مجھے یقین ہے کہ اردو زبان کے ایک لفظ دادا سے آپ بخوبی واقف ہونگے۔ کچھ سیانوں نے نہ صرف لفظ دادا سنا ہوگا، وہ لفظ دادا کی جغرافیائی اور تاریخی ہیئت سے بھی واقف ہونگے۔ لفظ دادا ہر لحاظ سے بڑا معتبر لفظ ہے۔ جہاں جہاں دادا کی فرماں روائی ہوگی وہیں دادا کی حکم رانی ہوگی۔ ایک لحاظ سے عملداری ہوگی، سلطنت ہوگی۔ آپ دادا لفظ کی صحیح معنوں میں سرداری ، غلبہ اور تسلط دیکھ سکیں گے۔ آج میں آپ سے پاکستان کے سب سے بڑے دادا کے بارے میں باتیں کروں گا۔ باتیں کرنے اور باتیں بنانے کا مجھے موروثی مرض لگا ہوا ہے۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا مرض نہیں ہوتا۔ لگ جائے تو نسل درنسل قائم اور دائم رہتا ہے۔ لگ جائے تو آپ اپنے آپ کو طرم خان سمجھنے لگتے ہیں اور باقی دنیا کو احمق اور پاجی سمجھتے ہیں۔ آپ چاہے میٹرک فیل ہوں، آپ یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بانٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس دوران وائس چانسلرز پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز آپ کے سامنے اور آپ کے آس پاس ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسا ہی ہے، جیسے آپریشن تھیٹر میں کمانڈر آپریشن کررہا ہو، اور بڑے بڑے سرجن ہاتھ جوڑ کرتماشہ دیکھ رہے ہوں۔ ایسے میں آپ تعلیمی نظام پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ اس نوعیت کی تضحیک کو عام طور پر دادا گیری کہا اور مانا جاتا ہے۔
دادا خود پیدا نہیں ہوتے۔ آپ کو دادا بننے کے لیے حالات سازگار ملتے ہیں۔ حال ہی میں ایک اعلیٰ عدالت کے جج کا کیس ہمیں میڈیا یعنی اخباروں میں پڑھنے کو ملا ہے۔ کھوج لگانے والوں نے آخرکار کھوج لگالی کہ جج صاحب کے پاس جعلی ڈگری تھی۔ جعلی ڈگری کے بل بوتے پر جج صاحب چھوٹے موٹے مجسٹریٹ، سیشن جج بنتے بنتے اعلیٰ عدالت میں جج کے عہدے تک پہنچے۔ ان تیس برسوں میں کھوج لگانے والے ذہین کھوجیوں کو پتہ نہیں چل سکا کہ جج صاحب موصوف کی ڈگری جعلی تھی اور وہ ڈگری کراچی یونیورسٹی نے جاری کی تھی۔ اب جو ہونا ہے، وہ سب کچھ ہوتا رہیگا۔ اب جب کہ یہ کیس عام ہوچکا ہے، ہم عام آدمی کچھ عام سے سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ہم عام سے آدمیوں کے عام سے سوالوں کا تحفظ کسی بھی آئین میں نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے عام سے آدمیوں کو عام سے سوال پوچھنے کے حق کا تعین خود کرنا پڑے گا۔ ان سوالوں کے جواب کون دے گا؟ میں نہیں جانتا۔ سنا ہے کہ عام سے سوال پوچھنے والے عام آدمی، خاموش رہنے والے عام آدمیوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیے جاتے ہیں۔ سنا ہے کہ عام آدمی عام ساسوال پوچھنے کے بعد سب کے لیے خود سوال بن جاتا ہے۔ آپ پوچھتے رہ جاتے ہیں کہ جس عام آدمی نے ابھی ابھی ایک عام سا سوال پوچھا تھا، وہ شخص کہاں غائب ہوگیا؟ اس کارستانی کو ہم عام آدمی دادا گیری کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک عام آدمی کا جعلی ڈگری کے بل بوتے پر بڑی عدالتوں کاجج بن جانا بھی دادا گیری ہے۔ اسی طرح ایسا ایک ادارہ جس کاکام سرکاری سطح پر ہونے والی چار سوبیسی کو بے نقاب کرنا ہے، اس کی معنی خیز خاموشی بھی لوگوں کو خوفزدہ کرنے والی دادا گیری ہے۔ دادا گیری کو پکڑنے والوں کی خاموشی اعلیٰ درجے کی دادا گیری کے زمرے میں آتی ہے۔
سنا ہے کہ سرکاری اداروں میں کرپشن کو روکنے کے لیے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کھولا گیاتھا۔ ادھر ادھر سے سنا ہے کہ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ میں ہونیوالی کرپشن نے سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ کھلاڑیوں کا ایک قول مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔’’ ریکاڑد بنتے ہی ٹوٹنے کیلئے ہیں‘‘۔جعلی ڈگری والے جج کے حوالے سے ہم عام آدمی، عام ساسوال اٹھاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم عام آدمی، عام سا سوال پوچھنے کے بعد ہم روزمرہ کی طرح بکروں کیلئے چارا اور اپنے لیے آلو اور پیاز خریدنے کیلئے مارکیٹ جائینگے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد لوٹ آئینگے۔ ہم عام آدمی گم یعنی غائب نہیں ہونگے۔
انگریزی زبان کا ایک لفظ ہے incompetentسادہ سا معنی ہے ناقص، نالائق، نااہل، ناقابل وغیرہ۔ آپ نے بیس تیس برس لگا دئیے یہ معلوم کرنے میں کہ ایک چالاک شخص جعلی ڈگری کے بل بوتے پر تیس برسوں سے قانونی فیصلے سنارہا ہے۔ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ جعلی ڈگری رکھنے والے مصنف کے فیصلے قانونی حیثیت کے اعتبار سے صحیح ہونگے؟ ان فیصلوں میں کوئی جھول نہیں ہوگا؟ جعلی ڈگری رکھنے والے جج کے فیصلے کس حیثیت سے جائز مانے جائیں؟ جعلی ڈگری رکھنے والے مصنف نے کسی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک شخص کو دس سال قید با مشقت دی تھی۔ آپ نے اپنی جاں فشانی سے پتہ چلا لیا کہ جج صاحب کے پاس جعلی ڈگری تھی تب تک سزا یافتہ ملزم اپنی زندگی کے آٹھ سال جیل میں کاٹ چکا تھا۔ آپ اس کے آٹھ برس کو کیسے واپس کریںگے؟ ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے ملزم کو موت کی سزا سنائی تھی۔ جعلی ڈگری رکھنے والے جج کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم کو پھانسی دے دی گئی۔ اب جب کہ آپ نے کھوج لگالی ہے کہ جج صاحب کے پاس جعلی ڈگری تھی، تب آپ ملزم کو کس طرح زندہ کرکے اس کے ضائع شدہ آٹھ سال اس کی عمر میں شامل کریں گے؟اگر کسی روز آپ نے جاننے کی کوشش کی کہ جعلی ڈگری والے جج نے تیس سال کی ملازمت کے دوران کتنے ہزار فیصلے سنائے تھے، تب آپ غش کھاکر گر پڑیں گے۔مانا کہ جعلی ڈگری والا معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ مگر اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے دیر جوآپ نے جعلی جج کو پکڑنے میں لگادی۔ کھوئی ہوئی زندگیاں آپ واپس نہیں لاسکتے۔