• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بار بار آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں کہ میں ملازمت کیلئے، یعنی پیٹ پالنے کیلئے کیا کام کرتا ہوں؟ میں آپ کے دل سے کچھ شک شبہ دور کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔ آپ کیا کسی تھانے کے ایس ایچ او SHO لگے ہوئے ہو؟ میرے خلاف کسی نے آپ کے معتبر تھانے میں ایف آئی آر FIR کٹوائی ہے؟ کسی جان پہچان والے نے آپ کے ہاں میرے خلاف شکایت کی ہے؟ مثلاً میں رات گئے بہت دیر سے گھر لوٹتا ہوں اور اپنے رتجگےسے کراچی والوں کو شرمندہ کر دیتا ہوں؟ ایسا کیا کچھ کرتا ہوں میں؟ دیر سے گھر لوٹ آنے کے بعد کیا میں  دروازہ کو گھونسے اور لاتیں مارتا ہوں اور چیخ چیخ کر اپنی بیوی کو شریفاں شریفاں پکار کر پڑوسیوں کی نیند حرام کرتا ہوں؟ آپ کو بتادوں کہ میری بیوی کا نام شریفاں نہیں ہے۔ شناختی کارڈ میں اسکا نام رمشا روہڑی والی لکھا ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس وقت رمشا حیدرآبادی اور رمشا جیکب آباد والی عالمِ وجود میں آچکی ہوں۔ اس لیے میرے ننہیال والوں نے اپنی آٹھویں بیٹی کا نام رمشا روہڑی والی رکھا اور ہجرت کر کے روہڑی سے کراچی آگئے۔ انیسوسیتالیس سے آج تک دبنگوں نے میرے ننہیال کو مہاجر بلوانے یا لکھوانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ انکی منت سماجت مسترد کرتے ہوئے دبنگوں نے کہا ہے کہ روہڑی سکھر سے نقل مکانی کر کے کراچی میں آکر رہنے بسنے والے اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہلوا سکتے۔ یہ آئینی فیصلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو اسکے شناختی کارڈ والے نام رمشا روہڑی والی کی بجائے شریفاں کہہ کر پکارتا ہوں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، کسی نیک بندے نے آج تک کسی تھانےمیں شکایت درج نہیں کروائی ہے کہ کیوں میں شناختی کارڈ والے نام کی بجائے اپنی بیوی کو شریفاں کہہ کر پکارتا ہوں۔ امید ہے کہ میری یہ وضاحت آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی۔ آپ نے مجھ سے یہی پوچھا ہے نا، کہ میں پیٹ کیسے پالتا ہوں، یعنی میرا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ اس نادار کی دوسری وضاحت سن لیجئے۔ ایسا زمانہ ہم نے دیکھا تھا جب کسی کو کہیں سے اگر دس روپے مل جاتے تھے، تو وہ خوشحال اپنی باقی ماندہ زندگی دس روپیوں کی حفاظت کرنے میں لگا دیتا تھا۔ تب لوہے کے بکسے کو ٹرنک کہتے تھے ہم کراچی والے، اس ٹرنک میںاپنی جان سے زیادہ پیاری چیزیں سنبھال کر رکھتے تھے۔ دادا پر دادا کی تصویریں، ذاتی نوعیت کے خطوط، پگڑیاں، پرانی کتابیں، سکے، وغیرہ اس نوعیت کا ایک ٹرنک ہر شخص کی اپنی تحویل میں ہوتا تھا۔ اس پر ایک بڑا سا تالا لگا ہوا ہوتا تھا۔ تالے کی چابیاں ایسی خفیہ جگہ پر چھپا کر رکھ دی جاتی تھیں کہ ٹرنک کھولنے اور بند کرنیوالے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ چابیاں کہاں چھپا کر رکھی جاتی تھیں۔ اس زمانے میں  ڈکیت دس بیس روپیوں کے لئے کسی کی جان نہیں لیتے تھے۔ وہ بکس چرا کر لیجانے کی تاک میں لگے رہتے تھے۔ چھپانے والا دس روپے ٹرنک میں پڑی ہوئی چیزوں کے نیچے چھپا کر رکھتا تھا۔ اپنا ٹرنک اپنی چار پائی کے نیچے رکھ کر سوتا تھا۔ آدھی رات میں ٹٹول کر ٹرنک کو ہاتھ لگا کر دیکھتا تھا۔ بینک منیجروں کو اگر پتہ چل جاتا کہ فلاں کے پاس کہیں سے دس روپے آگئے ہیں، وہ اس شخص کے پیچھے پڑجاتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ شخص ان کے بینک میں دس روپے سے اکاؤنٹ کھولے۔ عوض میں وہ اگلے گروپ میں ترقی کےمتمنی رہتے تھے۔ بڑا ہی مختلف دور تھا آج کل کے دور سے۔ آپ بھار ی رقم کے نوٹوں سے بریف کیس بھر کر کسی بینک میں اکاؤنٹ کھولنے جائیں۔ بینک آفیسر ایسی نظروں سے آپ کو دیکھے گا جیسے آپ کہیں سے ڈاکہ ڈال کر، سرکاری فلاحی ادارے سے رقم نکال کر آئے ہیں۔ افسر آپ سے پوچھے گا۔ ’’کہاں سے لائے ہو اتنی ساری رقم؟ تمہارا ذریعہ آمدن کیا ہے۔ کیا کام کرتے ہو؟ تنخواہ کتنی ہے تمہاری؟ ایسے سوالوں کی بوچھاڑ سن کر بینک آفسیر آپ کو کسی تھانے کا آٹھویں کلاس فیل سپاہی دِکھنے لگتا ہے، اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے پولیس والے سے تھانیدار بن جاتا ہے، یعنی ایس ایچ او SHO۔ آپ اپنا بریف کیس لیکر بینک سے اسطرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کہ عمر بھر کبھی کسی بینک کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے ہیں آپ ملک بھر میں بینک کے بغیر چلنے والے کاروبار میں اپنا پیسہ لگا دیتے ہیں ۔ آپ اپنی پرائیویٹ ڈائری میں لکھتے ہیں، تھینک یوبینک آفیسر۔ آپ میرا ذریعہ آمدنی جاننا چاہتے ہیں نا؟ تو پھر اپنی معلومات میں اضافہ کرلیجئے۔ ملک بھر میں چوری، ڈکیتی، سرکاری فنڈز میں گھپلے، سرکاری لین دین میں رشوت خوری میں روزانہ اربوں کھربوں کا لین دین ہوتا ہے۔ اس اربوں کھربوں کے لین دین سے بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس کی مد میں ایک کوڑی نہیں ملتی۔میرا ذریعہ آمدن ہے سرکاری افسران کے لیے تقریریں لکھنا۔ میں جو تقریر ان کو لکھ کر دیتاہوں، وہ تقریر آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں۔ قرض تقریباً اترچکا ہے۔ سونے چاندی کی کانوں کا حساب کتاب ہوچکا ہے۔ درختوں پر پتوں کی بجائے اشرفیاں لگنے لگی ہیں۔ ہماری زمین میں گیس اور تیل کے ریکارڈ توڑ ذخائر ہیں۔ اب ملک میں موٹر گاڑیاں، ٹرک، ریل گاڑیاں، پانی کے جہاز، اور ہوائی جہاز مفت میں چلیں گےاور اڑیں گے۔ آدمی پیدل چلتے رہ جائیں گے۔ آدمی اَزل سے پیدل ہے۔

تازہ ترین