(تنقیدی مضامین)
مصنّف: ن-م-دانش
صفحات: 215، قیمت: 1300روپے
ناشر: سٹی بُک پوائنٹ، نوید اسکوائر، اُردو بازار، نزد مقدّس مسجد، کراچی۔
فون نمبر: 2306716 - 0312
اِس کتاب کے مصنّف امریکا میں مقیم ہیں اور اُنھوں نے اپنے آٹھ تنقیدی مضامین کتاب کی صُورت اُردو ادب کے قارئین کے سامنے پیش کیے ہیں۔ یہ مضامین مختلف مواقع پر پڑھے گئے، بعدازاں دنیا زاد، قومی زبان، ارتقا، صریر اور دیگر ادبی رسائل میں شایع ہوئے۔ اِن مضامین میں’’ فیض: شخصیت، شاعری اور مِتھ‘‘،’’منٹو: ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شناخت کا بحران‘‘،’’اوپڑ دی گڑ گڑ دی: یعنی اس کا مطلب کیا‘‘،’’افسانہ:روپے، آنے، پائی‘‘،’’ میرا جی ایک سوال‘‘،’’ممتاز حسین اور مارکسی تنقید‘‘،’’ترقّی پسندی اور اکیسویں صدی‘‘ اور’’کراچی اور آصف فرّخی‘‘ شامل ہیں۔
ناصر عبّاس نیر، ادب و تنقید کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ اُنھوں نے ن-م- دانش کے ایک مضمون کے ضمن میں رائے دی ہے کہ’’منٹو کے’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کے اب تک کیے گئے مطالعات میں، یہ سب سے عُمدہ، وسیع تناظر کا حامل، خالص علمی انداز میں لکھا گیا بصیرت افروز مطالعہ ہے۔‘‘اِس رائے کے بعد شاید کسی اور تبصرے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ویسے اِن مضامین کے مصنّف کی حق گوئی بھی قابلِ داد ہے۔ ایک موقعے پر تنقید نگاروں سے متعلق لکھا ہے۔
’’اردو میں تنقید لکھنے والوں کی ادبی فراست کی اہلیت کی پیمائش کی جائے، تو وہ Mediocreسے بھی کم نکلے گی۔ بالعموم سامنے کے مضامین پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے یعنی شاعر یا ادیب نے جو کچھ تحریر کیا ہے، اُسے اپنی زبان میں، سادہ نثر میں، کچھ اِدھر اُدھر کے حوالے دے کر بیان کردیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسے آسان تر بنا کر قاری کے لیے مزید قابلِ فہم بناتے ہیں۔
اردو تنقید میں تخلیق کی گہری تفہیم، جس سے فن پارے کے کسی’’اور طرح‘‘ کے سیاسی، جمالیاتی، فلسفیانہ، نفسیاتی اور سماجی معنی نکلیں، بہت ہی کم نظر آئے گی۔ ایسے نقّاد اور مضامین کو انگلیوں پر گِنا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں لکھی جانے والی تنقید کے تناظر میں تو شاید انگلیں زیادہ نکلیں۔‘‘ اچھی بات یہ ہے کہ مصنّف خود بھی کسی گھمنڈ میں مبتلا، اَنانیت کا شکار نہیں کہ اُنھوں نے اپنے آپ کو بھی قارئین کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔