ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ایک اینیمیٹڈ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے دنیا بھر کے صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
’خامنہ ای اِز بیک‘ کے عنوان سے جاری اس 2 منٹ 45 سیکنڈ کی ڈرامائی اینیمیشن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ کے آخری لمحات اور ان کے نظریاتی تسلسل کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ویڈیو کا آغاز ایک پُرسکون اور جذباتی منظر سے ہوتا ہے، پہلے منظر میں رہبرِ اعلیٰ کو اپنی رہائش گاہ کے صحن میں ٹہلتے ہوئے دکھایا جاتا ہے کہ اسی دوران ان کی نواسی قریب آتی ہے، نواسی رینگتے ہوئے ان کے پاس پہنچتی ہے اور انہیں گلے لگا لیتی ہے۔
چند لمحوں بعد فضا یکسر بدل جاتی ہے، منظر آسمان کی طرف منتقل ہوتا ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی لڑاکا طیارے سُپریم لیڈر کی رہائش گاہ کی جانب بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، ہدف کو لاک کیا جاتا ہے اور میزائل داغ دیے جاتے ہیں، چند ہی سیکنڈ میں ایک بڑا دھماکا کمپاؤنڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور پورا علاقہ ملبے اور دھوئیں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد کہانی ایک اور منظر میں منتقل ہوتی ہے جہاں امریکی صدر ٹرمپ میز پر بیٹھے نظر آتے ہیں، اسی دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو وہاں پہنچ کر حملے کی خبر دیتے ہیں، دونوں رہنما کمپاؤنڈ کی تباہی کی اطلاع سن کر مطمئن اور مسکراتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں، تاہم کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
تباہ شدہ کمپاؤنڈ میں ملبے کے درمیان خاموشی چھا جاتی ہے اور گرد بیٹھنے لگتی ہے، اچانک ملبے کے بیچ سے ایک ہاتھ نمودار ہوتا ہے، ایک شخص ملبے سے باہر نکلتا ہے اور اس مخصوص سرخ پتھر والی انگوٹھی تک پہنچتا ہے جو علی خامنہ ای سے منسوب دکھائی گئی ہے، وہ انگوٹھی اٹھا کر اپنی انگلی میں پہن لیتا ہے۔
بعد ازاں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مجتبیٰ خامنہ ہیں، جنہیں قیادت کے تسلسل کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ ملبے کے درمیان کھڑے ہو کر ایرانی پرچم بلند کرتے ہیں، جو حملے کے باوجود ریاست کی بقا اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو کے آخری مناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک فون کال موصول ہوتی ہے، جیسے ہی وہ فون اٹھاتے ہیں، ایک آواز سنائی دیتی ہے ’خامنہ ای واپس آ گئے ہیں‘ اس پیغام پر ٹرمپ کو حیرت اور خوف کے عالم میں دکھایا گیا ہے۔
منظر تبدیل ہوتا ہے اور زمین کے اندر سے میزائل نمودار ہوتے ہیں اور بیک وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب فائر ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جو طاقتور جوابی کارروائی کی علامتی تصویر پیش کرتے ہیں۔
مذکورہ ویڈیو جاری ہوتے ہی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گئی ہے۔
جس کے مناظر اور اسکرین شاٹس وسیع پیمانے پر شیئر کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعدد صارفین اس کی کہانی، علامتی انداز اور مزاحمت کے پیغام کو سراہ رہے ہیں۔