ایک واضح اشارہ تھا کہ لوگ حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔مادورو کے قریب ترین اتحادی، صدر پیوٹن خود یوکرین کی دلدل میں پھنس چُکے ہیں۔ وہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ٹرمپ، یوکرینی صدر سے روسی زبان بولنے والا کچھ علاقہ اُنھیں دلوا دے تاکہ فیس سیونگ مل سکے۔

پاکستان کا وینزویلا کے جھگڑے سے کچھ لینا دینا نہیں، لیکن یہاں بعض افراد ایسے تجزیے کر رہے ہیں، جیسے کل ہم پر حملہ ہونے والا ہے۔ اِس وقت ٹرمپ ہم سے خوش ہے اور ہمیں کوئی ایسی ضرورت بھی نہیں کہ سات ہزار میل کے فاصلے پر واقع وینزویلا، امریکا تنازعے میں خُود کو ملوّث کریں۔ ایک بات اور، یہاں ہر لڑائی پر تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بتایا جاتا ہے۔ 

وینزویلا ایک علاقائی تنازعہ ہے، اِس لیے کسی عالمی جنگ کا کوئی خطرہ نہیں۔ہمارے اپنے بڑے چیلنجز میں دہشت گردی، امن و امان، گڈ گورنینس اور کرپشن کے ساتھ ترقّی کے معاملات ہیں، کیا ایسی صُورت میں پاکستان کسی بھی طور وینزویلا جیسے معاملات میں خوامخواہ ملوّث ہوسکتا ہے۔ یہ امریکا کا زون آف انفلوینس ہے، اس معاملے کو وینزویلا کے عوام اور اُن کے سیاست دان خود بہتر طور پر سمجھ کر نمٹا سکتے ہیں، البتہ ہمارے حُکم رانوں اور پالیسی میکرز کے لیے ایک واضح پیغام ضرور ہے کہ اب دنیا بدل رہی ہے، اس میں طاقت وَر ہونا ضروری ہے، لیکن صرف فوجی طاقت نہیں، اقتصادی بھی۔ 

سیاسی عدم استحکام ہمارے لیے خطرہ ہے اور لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب۔وینزویلا جیسے بحران یہ بھی بتاتے ہیں کہ جتنی جلدی ہو، ہمیں اپنے علاقائی اور عالمی معاملات بڑی طاقتوں کے ملوّث ہونے سے قبل پُرامن طریقے سے سلجھا لینے چاہئیں۔ نیا سال آگیا، لوگ حکم رانوں، سیاست دانوں اور طاقت کے ایوانوں سے بہت سی توقّعات رکھتے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے علاقائی امن ضروری ہے۔ 

اگر ہم جنوبی امریکا کے ممالک پر نظر ڈالیں، تو میکسیکو، وینزویلا، برازیل، کولمبیا، ارجنٹائن، بولیوا، پیرا گوئے، غرض گلف آف میکسیکو سے کیپ ہارن تک کسی نہ کسی شکل میں انقلابات، عدم استحکام کا سبب بنتے رہے۔ جنوبی امریکا سونے و تیل کے ذخائر، جنگلات، قدرتی اور زرعی دولت سے مالا مال ہے، لیکن وہاں کے اکثر ممالک کے عوام اپنی بے سمتی اور نااہل حُکم رانوں کی وجہ سے انتہائی پس ماندہ ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ نوآبادیات کی محرومیوں نے اُنہیں بہت تکالیف دیں، لیکن اب اِس بات کو صدیاں گزر چُکی ہیں۔

اب تو اپنے وسائل سے فائدہ اُٹھائیں، نہ کہ ماضی کا رونا روتے رہیں۔ ڈانز، مافیاز، منشیات کے اسمگلرز، قاتل گروہوں اور انقلابی ملیشیاز نے اس برّاعظم کو انتہائی پس ماندہ رکھا۔اس خطّے کے اکثر ممالک کے غیر محفوظ ماحول کی وجہ سے دنیا نے ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہوئی ہے۔ کوئی بھی طاقت کے اِس طرح استعمال کو درست نہیں کہے گا، لیکن ان ممالک کے عوام، سیاست دانوں، فوجی آمروں اور اہلِ دانش کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے ممالک کی ترقّی و خوش حالی کو اوّلیت دیں۔

اسی خطّے میں آسٹریلیا، جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک نہ ہونے کے برابر قدرتی وسائل کے باوجود، اپنی محنت اور لیڈرشپ کی دانش مندی سے اقصادی ترقّی کی مثالیں بن چُکے ہیں۔ جب کہ جنوبی امریکا کے ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود، غربت کی چکّی میں پِس رہے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید