ایران گزشتہ دنوں اپنے بدترین دَور سے گزرا کہ ریال کی غیر معمولی گراوٹ، افراطِ زر کی بلندی اور تباہ کُن منہگائی کے نتیجے میں شروع ہونے والے احتجاجی ہنگاموں نے پورے مُلک کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ ایک ڈالر، 14لاکھ ریال سے زیادہ تک جا پہنچا اور افراطِ زر50فی صد بڑھ گیا۔ احتجاج کرنے والوں میں دُکان دار، طلبہ، عام شہری، گویا سب ہی شامل تھے۔
اِس احتجاج نے دیکھتے ہی دیکھتے خون ریز جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی اور مختلف اداروں کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی جو تعداد سامنے آئی، وہ نہایت خوف ناک تھی۔ ایرانی حکّام کے مطابق، ہلاک شدگان میں شہریوں کے ساتھ، سیکیوریٹی فورسز کے اہل کار بھی شامل تھے۔ اِس دوران ہزاروں افراد گرفتار بھی کیے گئے۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامے امریکا اور اسرائیل کی شہہ پر ہوئے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ تیس فی صد لوگوں کے مطالبات جائز ہیں، جب کہ باقی افراد بیرونی دشمن کے اُکسانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اِن ہنگاموں کے دَوران صدر ٹرمپ بار بار خبردار کرتے رہے کہ اگر احتجاج کرنے والوں پر گولی چلائی گئی یا پھانسی دی گئی، تو امریکا کارروائی کرے گا۔
ایک موقعے پر ایسا لگا کہ بس اب امریکا، ایران پر حملہ کرنے ہی والا ہے، مگر پھر اچانک صدر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایرانی حکّام نے مظاہرین پر گولیاں نہ چلانے اور اُنھیں پھانسی نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ یوں امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کا خطرہ ٹل گیا۔
اِس ضمن میں بتایا گیا کہ سعودی عرب، قطر اور تُرکیہ نے بھی حملہ روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، یہاں یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ گزشتہ برس بھی صدر ٹرمپ نے مختلف یقین دہانیوں کے باوجود اچانک ایران پر ہلّا بول دیا تھا، اِس لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں امریکا، ایران تنازع کیا رُخ اختیار کرے گا۔ عین ممکن ہے، جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں، ایران پر امریکا کا حملہ ہوچُکا ہو اور حالات یک سر تبدیل ہوچُکے ہوں۔ واضح رہے، یہ تجزیہ16 جنوری تک کی صُورتِ حال کی بنیاد پر ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی اقتصادی صُورتِ حال خراب ہوتے ہوتے اس مقام تک پہنچ چُکی ہے کہ عام افراد کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ سرکاری کرنسی اپنی قدر پچاس فی صد سے بھی زیادہ کھو بیٹھی، جب کہ وہ انقلاب کے وقت70 ریال فی ڈالر تھی اور اب پندرہ لاکھ ریال، ایک ڈالر کے برابر ہیں۔ افراطِ زر میں اضافے کے سبب کھانے پینے کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دُور ہوگئیں۔
ایران کو اِن حالات تک پہنچانے میں جہاں امریکا اور یورپ کی جانب سے عاید کردہ معاشی پابندیاں شامل ہیں، وہیں حکومتوں کی نا اہلی اور حکّام کی کرپشن بھی کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں، کیوں کہ یہ صُورتِ حال ہفتوں یا مہینوں کی بات نہیں، ایران کو یہ اقتصادی روگ گزشہ بیس سال سے کم زور کر رہا ہے۔ دو دہائیوں سے ہر الیکشن کا مرکزی ایشو ایک ہی ہوتا ہے، یعنی اقتصادی حالات، لیکن کوئی بھی حُکم ران بہتری کے لیے کچھ نہیں کرسکا۔
حسن روحانی نے، جو اصلاح پسند صدر تھے، امریکا، یورپ، روس اور چین سے نیوکلیئر ڈیل کر کے ایرانی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کی اور وہ 40ارب ڈالرز حاصل کیے، جو منجمد تھے۔ کچھ تجارت شروع ہوئی، پابندیاں نرم ہوئیں، لیکن اُن کے جانے کے بعد پھر سب خراب ہوگیا۔ بعدازاں، ٹرمپ نے اِس ڈیل کو غلط کہہ کر امریکا کو اِس معاہدے سے نکال لیا اور یوں ایران کی مشکلات مزید بڑھ گئیں کہ اِس کے بعد عاید ہونے والی اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
ایران دنیا کا چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے، تاہم پابندیوں کی وجہ سے وہ یہ تیل کُھلی منڈی میں فروخت نہیں کرسکتا۔ اس کے مرکزی بینک پر بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید ہیں۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے نظریاتی معاملات، خارجہ امور اور فوجی طاقت پر تو بہت توجّہ دی، لیکن عوام کے بنیادی مسئلے، معاشی صُورتِ حال کو نظر انداز کیا، جس کا نتیجہ بار بار ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی شکل میں ظاہر ہوتا رہا۔
ایرانی انقلاب کو46سال ہوچُکے ہیں، جس میں سے 35برس 86سالہ سپریم لیڈر، علی خامنہ ای کے بھی شامل ہیں۔ ایران کو جہاں اقتصادی مسائل کا سامنا ہے، وہیں نیوکلیئر پروگرام بھی اس کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنائے گی۔2015ء میں ایران کی عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک نیوکلیئر ڈیل ہوئی، جس کے نتیجے میں اس نے یورینیم افزودگی پانچ فی صد کردی۔
ایران کے عرب پڑوسیوں کو بھی اس کے ایٹمی پروگرام پر تحفّظات ہیں، جب کہ اسرائیل تو اِس معاملے پر اس سے جنگ بھی لڑ چُکا ہے۔ ایران میں سیاسی انتخابات تو ہوتے ہیں، لیکن سیاسی جماعتیں وجود نہیں رکھتیں۔ وہاں صدر اور اسمبلیوں کا الیکشن ہوتا ہے، جس کے لیے اُمیدواروں کو80 رُکنی رہبر کاؤنسل سے، جس کے سربراہ سپریم لیڈر ہیں، کلیئرنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ صدر مُلکی معاملات دیکھتے ہیں، تاہم اصل اور فیصلہ کُن طاقت سپریم لیڈر ہی کے پاس ہے۔
اِسی طرح فوجی طاقت، پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے، جو سپریم لیڈر کی وفادار اور انقلاب کی نگہہ بان ہے، جب کہ ایران کی باقاعدہ فوج کا کردار محدود ہے۔ ایران کے دوسرے طاقت وَر شخص پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، جنرل قاسم سلیمانی تھے، جو ایران پر سخت اندرونی گرفت اور جارحانہ خارجہ پالیسی کے حامی تھے، جس کا دائرہ مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک پھیلا ہوا تھا۔ ایران کی پراکسی ملیشیاز بھی اُنہی کی پالیسی پر چلتیں اور یمن سے شام تک، اِن ملیشیاز کی کارروائیاں جاری رہیں۔
خاص طور پر شام میں ایرانی مداخلت اور بشار الاسد کی حمایت اِسی پالیسی کا نتیجہ تھی، جہاں گیارہ سالہ خانہ جنگی میں پانچ لاکھ سے زاید شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے، جو آج تک شام سے ملحق ممالک کی سرحدوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ قاسم سلیمانی لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کو بھی کنٹرول کرتے رہے، جب کہ یمن کے حوثی باغی اُنہی کی سرپرستی میں مُلک کے ایک حصّے پر قابض رہے۔ ماہرین کے مطابق، جنرل قاسم سلیمانی اپنی جارحانہ پالیسی کے ذریعے ایرانی انقلاب کو مشرقِ وسطیٰ تک پھیلانا چاہتے تھے، جس میں ایران کے سخت گیر مذہبی لیڈر اُن کے ہم نوا تھے۔
اُن کا ایرانی سیاست، فوجی امور اور اقتصادی معاملات میں فیصلہ کُن کردار رہا۔ ٹرمپ کے پہلے دَور کے آخری سال جنرل سلیمانی کو عراق میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا اور یہیں سے موجودہ ایرانی حکومت کی شدید مشکلات کا آغاز ہوا۔ حماس کا 7اکتوبر کا حملہ دوسرے فیز کی شروعات تھیں۔ یہ حملہ یوں لگتا ہے کہ بغیر پلاننگ اور فوجی حقیقتوں پر نظر رکھے بغیر کیا گیا۔
حملہ تو ایک دن ہوا اور اسرائیل کے بارہ سو افراد ہلاک ہوئے، لیکن غزہ کی جنگ دو سال جاری رہی۔ غزہ کا دردناک باب، انسانیت کا المیہ بن گیا، جس میں ستّر ہزار شہری شہید اور لاکھوں زخمی ہوئے، جب کہ غزہ کھنڈر بن گیا۔ بڑی مشکل سے امریکی صدر کی مداخلت پر وہاں سیز فائر ہوا۔ غزہ کی جنگ کے سائیڈ ایفیکٹس ایران اور اُس کی پراکسی ملیشیاز کے لیے شدید مشکلات لائے۔
اسرائیل نے حزب اللہ، حوثی باغیوں اور حماس کی تمام ٹاپ لیڈر شپ ختم کرڈالی، جن میں حسن نصراللہ اور اسماعیل ہانیہ جیسے بڑے لیڈر بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کی پراکسی ملیشیاز کا باب مشرقِ وسطیٰ میں ختم ہوگیا، کیوں کہ وہ عسکری طور پر غیر مؤثر ہوگئے۔ پھر مئی کی اسرائیل، ایران جنگ میں ایران کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ امریکا نے بڑے بم گرا کر اس کا نیوکلیئر انفرا اسٹرکچر تباہ کر دیا۔
نیز، اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز نے ایرانی فوجی لیڈر شپ کو، جس میں آرمی اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بھی شامل تھے، نشانہ بنایا گیا۔ اس جنگ میں ایران عسکری طور پر بھی بہت کم زور ہوگیا، جب کہ دوسری طرف اقتصادی پابندیاں بھی دن بہ دن سخت ہوتی چلی گئیں۔ اس کے قریبی حلیف چین اور روس تھے۔ روس ماضی میں عسکری طور پر اس کی مدد کرتا رہا تھا، جب کہ چین اور بھارت اس سے تیل خریدتے رہے، لیکن جنگ میں کسی نے بھی ایران کی عملی مدد نہیں کی، حلیف ممالک صرف بیانات دیتے رہے۔
ایران نے پابندیوں کے بعد اندرونِ مُلک انڈسٹریز کو بہت فعال کیا، اِسی لیے وہ جنگ کو برداشت تو کر گیا، لیکن مسلسل جنگی حالت اور پابندیوں نے اسے آہستہ آہستہ کم زور کردیا۔ اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ جغرافیائی طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجِ عرب کے دہانے پر ہونا اور بحرِ ہند میں چابہار جیسی بندرگاہ رکھنا، اس کی جیو اسٹریٹیجک پوزیشن کو مضبوط بناتا ہے، تاہم کم زور اقتصادی قوّت کے باعث فوائد حاصل نہ ہوسکے، جس کا اعتراف خود موجودہ ایرانی صدر اپنی الیکشن مہم میں کرتے رہے۔
ان کا منشور تھا کہ مغربی اور دنیا کے دوسرے ممالک سے تعلقات معمول پر لائے جائیں گے اور معیشت بہتر بنائی جائے گی۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایران، عرب مقابلہ، مشرقِ وسطیٰ کا سب سے اہم موضوع تھا، پھر چین کے صدر، شی جن پنگ نے ذاتی دل چسپی لیتے ہوئے پندرہ سال بعد سعودی عرب اور ایران میں سفارتی تعلق قائم کروا دیے۔
یہ مسلم دنیا کے لیے ایک بھی بہت اچھی خبر تھی اور خیال تھا کہ اب نیوکلیئر ڈیل کی طرف پیش رفت ہوگی، لیکن ٹرمپ کی کُھلی پیش کش کے باوجود، ایرانی حکومت نے اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔ غالباً اُس کے سخت گیر عناصر اس کے حق میں نہ تھے، لیکن اس کا نتیجہ ایران کے حق میں اچھا نہ نکلا۔ وہ تنہائی کا شکار ہوگیا اور اُسے جنگ کا بوجھ بھی اُٹھانا پڑا۔ یورپی ممالک نے بھی اس پر پابندیاں عاید کر دیں، جس سے اقتصادی زوال مزید گہرا ہوا۔ ریال شدید دبائو میں آیا اور بالآخر ڈھے گیا۔
ایرانی انقلاب نے بادشاہت کا خاتمہ کر کے مُلک کو ایک نئے دَور اور نظام سے روشناس کروایا۔ جو ایرانی ماڈل سامنے آیا، اُس میں مذہبی لیڈرشپ ہی کو اصل طاقت حاصل ہوئی۔ صدر اور اسمبلیاں اُن کی مرضی کے بغیر کچھ نہ کرسکے۔ حکومت نے اقتصادی تباہ حالی اور عوام کے غیر مطمئن ہونے کے واضح اشاروں کے باوجود، جو وقتاً فوقتاً مظاہروں کی شکل میں سامنے آتے رہے، ایسا کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا، جس سے عوام کی حالت میں بہتری آتی۔
ایران میں سیاسی طور پر دو کیمپ ہیں۔ ایک طرف سخت گیر مذہبی لیڈر شپ ہے، جسے سپریم لیڈر کی آشیر باد حاصل ہے اور جسے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فوج طاقت دیتی ہے۔یہ کیمپ انقلاب میں کوئی ترمیم برداشت کرنے پر آمادہ نہیں، جب کہ دوسرا گروپ اصلاح پسندوں کا ہے، جن میں موجودہ صدر بھی شامل ہیں۔ دیگر بڑے نام حسن روحانی اور ہاشمی رفسنجانی وغیرہ کے ہیں۔ حسن روحانی اور ہاشمی رفسنجانی ایران کے صد رہ چُکے ہیں۔
ان کی کوشش تھی کہ یورپ اور امریکا سے تعلقات معمول پر لا کر تمام تر توجّہ اقتصادی حالات کی بہتری پر مرکوز کی جائے۔ مذہبی سخت گیری کم کرتے ہوئے، سماجی و معاشرتی پابندیاں نرم کی جائیں۔ یاد رہے، ایران کی زیادہ تر آبادی تیس سال سے کم عُمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہوں نے ایرانی انقلاب دیکھا اور نہ ہی اُس میں اُس طرح حصّہ لیا، جس طرح سخت گیر لوگوں نے لیا۔ یہ نوجوان ایک اچھی زندگی کے خواہاں ہیں، اِسی لیے احتجاجی مظاہروں کے لیے بڑی تعداد میں باہر نکلتے ہیں۔
پھر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ایران اپنے زمانے کا سُپر پاور ہی نہیں، ایک شان دار تہذیب کا بھی امین تھا۔ ایرانیوں کی مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں بہت اہم شناخت ہے، لیکن ایرانی انقلاب نے اِس شناخت پر، مذہبی شناخت کو فوقیت دی۔ ایرانی اچھے مسلمان ہیں اور مسلم اُمّہ کا اہم اور طاقت وَر حصّہ بھی۔تاہم، وہ اپنی ایرانی شناخت اور تہذیب پر فخر کرتے ہیں۔ گو، موجودہ حکومت نے ایرانی شناخت بحال کرنے کی کچھ کوششیں کیں، لیکن شاید اب بہت دیر ہوچُکی ہے۔ ایران ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔
بدلتے حالات کے پس منظر میں ایرانی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا خواہ کچھ بھی انجام ہو، مگر اب ایران ویسا نہیں رہے گا، جیسا ماضی قریب میں تھا۔ ایران میں پہلی بار احتجاجی مظاہرے نہیں ہوئے، اِس سے پہلے 2009ء، 2019ء اور 2022 ء میں متنازع انتخابات، منہگائی اور خواتین کے حقوق کے ایشو پر بھی شدید مظاہرے ہوچُکے ہیں، جن میں ہلاکتیں بھی ہوئیں، لیکن حکومت نے اُنہیں آہنی ہاتھوں سے کچل دیا اور نظام کو نقصان نہ پہنچا۔
اِس مرتبہ مظاہرے خطرناک رُخ اختیار کرگئے اور خود حکومت کو اپنی بقا کی جنگ لڑنی پڑی۔ خواہ اِس کے پیچھے عوامل کچھ بھی ہوں، اِس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک پُرامن اور مستحکم ایران پورے خطّے کی ضرورت ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کسی قسم کی بیرونی مداخلت نہ ہو۔ نیز، ایرانی حکومت بھی اپنی پالیسیز پر نظرِثانی کرے۔