• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(خُود نوشت)

مصنّف: ذوالفقار احمد چیمہ

صفحات: 336، قیمت: 1800روپے

ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور۔

فون نمبر: 37220100 - 042

ذوالفقار احمد چیمہ اُن معدودے چند افسران میں شامل ہیں، جنہیں سِول سروس کی آبرو قرار دیا جاسکتا ہے۔ دَورانِ ملازمت وزیرِ اعظم ہاؤس سے لے کر خیبر پختون خوا، پنجاب اور بلوچستان کے ایسے مقامات پر خدمات انجام دیں، جہاں یا تو افسران جاتے ہی نہیں اور اگر جائیں بھی، تو نیک نامی کم ہی حصّے میں آتی ہے، مگر چیمہ صاحب نے وہاں بھی اپنی دیانت داری، جرأت اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے قابلِ فخر و تقلید نقوش ثبت کیے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اُنہیں حُکم رانوں نے کم ازکم نصف درجن بار بُلا کر مشکل ٹاسک سونپے، جن میں وہ سرخ رُو رہے۔ رحیم یار خان، ڈی آئی خان میں امن و امان کا مسئلہ ہو یا گوجرانوالہ اور شیخو پورہ کو خطرناک مافیاز کے چنگل سے نجات دِلوانا، حُکم رانوں کی نظر چیمہ صاحب ہی پر ٹھہری۔ اِسی طرح پاسپورٹ کے سنگین بحران کے دَوران، موٹر وے پولیس میں اصلاحات اور NAVTTC کے ذریعے نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لیے، چیمہ صاحب ہی کا انتخاب کیا گیا۔ 

اُنہیں بعض حُکم رانوں کے قریب سمجھا گیا، مگر اُنھوں نے کبھی کسی کے غیر قانونی احکامات نہیں مانے۔ اس کی مثال پرویز مشرّف دَور میں مخالفین کی گرفتاریوں سے انکار اور گوجرانوالہ میں مسلم لیگ نون کے اُمیدوار کی غیر قانونی مدد سے گریز بھی ہے، جس کی پاداش میں اُنھیں تبادلے کی سزا بُھگتنی پڑی۔ زیرِ نظر کتاب میں، جو اُن کی خُود نوشت ہے، ایسے درجنوں واقعات موجود ہیں، جن کی روشنی میں اُن کی جہدِ مسلسل سے آگہی حاصل ہوتی ہے، جو دیانت، محنت، حکمت اور قانون کی پاس داری سے عبارت ہے۔ 

ذوالفقار احمد چیمہ کو غیر معمولی خدمات پر صدرِ پاکستان نے ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔ ان کے والد اپنے زمانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور علاقے کے بڑے زمین دار ہونے کے ساتھ، مقامی سیاست میں بھی فعال رہے۔ بھائی، بیرسٹر جسٹس(ر) افتخار احمد چیمہ، لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں بھی نام بنایا۔ وہ دس سال ایم این اے رہے۔ دوسرے بھائی، ڈاکٹر نثار احمد چیمہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، پنجاب کے عُہدے سے ریٹائر ہوئے اور 2018ء میں قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے۔ 

اِسی طرح ایک بہن بیرسٹر، تو دوسری ناول نگار ہیں۔ ذوالفقار چیمہ، پنجاب یونی ورسٹی لاء کالج کی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے۔ اِس خُود نوشت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اِس میں ایک پولیس افسر کے طور پر بہت سے سماجی و سیاسی معاملات بھی زیرِ بحث لائے ہیں۔ 

اُنھیں بلوچستان کے بگٹی، مری قبائلی سرداروں اور وہاں کے معاشرے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جنوبی پنجاب میں کئی معرکے سَر کیے، حلقہ جاتی سیاست کے داؤ پیچ سے آشنا ہوئے، ادارہ جاتی سازشوں کا شکار ہوئے، ڈاکو راج سے براہِ راست ٹکرائے، مافیاز کے لمبے ہاتھ دیکھے اور عوام کے اندر رہ کر اُن کے مسائل سمجھے، یوں بطور محاورہ نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں اُن کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر رہا۔ 

اِس لیے کہا جاسکتا ہے کہ یہ خُود نوشت، ہمارے معاشرے کی آنکھوں دیکھی اور خُود بُھگتی کہانی ہے، جس میں اچھے کردار بھی ہیں اور وہ بھی، جو زمین پر بوجھ ہیں، مگر معتبر بنے ہوئے ہیں۔ اِس داستان کے ذریعے بہت سے دل چسپ، حیرت انگیز اور اَلم ناک سیاسی معاملات سے بھی آگاہی ہوتی ہے کہ چیمہ صاحب نے وزیروں، سیاست دانوں اور منتخب نمایندوں کے ایسے ایسے واقعات تحریر کیے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پولیس اور دیگر اداروں کے ذریعے عوام کو کیسے اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ 

دوسری طرف، اُنھوں نے پولیس کی پُھرتیوں کا بھی بے لاگ تذکرہ کیا ہے۔مثلاً ایک بار وزیرِا عظم، میاں نواز شریف نمازِ عید کے لیے بادشاہی مسجد گئے، تو پولیس حکّام نے سوچا کہ موقع اچھا ہے، امام صاحب سے تقریر میں پولیس کے حق میں بھی کچھ کہلوا لیا جائے تاکہ وزیرِ اعظم کے سامنے ذرا واہ واہ ہوجائے اور پھر اِس مقصد کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا، وہ الگ کہانی ہے۔ اِسی طرح اُنھوں نے محکمے میں موجود کالی بھیڑیں بھی بے نقاب کی ہیں اور اُنھیں اپنی بات پر اِتنا اعتماد ہے کہ جو بات کی ہے، اِشاروں کنایوں کی بجائے، نام لے کر کی ہے۔ 

یہ خُود نوشت اِس سلسلے کی پہلی جِلد ہے، جس میں اُن کے لاہور کے پولیس چیف بننے تک کی رُوداد ہے۔ گو کہ کتاب میں تو ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اِس کتاب کا بڑا حصّہ روزنامہ جنگ کے’’سنڈے میگزین‘‘ میں نہ صرف قسط وار شایع ہوتا رہا، بلکہ قارئین کے وسیع حلقے میں نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا، پڑھا گیا۔ نیز، یہ کتاب اِس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اِس میں کوئی پیش لفظ یا دیباچہ ہے اور نہ ہی کسی کی کوئی رائے شامل کی گئی ہے۔ واضح رہے، ذوالفقار چیمہ کالم نگار بھی ہیں اور اُن کی یہ ساتویں کتاب منظرِعام پر آئی ہے۔