(سفرنامہ)
مصنّف: بشیر سدوزئی
صفحات: 293، قیمت: 1000 روپے
ناشر: فرید پبلشرز، 12، مبارک محل، نزد مقدّس مسجد، اردو بازار، کراچی۔
فون نمبر: 2360378 - 0345
کتاب کا عنوان دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ کوئی مذہب یا فلسفے کی کتاب ہو، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ تُرکیہ کا سفرنامہ ہے اور مصنّف کا کہنا ہے کہ’’یہ کتاب اُس روشنی کا تعاقب ہے، جو باسفورس کے پانیوں ہی میں نہیں، آرپار اور پورے تُرکیہ میں جھلملاتی نظر آتی ہے۔ یہ روشنی، تعلیم و ہنر، شعور اور ترقّی کی روشنی ہے اور اُس صدا کا تعاقب ہے، جو تُرکیہ کی گلیوں، بازاروں، مسجدوں، پہاڑوں اور سڑکوں سے اُبھرتی ہے۔‘‘
فاضل مصنّف بلدیہ عظمیٰ، کراچی میں اہم عُہدے پر فائز رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد علمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ یہ اُن کی نویں کتاب ہے، جو اِس وقت ہمارے پیشِ نظر ہے۔ اِس سے پہلے بلدیہ کراچی کی تاریخ پر اُن کی ایک ضخیم، حوالہ جاتی کتاب علمی حلقوں سے سندِ قبولیت حاصل کرچُکی ہے، جب کہ آذربائیجان کے سفرنامے نے بھی خاصی داد سمیٹی۔
اِسی طرح اُن کی کشمیر اور کشمیریوں سے متعلق تحریر کردہ کتب بھی وسیع حلقے میں پڑھی گئیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کشمیر پر لکھنے والے چند لوگ ہی رہ گئے ہیں، بشیر سدوزئی اپنے اخباری کالمز کے ذریعے کشمیر کو بُھولنے نہیں دے رہے۔
کتاب کے شروع میں مصنّف کی جانب سے تحریر کردہ ڈھائی صفحے کا’’ابتدائیہ‘‘ اِس پورے سفرنامے کا خلاصہ ہے، جس میں تُرکیہ، تاریخ، مسلم اُمّہ، دورِ جدید، عروج و زوال جیسے موضوعات پر نہایت خُوب صُورت الفاظ میں اپنی سوچ و فکر بیان کی گئی ہے۔ 2023ء میں کیے گئے اِس 15روزہ سفر کو 115 عنوانات کے تحت سمیٹا گیا ہے۔ بشیر سدوزئی اِس سفر میں تاریخ کو بھی ساتھ لیے چلتے رہے، مگر ماضی کا تذکرہ یا مقامات سے متعلق معلومات کی فراہمی نے سفرنامے کو بوجھل نہیں ہونے دیا۔
ایک تو اسلوب رواں اور دل چسپ ہے، پھر یہ کہ اِس میں سفری مشاہدات و تجربات کی بجائے، محض تاریخی معلومات سے صفحات نہیں بَھرے گئے، جیسے آج کل’’گوگل بیس‘‘ سفرنامے لکھے جا رہے ہیں۔ اُنھوں نے قارئین کو مختلف مقامات کی تاریخ سے آگاہ کرنے کے ساتھ، اپنے مشاہدات میں بھی پوری طرح شریک کیا ہے، جو اِسے ایک معیاری سفرنامے کے درجے سے نوازتے ہیں۔ہمیں اِس سفرنامے میں کئی مقامات پر کراچی بھی نظر آتا ہے، جہاں مصنّف اپنے شہر کا مختلف حوالوں سے موازنہ کرتے رہے۔
جیسے یہاں کہ تاریخی مقامات کی شناخت کی تبدیلی اور دیکھ بھال نہ کیے جانے پر اُنھیں شدید ملال ہے، جب کہ تُرکیہ میں تاریخی مقامات کے نہ نام بدلے گئے اور نہ ہی اُنھیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا۔ اِس سفرنامے سے تاریخی مقامات کی سیر، شہروں کی چہل پہل، بازاروں کی رونق، گلی محلّوں کی زندگی، کھانے پینے کا ذوق، میوزیم، بادشاہوں کی کہانیاں، مزارات، مساجد، گرجا گھر، شہریوں کا مزاج، غرض پورا تُرکیہ قاری کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور وہ وہاں کا ایک ایک رُخ مصنّف کی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اور یہی سفرنامہ نگار کا اصل کمال ہوتا ہے، جو اِس سفرنامے میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔ کتاب میں کئی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر بھی موجود ہیں، شاید رنگین تصاویر قیمت بڑھنے کے خوف سے شامل نہیں کی گئیں۔ بہرکیف، بشیر سدوزئی کا یہ سفرنامہ، تُرکیہ کی سیاسی و سماجی تفہیم کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔