تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: فاطمہ زہرا
ملبوسات: Balreej Fashion by Billal
آرائش: ماہ روز بیوٹی پارلر
کوارڈی نیٹر: محمّد کامران
عکّاسی: ایم کاشف
لےآؤٹ: نوید رشید
بلاشبہ، خُوب صُورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔ جو مناظر، فن پارے کسی کے دل میں گھرکرلیتے ہیں، کسی دوسرے کے لیے یک سر بےمعنی بھی ہو سکتے ہیں۔
کسی کو سادگی میں لپٹا حُسن بھاتاہے، تو کوئی شوخ رنگوں کا دل دادہ ہے۔ کسی کے لیے خموشی ہی جامع مفہوم رکھتی ہے، تو کوئی شور کو زندگی کی علامت جانتا ہے۔ خُوب صُورتی کی کوئی ایک جامع تعریف نہیں۔
شاید یہ ایک انتہائی ذاتی معاملہ ہے، جس کی تشکیل فرد کی ترجیحات، پس منظر اور نقطۂ نظر سے ہوتی ہے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ حُسن کے جانے کتنے چہرے، حُسن کے جانے کتنے نام۔ مَن پسند ساتھی، خوابوں کی تکمیل، کام یابی کے جھنڈے، تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی، پروفیشنل اچیومنٹس… مطلب ’’پا لینے‘‘کا احساس کچھ ایسی دلی تسکین کا سبب بنتا ہے، گویا گل و گل زار راہ گزر کا سفر۔
وہیں کچھ’’لاحاصل‘‘ ہی کوخُوب صُورت جانتے ہیں۔ اُن کے نزدیک خواہش کو حد میں رکھنا، اُسے چھوئے بغیر محسوس کرنا حُسن کا قرینہ ٹھہرا۔ اور انسان کے جمالیاتی شعور کی لطیف سطح کو چُھونے والا فکری خیال کہتا ہے کہ ’’صدیوں سے نہ بُوجھ پائی جانے والی پہیلی، ’’عورت‘‘ کا وجود ہرصُورت حُسن وجمال، خُوب صُورتی کے کسی نہ کسی امکان کو مکمل کرتا ہے۔
عورت، کسی بھی ایک سانچے کی قید سےقطعاً آزاد ہے۔ وہ سادگی میں بسی ہو یا رنگوں میں رنگی، خاموشی کی مُورت ہو یا مجسّم اظہار، بہرکیف، تصویرِکائنات میں کئی رنگ بَھرتی، اُسے مکمل کرتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صُبح سے شام تک یہ جنس بیسیوں مُوڈ بدلتی ہے۔ کبھی چُپ چاپ، یک سر گُم صُم، خُود اپنے آپ ہی سے روٹھی، تو کبھی بے وجہ، بےسبب ہی خُوب چہکتی گاتی، ہنستی ہنساتی، بلند بانگ قہقہے لگاتی اور پھر خُود کو خُود ہی مناتی۔
اِس کو سمجھنا، جان لینا درحقیقت اِس کا اسرار، بھید، اِس کی خُوب صُورتی کم کرتا ہے۔ سراج اورنگ آبادی کا شعر ہے ناں ؎ خبرِ تحیّرِ عشق سُن، نہ جُنوں رہا، نہ پری رہی… نہ تو تُو رہا، نہ تو مَیں رہا، جو رہی سو بےخبری رہی۔ تو عورت کے معاملے میں ’’بےخبری‘‘ ہی بھلی ہے کہ اِس مخلوق کو جاننے، سمجھنے، پرکھنے، کریدنے کی نسبت اگر زیادہ سے زیادہ محسوس کرنے کی کوشش کی جائے، تو کہیں بہتر ہے۔
بقول جون ایلیا ؎ ’’تم حقیقت نہیں ہو، حسرت ہو… جو مِلےخواب میں وہ دولت ہو… مَیں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں… مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو… تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو… اور اُتنی ہی بےمروت ہو… تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں… یعنی ایسا ہے، جیسے فرقت ہو… تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی… کیسے انگڑائی سے شکایت ہو… کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں… تم مِری زندگی کی عادت ہو… کس لیے دیکھتی ہو آئینہ… تم تو خُود سے بھی خُوب صُورت ہو… داستاں ختم ہونے والی ہے…تم مِری آخری محبت ہو۔‘‘ اب ایسی گتھواں پہیلی، سر بستہ راز، مجسّم بجھارت، سر تا پا چیستان کے لیے ہر ہفتے ایک نئی بزم سجا لانا کوئی آسان امر ہے؟؟ لیکن…ہم یہ معرکہ سر کر ہی ڈالتے ہیں۔
تو چلیں، ذرا ’’خُود سے بھی زیادہ خُوب صُورتوں‘‘ کے لیےمرتب کردہ ہماری آج کی محفل ملاحظہ فرمائیں۔ رائل بلیو رنگ پیپلم پر ہم رنگ کڑھت کی دلآویزی ہے۔ چمک دار ستاروں کی عمودی لکیروں کے ساتھ، دامن پر چوڑا سا سیکوئینس ورک خُوب ہی کِھل رہا ہے، تو پلازو پر بھی ہم رنگ ایمبرائڈری ہی کا جلوہ ہے۔ ہلکے آسمانی سے شیڈ کی سادہ قمیص پر باریک سلور دھاگا ورک نے اُسے انتہائی نفیس لُک دے دیا ہے، تو ساتھ ہم رنگ پلازو پر بھی اِسی کام کی ندرت ہے، جب کہ پلازو کا فال غضب ہے، تو کٹ ورک دوپٹے کی جاذبیت کے بھی کیا ہی کہنے۔ موو پنک شیڈ کا پہناوا بیک وقت روایت وجدّت کا بہترین امتزاج ہے۔
سادہ سے قمیص، شلوار کے صرف بارڈرز کو چوڑے لپّے سے سجایا گیا ہے، جب کہ سادہ شیفون دوپٹے پر محض کرن کی آرائش نے اُسے خالص روایتی انداز بخش دیا ہے۔ سفید کی سرحدوں میں مدغم ہوتا بہت ہی لائٹ زرد رنگ کا لباس، جس کی سیدھی قمیص پر چاندی رنگ کے تلّے اور موتیوں کا باریک کام ہے،دیکھنے میں بہت ہی اچھا لگ رہا ہے، تو وائیڈ لیگ پلازو کے نچلے حصّے پر قمیص ہی کی میچنگ میں کڑھائی پٹی کا انداز بھی کمال ہے، جب کہ یہی بیل آستینوں پر سج کر لباس کو کچھ اور بھی حُسن و دل کشی عطا کر رہی ہے۔
سادگی میں چُھپاحُسنِ لازوال، ہمارے پیور وائٹ ڈریس سے جھلک رہا ہے کہ نیٹ کے ایپرن اسٹائل پیپلم کی جادوگری پورے جوبن پر ہے۔ سفیدرنگ پر سفید ہی کڑھت اورلیس کے استعمال نے لباس کا حُسن گویا سہ آتشہ کردیا ہے، پھر ملتانی طرز کڑھت سے مرصّع دوپٹے اور پلین اسٹریٹ ٹراؤزر کے امتزاج نے تولباس کو بہت ہی خاص بنا دیا ہے۔ یہ ڈریس دن کی پارٹی کے لیے انتہائی مناسب انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔ بلڈ ریڈ رنگ جوڑا کچھ آتشیںسا ہے، تو پورا پیپلم سادہ رکھ کے صرف گلے اور آستینوں ہی پر نفیس سی ایمبرائڈری کی گئی ہے۔ ہاں، پلازو پر بُوٹی ورک اور دوپٹے پربلاک پرنٹ اسٹائل کڑھت نے لباس کو کسی بھی خاص تقریب کے لیے پوری موزونیت عطا کر دی ہے۔
ویسے اِس لباس کا انتخاب ایک جرات مندانہ تاثر کا بھی بھرپور اظہار ہے۔ انتہائی خُوب صُورت ڈیپ بلیو لباس میں بھی روایت و جدّت کی یک جائی نمایاں ہے۔ کُرتا اسٹائل قمیص پرسنہری زری اور تِلّے کا نفیس کام اُسےایک شاہانہ لُک دے رہا ہے، توہم رنگ پلازو کے پائینچوں پر باریک کڑھت نے لباس کی نفاست مزید ابھار دی ہے اور ساتھ بھاری کام دار شال کا امتزاج، پہناوے کو موسمِ سرما کی کسی بھی تقریب کے لیے ایک پرفیکٹ کومبو بنا رہا ہے۔ اور… فیشن کے اُفق پر راج کے لیے پیش ہے، ٹی روز کلر میں جامہ وار کا ایک دل کش لباس، جو نزاکت و نفاست میں اپنی مثال آپ ہے۔ پوری قمیص پر چاندی کے تاروں کی باریک کڑھائی اور دامن پر موجود کٹ ورک، جب کہ پلازو اور دوپٹے پر بھی اِسی حسین و منفرد کام کی دل آویزی نے اِسے ایک شاہ کار لباس بنا دیا ہے۔
ویسے تو لگ بھگ تمام ہی رنگ و انداز متنوع تقریبات کے لیے سوفی صد موزوں ہیں، لیکن خصوصاً یہ لباس شام کی کسی بھی تقریب یا خاص مواقع کے لیے ایک آئیڈیل، بیسٹ انتخاب ثابت ہوگا۔ ایسا آئیڈیل کہ جو اِک نگاہ ڈالے، بے ساختہ کہہ اُٹھے ؎ روز کاغذ پہ بناتا ہوں ، مَیں قدموں کے نقوش… کوئی چلتا نہیں اور ہم سفری لگتی ہے… آنکھ مانوسِ تماشا نہیں ہونے پاتی… کیسی صُورت ہے کہ ہر روز نئی لگتی ہے… میرے شیشے میں اُتر آئی ہے جو شامِ فراق… وہ کسی شہرِ نگاراں کی پری لگتی ہے۔