• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں سے جلن حسد، شوہر نے 20 سال بیوی سے بات نہ کی

—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

جاپان سے ایک شوہر کے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہ کرنے کی دلچسپ اور عجیب کہانی سامنے آئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں جاپان کے جزیرے ہوکائیڈو سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹی وی پروگرام سے ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔

نوجوان نے مدد مانگتے ہوئے بتایا کہ میرے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن میں نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

 اوکو کاتایاما نامی جاپانی شخص 2 دہائیوں تک اپنی اہلیہ یومی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہا، دونوں نے ایک ساتھ 3 بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی گفتگو ہوئی۔

دونوں میاں بیوں کے درمیان بات چیت بند ہونے کی وجہ کوئی جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ اپنی بیوی کے بچوں پر زیادہ توجہ دینے سے حسد محسوس کرتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ جب بھی اوکو کاتایاما کی بیوی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو وہ عام طور پر صرف ہاں یا ناں میں سر ہلا دیتا یا کوئی بے ساختہ جواب دے دیتا۔

اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اوکو کاتایاما اور یومی کے سب سے چھوٹے بیٹے نے والدین کے درمیان صلح کروانے کے لیے ایک ٹی وی پروگرام سے مدد مانگی۔

شو کی انتظامیہ نے اس جوڑے کی اسی پارک میں ملاقات کروانے کا انتظام کیا جہاں وہ شادی سے پہلے ایک دوسرے سے پہلی بار ملے تھے جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

پارک میں ہونے والی ملاقات کے دوران اوکو کاتایاما نے برسوں کی خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ یومی سے کہا کہ ہماری بات چیت ہوئے خاصہ عرصہ گزر چکا ہے، آپ بچوں کے معاملے میں بہت فکر مند رہتی تھیں اور اب تک آپ نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر چیز کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔

 اوکو کاتایاما نے یہ بھی کہا کہ آپ کو بچوں کی غیر معمولی فکر کرتے دیکھ کر  مجھے حسد و جلن محسوس ہوتی تھی لیکن اب جو ہو گیا میں اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔

دلچسپ و عجیب سے مزید