روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں جامعہ کراچی کی اراضی پر قبضے اور پیٹرول پمپ کی غیر قانونی تعمیر کی خبروں پر اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا۔
ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی نے جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کردیا ہے۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر شرقی کے دفتر سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دستخط سے باقاعدہ خط بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول پمپ کا این او سی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے خط اور مختیار کار کی رپورٹ کے ضمن میں منسوخ کیا گیا ہے۔
این او سی کی منسوخی کے خط میں کہا گیا ہے کہ سیکٹر 22 اسکیم 33 تعلقہ گلشن اقبال ڈسٹرکٹ ایسٹ حافظ پیٹرول پمپ کی این او سی جو اس سے قبل جاری ہوئی تھی اب منسوخ کردی گئی ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کے مطابق ڈپٹی کمشنر شرقی نے پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کردیا ہے، جبکہ یونیورسٹی روڈ پر قائم پیٹرول پمپ کو خالی کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اس پیٹرول پمپ کی 33 سالہ لیز کی مدت پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے اور اب اس پر قبضہ ختم کرایا جارہا ہے جبکہ محکمہ بورڈز و جامعات نے یونیورسٹی روڈ پر قائم پیٹرول پمپ بھی خالی کرنے کی ہدایت کر کے رپورٹ مانگ لی ہے۔