چوہدری قمر جہاں علی پوری، ملتان
فکر کو جذبات کی لوری سُنائے آدمی
جب بھی مجبوری کی بیساکھی اُٹھائے آدمی
حُسنِ فطرت کے حوالے کردیا ہے اپنا دل
اپنی سوچوں کی جبیں کو جگمگائے آدمی
دل کی ہر دھڑکن بھی اوڑھے گی لبادہ عشق کا
سانس کی لَے پر کوئی جب گیت گائے آدمی
پالیا جس شخص نے بھی اپنی ہستی کا سراغ
وقت کے جابر کے آگے مُسکرائے آدمی
اپنے سینے میں دبا کر اپنی آہوں کا گلا
کس قدر جنسِ تبسّم کو لُٹائے آدمی
……٭٭……٭٭……
سمیرا
رات اندھیری ہو سکتی ہے
اتنی کیسے ہو سکتی ہے
دل کے اندر بسنے والی
ہستی کیسے کھو سکتی ہے
عشق کا پردہ کُھل جائے تو
زیست بھی آخر رو سکتی ہے
شور زیادہ ہو جانے سے
گُم نامی بھی ہو سکتی ہے
چلتے چلو، بس چلتے جاؤ
آگے منزل ہو سکتی ہے
اندھیاروں سے جتنا لڑو گے
روشنی اُتنی ہو سکتی ہے
……٭٭……٭٭……
جمیل ادیب سیّد
موت کِس کو پھر رہی ہے ڈھونڈتی
زندگی، اے زندگی، اے زندگی
پھر تُجھے آواز یہ دیتا ہے دل
روشنی، اے روشنی، اے روشنی
تُجھ میں پوشیدہ ادائے حُسن ہے
چاندنی، اے چاندنی، اے چاندنی
دُشمنی بہتر ہے تیرے نام سے
دوستی، اے دوستی، اے دوستی
مُجھ کو ہے اِک عُمر سے تیری تلاش
آگہی، اے آگہی، اے آگہی
کیسا دیوانہ بنایا ہے مُجھے
عاشقی، اے عاشقی، اے عاشقی
اِس میں پوشیدہ درندہ ہے جمیلؔ
آدمی، اے آدمی، اے آدمی