• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال، دو شالے ہوں ...

ماڈل: ثناء
ماڈل: ثناء

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: ثناء

اسکارفس، اسٹالرز: شال باف، لاہور

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکاسی: عرفان نجمی

لےآؤٹ: نوید رشید

قلم کو کسی ضابطے، مطالبے، سانچے یا قاعدے کی پابندی سے مبّرا کرتے ہوئے، کوئی بھی موضوع مسلط کیے بغیر اپنے بہاؤ میں آزاد چھوڑ کر لکھنے کی اجازت دی۔ قلم نے شور مچایا، نہ ہی الفاظ کا ہجوم لگایا۔ وہ ٹھہر گیا اور پھر اُس نے جس انتہا کو جا چُھوا، وہ ’’خاموشی‘‘ تھی۔ کیسی عجیب بات ہے ناں کہ یوں تو کائنات، وجود، عشق، جذبات… ہر سمت موضوعات ہی موضوعات ہیں، لیکن گفتگو کے لیے صرف ایک زبان ’’خاموشی‘‘ ہے۔ وہ آفاقی زبان، جس کی کوئی لغت ہے، نہ نقطۂ آغاز و حرفِ اختتام معلوم، پھر بھی شعراء نے اس پر دیوان کے دیوان مرتب کر ڈالے۔ فلسفیوں نے کتب لکھیں اور سطروں کے بیچ کچھ اَن کہی چھوڑ گئے کہ اِن سطروں کی خامشی ہی میں اصل بات پنہاں ہے۔

بقول سعدی شیرازی’’کبھی کبھی خاموشی بولنے سے زیادہ پیغام دیتی ہے۔‘‘ یا ولیئم شیکسپیئر کے الفاظ میں’’خاموشی اکثر سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔‘‘ اور رومی کایہ قول تو جیسے کائنات کی تمام آوازوں کا خلاصہ ہے۔ ’’خاموشی خدا کی زبان ہے، باقی سب اس کا ادھورا ترجمہ ہے۔‘‘ خاموشی بظاہر عدم گفتگو کی کیفیت ہے اور اس دنیا میں کم گو یا خاموش طبع کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اُسے معاشرے کا کم زور فرد ماناجاتا ہے۔

یہ دنیا، جہاں ہرطرف شورہی شور ہے۔ ٹریفک، آوازیں، چیخ وپکار، میوزک… سب کچھ نہ کچھ بول رہے ہیں، مگر گفتگو خال ہی کوئی کرتا ہے۔ اور کون جانے خاموش زادوں نے مَن اندرگفتگو کا کون سا جہان آباد کررکھا ہوتا ہے، جو اُن کو جذباتی ونفسیاتی طور پر اتنا طاقت وَر بناتا ہے کہ وہ اس بےہنگم دنیا میں بھی اپنا وجود قائم رکھ پاتے ہیں۔ کائنات کی تمام معنویت سمجھتے ہوئے یہ قول ’’جو کہا نہیں گیا، وہی اصل میں کیا گیا۔‘‘ خاموشی کی اس گہری دنیا کا مظہر ہے۔

جہاں الفاظ ایک حد پر آکر رُک جاتے ہیں اور پھر احساس اپنا سفر شروع کرتا ہے، جس کے پھیپھڑوں میں معنی سانس لیتے ہیں، تو رگوں میں دوڑتا توقف زندگی کی علامت ہے۔ بےشمار پہلوؤں کا احاطہ کرتی خاموشی، اپنے باطن میں کئی اظہار سموئے ہوئے ہے۔ کبھی سُکون تو کبھی اضطراب، کبھی تنہائی، کبھی مدد کی پکار، کبھی رضا، کبھی شدید احتجاج اور بعض اوقات ایسی چُپ، جس میں کہنے کے لیےکچھ نہیں اور کبھی چُپ اس لیے بھی کہ کہنے کو بہت کچھ ہو۔

یہ خامشی ہی ہے، جو رُوح تک سرایت کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ دل ٹوٹتا ہے تو آواز نہیں، سانس بولتی ہے۔ وہیں اداس لمحوں میں بہکتی یادیں چُپ رہ کر بھی بہت کچھ سُنا دیتی ہیں۔ 

بقول اسلم کولسری ؎ ’’غم کی سوغات ہے، خموشی ہے… چاندنی رات ہے، خموشی ہے… مَیں اکیلا نہیں کہ باتیں ہوں… وہ مِرے ساتھ ہے، خموشی ہے…کیسا آسیب ہے کہ ہر جانب… جشنِ جذبات ہے، خموشی ہے…وقت کے زخم زخم ہونٹوں پر…اَن کہی بات ہے، خموشی ہے … پھراُسی طرح گرم ماتھے پر…کانپتا ہاتھ ہے، خموشی ہے…صبحِ نو ہو کہ شامِ غم اسلمؔ… گوشۂ ذات ہے، خموشی ہے۔ خاموشیاں اوڑھ لینے والے دل اِسی کائناتی اصول کے مطابق اپنے اندر سے ربط قائم کرکے ایسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، جس میں آوازیں ختم، الفاظ منجمد اور اظہار بےمعنی ہو کر فنا ہوجائے۔ جب دیکھنےکو آنکھ، سُننے کے لیے دل جاگ اُٹھے تو ہر شےخود سے مخاطب معلوم ہونے لگتی ہے۔

خاموشی کا ایک بارونق جہاں اردگرد آباد سا ہو کر بیرونی دنیا کےشور، سردمہری وبےمہری سے یک سر بےنیاز کردیتا ہے۔ اور…کتنا خُوب صُورت ہے وہ جہاں، جس میں ہرایک شئے باتیں کرے۔ برستی بارش کی ٹپاٹپ بوندیں، سلگتی لکڑیوں سے اُٹھتا چبھن دار دھواں، شاخ سے جدا ہو کر گرنے والے میپل کے نارنجی زرد پتّے۔ چودھویں کی چاندنی، تو اماوس کا گھنا اندھیرا بھی، سرسبز جھاڑیوں پر اُڑتے جگنو، تو سوکھے پتّوں پردھرے قدم بھی، بہتا چناب، تو سوکھا راوی بھی۔ دھندمیں ٹمٹماتا لیمپ پوسٹ، لائبریری کی بوسیدہ کتاب، اور گہری رات میں کلاک کی ٹک ٹک بھی۔

خاموشی کی زبان میں تو بہت کچھ کہہ، سُن لیا گیا۔ چلیں، اب ذرا نازوانداز کی زبان میں اظہار کےلیےآج کی کلیکشن پر بھی ایک نظر ڈالے لیتے ہیں۔ ڈینم جیکٹ کے پف شولڈرز اِسے نمایاں لُک دے رہے ہیں، تو ہم رنگ ڈینم پینٹ کا کٹاؤ قد کو لانبا دکھانے میں مدد گارثابت ہوگا، جب کہ بلیوڈینم لباس کےساتھ آسمانی رنگ ہائی نیک بھی خوب ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔

نیز، ہلکی گلابی زمین پر رنگین پٹیوں والا اسکارف بھی فوری توجّہ کا باعث ہے۔ گہرے آتشی گلابی رنگ کا ٹاپ، جس کے نچلے حصّے پر بڑا فلیر ہے، خالصتاً نسوانی لُک دے رہا ہے، جب کہ ٹاپ کے شوخ رنگ سے توازن کے لیے کالے رنگ کی پینٹ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ویسے تو اِس کےساتھ کسی بھی رنگ کا اسکارف جچتا، مگر ماڈل نے پِیچ رنگ کے بہترین کنٹراسٹ کا انتخاب کیا ہے۔ گہرے زرد رنگ پیپلم ٹاپ کی خاص بات اِس کی بیل شیپ سلیوزہیں، ساتھ سرمئی و سیاہ رنگ کے پرنٹڈ اسکارف کا استعمال کیا گیا ہے۔

موسمِ سرما کے ایک اورخُوب صورت، آرام دہ لباس میں ویلوٹ کی ہُوڈی کا رنگ گہرا گلابی، جب کہ پینٹ ہلکے گلابی رنگ کی اور بناوٹ میں ڈھیلی ڈھالی ہے۔ شال یا اسکارف کا رنگ بنیادی طور پر سُرخ ہے، جس کے درمیان نیلی، پیلی پیٹیوں کا روائتی ڈیزائن نمایاں ہے۔ پھر بنانا شیڈ ٹاپ، ہائی نیک اسٹائل ہے، جس کے گلے پر چُنیں اور وہی ڈیزائن آستینوں پر ہے۔ ساتھ گہرا سرخ رنگ پلازو ایک پُرکشش، متوجّہ کرنے والا کنٹراسٹ ہے، جب کہ اس لباس کی اصل خاصیت، شال ہے، جو ایک حسین کامبی نیشن اور کنٹراسٹ کا مجموعہ ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید