محبّت، ایک لڑکی اور لڑکے کے تعلق تک نہیں محدود
محبّت، ایک آفاقی حقیقت ہے
محبّت کی ہمہ گیری، زمیں سے آسماں تک ہے
ہمیں نفرت سے بچنا ہے، محبّت عام کرنا ہے
محبّت کےاثر انگیز جذبے، زندگی آموز ہوتے ہیں
پیامِ عشق دیتی ہے، محبّت کی سحر خیزی
محبّت کے تحیّر خیز جذبوں میں
شعورِ زندگی بھی ہے، نیا طرزِ سخن بھی ہے
محبّت کی رواں موجیں، ہمیں آواز دیتی ہیں
کھنکتے ساز دیتی ہیں، نئے انداز دیتی ہیں
محبّت، ظلمتوں میں روشنی ہے، زندگانی کی علامت ہے
محبّت، ایک آفاقی حقیقت ہے
محبّت، دھوپ میں سایہ، اندھیرے میں اُجالا ہے
ہمیں یک جان رکھنے کا، یہی تو اِک حوالہ ہے
محبّت کی نشاط انگیزیاں، دل کا نگر آباد رکھتی ہیں
مجھے بھی شاد رکھتی ہیں، تجھے بھی شاد رکھتی ہیں
رقابت رکھنے والوں کو، محبّت کا تصوّر، دو
عداوت رکھنے والوں کو، رفاقت کا تصوّر، دو
محبّت کے لیے اِک دن مقرر کیوں کیا جائے؟
عداوت اور نفرت کا، کوئی اِک دن نہیں ہوتا
محبّت کا فقط اِک دن
محبّت، قید ہوسکتی نہیں، دن اور مہینوں میں
سفر کرتے ہیں اہلِ دل، محبّت کے سفینوں میں
محبّت سارے انسانوں کو یک جا، کر بھی سکتی ہے
محبّت، نفرتوں کے گہرے گھاؤ بَھر بھی سکتی ہے
محبّت کی فراوانی، دِلوں کے زخم بھرتی ہے
محبّت، کوچۂ زندہ دلاں میں، رقص کرتی ہے
محبّت کی زباں میں چہچہاتے ہیں، پرندے بھی
محبّت کے سفرپہ گام زن ہیں، تیرے بندے بھی
محبّت کی سبک لہروں پہ چلنا آگیا جس کو
محبّت کے نئے سانچے میں ڈھلنا آگیا اُس کو
محبّت نے عطا کی آدمی کو تابِ گویائی
نہ ہو کیسے زمانے میں محبّت کی پذیرائی
محبّت کے بنا ہر دن، اندھیری قبر جیسا ہے
محبت کے بناء ہر شب، عذابِ جان لگتی ہے
محبّت کو کسی خانے میں رکھنا اِک حماقت ہے
محبّت، ایک لافانی تصوّر، ایک لافانی حقیقت ہے
مِری اس عہد کے اربابِ دانش سے گزارش ہے
محبّت کے حسیں جذبوں سے دل کو شاد رکھنا ہے
محبّت کے جزیروں کو، سدا آباد رکھنا ہے