چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس میں سزائے موت اور فوجداری مقدمے کی جیل اپیلوں کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
سپریم کورٹ اعلامیے میں کہا گیا کہ کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا، مقدمات کی فائلوں پر ٹریکنگ فائلز کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15دنوں میں مکمل ہوجائے گا۔
اجلاس میں سزائے موت اور فوجداری مقدمے کی جیل اپیلوں کاجائزہ لیا گیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے منصب سنبھالا تو سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں، سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 107رہ گئی ہیں۔
26 اکتوبر 2024 سے لے کر اب تک سزائے موت کی 172 نئی اپیلیں دائر ہوئیں، 449 اپیلیں نمٹائی گئیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی زیر التوا تمام اپیلیں اگلے 45 دنوں میں سن کر نمٹائی جائیں گی۔
چیف جسٹس نے جب منصب سنبھالا عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی، 3608 رہ گئی ہیں، عمر قیدکی اپیلوں کو نمٹانے کی ٹائم لائنز سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائیں گی۔
80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز ترجیح بنیادوں پر فکس ہوں گی، اجلاس میں بتایا گیا عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے تک ڈیجیٹلائز ہوچکا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ پر بار کا شکریہ ادا کیا۔