وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان انڈس واٹرز ٹریٹی 1960ء کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے، پاکستان پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
انہوں نے آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج کا دن آبی ذخائر کے دیرپا تحفظ اور انتظام کےعزم کے اعادہ کا موقع دیتا ہے، اس سال آج کے دن کا عنوان ’آبی ذخائر اور روایتی علم، ثقافتی ورثے کی پاسداری‘ ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ عنوان ہمیں آبی ذخائر کے ثقافتی پسِ منظر اور اہمیت کی یاد دہانی کرواتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1971ء کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے، یہ عالمی دن اسی معاہدے کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے، آبی ذخائر شدید ماحولیاتی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں کردار ادا کرتے ہیں، یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ ہمارے آبی ذخائرحیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تغیر سے بچاؤ کا باعث ہیں، لاکھوں پاکستانیوں کے لیے آبی ذخائر ذریعۂ معاش اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، آبی ذخائر میں کمی خوراک کی قیمت بڑھنے، سیلاب، خشک سالی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ آبی ذخائر کا تحفظ موسمیاتی تغیر سے بچنے کے لیے ماحولیاتی فریضہ ہے۔
اِن کا عوام الناس کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ آئیں عہد کریں بیش قیمت اثاثے آبی ذخائر کے تحفظ کی بھرپور کوشش کریں گے، پاکستان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی استعمال کے فروغ کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔