• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025جاری کی جس میں نیپرا نے پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا جسکی ایک وجہ ملک میں بجلی کا فرسودہ ترسیلی نظام (T&D) ہے جسکے باعث عوام کیپسٹی پیمنٹ کی صورت میں جرمانہ ادا کررہے ہیں۔ ترسیلی نظام کی تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے مہنگے پاور پلانٹس سے بجلی سپلائی کی جارہی ہے اور سستے پاور پلانٹس سے بجلی فرسودہ ترسیلی نظام سے سپلائی نہیں کی جاسکتی۔ تھر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو صرف 24 فیصد صلاحیت پر چلایا جارہا ہے۔ نیپرا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 4000 میگاواٹ کی لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن سے صرف 35فیصد بجلی ترسیل ہورہی ہے مگر صارفین کو پورے 4000میگاواٹ کی ٹرانسمیشن لائن کا بجلی ٹیرف ادا کرنا پڑرہا ہے۔ نیپرا کے مطابق 2025میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 41121 میگاواٹ رہی مگر بجلی گھروں کا اوسط استعمال 39فیصد رہا اور پیداواری گنجائش کے مطابق بجلی نہ خریدنے پر کیپسٹی پیمنٹ کا جرمانہ ادا کرنا پڑا جس سے بجلی کے ٹیرف میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بجلی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اپنے ترسیلی ہدف (T&D) نقصانات کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ملک میں اس وقت 10حکومتی کمپنیاں (DISCOS) بجلی ترسیل کررہی ہیں جس میں اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان کی کمپنیوں میں 100 ارب روپے سے زائد کا سالانہ نقصان اور بجلی کی چوری ہورہی ہے جبکہ پشاور، حیدرآباد، کوئٹہ، سکھر، قبائلی علاقوں اور آزاد کشمیر میں بجلی کے نقصانات 489 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس طرح ان بجلی سپلائی کمپنیوں کا مجموعی سالانہ نقصان اور چوری 589 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جنہیں بجلی ٹیرف بڑھاکر صارفین سے وصول کیا جارہا ہے۔ 2025 میں ان ڈسکوز نے تقریباً 400 ارب روپے بجلی کے سرکولر ڈیٹ میں اضافہ کیا جس میں سے صارفین نے ڈیٹ سروس چارجز (DSS) کی مد میں 235ارب روپے ادا کئے۔ ڈسکوز میں ترسیلی نقصانات میں بجلی کی چوری، بلوں کی عدم وصولی، مہنگے امپورٹڈ فیول سے مہنگی بجلی کی پیداوار، اضافی ٹیکسز، کراس سبسڈی، حکومتی مداخلت، سرکاری ملازمین کو مفت بجلی اور سبسڈی دینا شامل ہیں۔ ڈسکوز کے ترسیلی نقصانات کے باعث کچھ روز قبل نیپرا نے 2026 ءمیں گھریلو صارفین کے بجلی کا ٹیرف 47.69روپے فی یونٹ برقرار رکھا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس وقت حکومت گھریلو صارفین کے ٹیرف میں 74ارب روپے سے زائد سبسڈی فراہم کررہی ہے جس کا بوجھ صنعتوں پر ڈالا گیا ہے جسے کراس سبسڈی کہا جاتا ہے یعنی ایک سیکٹر پر اضافی بوجھ ڈال کر دوسرے سیکٹر کو مراعات دینا ہے جو غیر منصفانہ اور فیل ماڈل ہے۔

بجلی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث بجلی کے گردشی قرضوں میں 397ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ڈسکوز میں گورننس کے شدید مسائل ہیں اور صارفین مہنگی بجلی اور خراب سروس کے باعث سولر توانائی کی طرف منتقل ہورہے ہیں لیکن حکومت سولر توانائی کی پیداوار کی حوصلہ شکنی کررہی ہے جس کا ثبوت سولر کی نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی ہے جس میں سولر بجلی 27 روپے سے کم کرکے 10 روپے فی یونٹ خریدنے کی تجویز ہے۔ گزشتہ سال قومی اسمبلی نے حکومت کو سرکاری ملکیت میں چلنے والے اداروں SOEs جس میں ڈسکوز بھی شامل ہے، کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی کا اختیار دیا تھا جسکے تحت تمام ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی کی گئی اور اشتہارات کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر پروفیشنلز کو ان اداروں میں تعینات کرکے ڈسکوز کی کارکردگی کے اہداف دیئے گئے لیکن نیپرا کی 2025 کی حالیہ رپورٹ میں سوائے ایک کمپنی ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) کے علاوہ کوئی ڈسکوز اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکی۔ ان کمپنیوں میں لوڈ شیڈنگ، بلوں کی کم وصولیاں، بڑھتے واجبات بالخصوص T&D نقصانات بڑے مسائل کے طور پر سامنے آئے۔ ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو 11 سے 12 فیصد T&D نقصانات کا ہدف دیا گیا تھا مگر ان کا اوسط ترسیلی نقصان 16 سے 17 فیصد رہا جبکہ بلوں کی وصولی اوسطاً 93.5فیصد رہی، سوائے ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی (میپکو) جسکی وصولی سب سے بہتر101.7فیصد تھی۔ حکومت نے پہلے مرحلے میں 3 بجلی تقسیم کار کمپنیوں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)کی نجکاری 2025ءتک مکمل کرنا چاہتی تھی جو نہیں ہوسکی حالانکہ ان کمپنیوں کی دیگر ڈسکوز کے مقابلے میں کارکردگی نسبتاً بہتر ہے جبکہ بدترین کارکردگی کرنے والی کمپنیوں میں پیسکوز، سیپکو اور کوئیسکو کی نجکاری بعد میں کی جائیگی۔ حکومت کو پی آئی اے کی طرح ان ڈسکوز کی بیلنس شیٹ کو صاف کرنے کیلئے ان نقصانات کو کسی ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کرنا ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر اور نجی سرمایہ کاروں کے 135 ارب روپے میں پی آئی اےکو خریدنے سے یہ امید کی جاتی ہے کہ اگر ان ڈسکوز کی بھی ری اسٹرکچر کرکے نجکاری کی جائے تو نجی شعبہ ان کی خریداری میں دلچسپی لے سکتا ہے۔

تازہ ترین