نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ آپ میری طرح سُپر دادا کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں یا پھر آپ سُپر دادا کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں۔ اتنا بڑا دعویٰ میں نے اسلئے کیا ہے کہ آپ کا اور میرا تعلق ایک ہی نسل، ایک ہی قبیلے ایک ہی برادری سے ہے۔ جس چیز کا اتا پتا نہ ہو، ہم اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اس کی کھوج لگانے اور اس کو سمجھنے کے لئے ہم تمام تر چالاکیاں کام میں لاتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ہم شرلاک ہومز تک کو بلاسکتے ہیں۔ اگر جیب ڈھیلی ڈھالی ہو تو پھر آپ کم خرچ بالانشین محاورے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے دیسی کھوجی ابن صفی کو سُپر دادا کی کھوج لگانے کے لئے کام سے لگاسکتے ہیں۔ مگر یہاں پر میں آپ کو متنبہ کردینا ضروری سمجھتاہوں۔ سمجھ سے بالا تر باتوں کی طرح سپر دادا کے بارے میں کچھ جاننا، کچھ سمجھنا امکان سے بعید ہے۔ ضرورت سے زیادہ تانک جھانک کرنے کے بعد آپ میری طرح اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ سُپر دادا کا وجود ہے۔ مگر ہم عقل، گیان اور ادراک سے محروم باؤلے جان نہیں پاتے کہ سُپر دادا کون ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ یہ تو آپ کی طرح میں بھی جانتا ہوں کہ سپر دادا نے کبھی کسی کالج یا یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی، مگر وہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنے کیلئے قابلِ افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ حرکت بالکل ایسی ہی ہے جیسے کسی صوبے کا وزیراعلیٰ صوبے کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر لگانے کا مجاز ہو۔ سنی سنائی باتوں پر ہم یقین کرتے ہیں اسلئے میں آپ کو سنی سنائی بات سنا رہا ہوں۔ دنیا میں ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے سربراہ صوبے کے کم پڑھے لکھے وزیراعلیٰ لگاتے ہیں۔ صوبے کے نسلی منتخب ارکان نے یہ اختیار آئین میں اپنے وزیر اعلیٰ کو دے رکھا ہے بہرحال یہ ہنر ہمارے ملک کے کسی صوبے کے پاس نہیں ہے۔ ہم باؤلوں کو نامعلوم ممالک کے تکراری پھڈوں سے دور رہنا چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم مگر میں نے سنا ہے کہ دنیا میں اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کا تعین ملک کا میٹرک فیل صدر کرتا ہے۔ مجھے یہ ناقابلِ قبول بات لگتی ہے۔ ایسی بات پر اعتبار ہر گز نہیں کرنا چاہئے۔ دنیا کے کسی ملک کا صدر اڑتی ہوئی چڑیا کے پَر گِن نہیں سکتا۔ عین اسی طرح دنیا کے کسی ملک کا صدر اپنی اعلیٰ عدالتوں کے اعلیٰ ججوں کا انتخاب نہیں کرسکتا۔ نا ممکن کو آپ ممکن نہیں بناسکتے۔ سنی سنائی بات پر اعتبار کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ دنیا بھر میں ہونیوالے تنازعوں میں بنیادی عنصر سنی سنائی تکراری باتیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح میں نے سنا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کے درمیاں ہونے والے دائمی اور دوامی جھگڑوں کے پیچھے ایک معزز اور سُپر دادا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ بھی میں نے سنی سنائی بات آپ کے گوش گزار کی ہے۔ آپ خود فیصلہ کرلیجئے کہ اتنی بڑی بات کا اعتبار کرنا چاہیے یا کہ نہیں۔ کم از کم میں تو سنی ہوئی باتوں کا اعتبار نہیں کرتا۔ اعتبار کرنے کے لئے مجھے ٹھوس ثبوت چاہئے۔
ہم سب کی زندگی میں لازمی طور پر ایک عدد دادا ضرور ہوتا ہے۔ دادا کے بغیر ہماری زندگی ادھوری رہ جاتی ہے۔ عام طور پر دادا ہمارے والد صاحب کے والد ہوتے ہیں۔ ان کے بھی ایک عدد دادا ہوتے ہیں، مگر کہلوانے میں پڑ دادا آتے ہیں، اگر اسی طرح آپ پیچھے پلٹنا شروع کردیں تو آپ کو سُپر دادوں کی مستقل فہرست مل جائے گی۔ درست ہے کہ ہر دادا کا ایک دادا ہوتا ہے۔ وہ پڑدادا اور تڑدادا کہلوانے میں آتا ہے۔ اس کے بعد سُپر دادؤں کی فہرست شروع ہوجاتی ہے۔
عام طور پر دادا دو قسم کے ہوتے ہیں۔ مستند دادا ہمیں اپنے والد کے توسط سے ملتے ہیں۔ ان سے آپ اپنا ڈی این اے DNAشناخت کرواسکتے ہیں۔ اس طرح آپ کو ایک کنبے یا ایک فیملی، خاندان سے متحد اور متفق سمجھا جائیگا۔ اس قسم کے دادا عام طور پر بے ضرر ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی راتوں کی نیند نہیں اڑاتے۔ آپکو اپنے کارناموں سے ڈراتے نہیں ہیں۔ ایسے دادا آرام سے سوتے ہیں اور اپنے بچوں کو آرام سے سونے دیتے ہیں۔ وہ کسی سے ڈرتے ہیں۔ وہ کسی کو ڈراتے نہیں ہیں۔
دوسرے قسم کے دادا جن سے آپ کا DNA نہیں ملتا، سب کو ڈراتے اور خوفزدہ کرتے ہیں۔ وہ خود بھی کسی سُپر دادا سے ڈرتے ہیں۔ سُپر دادا سے بنا کر رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ کوئی بھی دادا صرف اپنے بل بوتے پر دادا گیری نہیں کرسکتا۔ وہ پولیس سے بناکر رکھتا ہے۔ سب کو کھلاتا پلاتا ہے اور چپکے سے ڈکار لے لیتا ہے۔ اس نوعیت کے دادا میں نے اپنے ملک میں بہت دیکھے ہیں۔ بڑا اثرو رسوخ ہوتا ہے ایسے داداؤں کا۔ ان کا زیادہ تر اٹھنا بیٹھنا سیاستدانوں کیساتھ ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کی وجہ سے وہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان لوگوں سے رشتے ناتوں میں بندھ جاتے ہیں۔ اپنی آل اولاد کو سیاست میں لے آتے ہیں۔ انکو اقتدار میں لے آتے ہیں۔ اپنی اولاد کو سمجھاتے اور سکھاتے ہیں کہ حکومت کیسے کی جاتی ہے۔ ایسے دادا کبھی غروب نہیں ہوتے۔ ہر دور میں وہ چمکتے دمکتے رہتے ہیں۔
آخری اور اہم بات۔ سُپر دادا کی صرف ایک پہچان ہوتی ہے۔ آپ اُلٹ پلٹ کر دھرتی آسمان کے چیتھڑے اڑادیں، آپ کو سُپر دادا کیخلاف ایک بھی ثبوت نہیں ملے گا۔ بس، سنی سنائی باتیں حرف آخر نہیں ہوتیں۔