ہماری ایسی اوقات کہاں کہ اسرار و رموز کی گتھیاں سلجھانے بیٹھ جائیں۔ جتنا ہمیں سمجھنا تھا، ہم سمجھ چکے۔ اس سے آگے ہمیں کچھ سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ سمجھنے کے لئے ایک بات ہوتی تو ہم اکتفا کرلیتے۔ وہ ایک بات سمجھنے کے لئے ہم زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے۔ بات کی تہہ تک پہنچنے کے بعد دم لیتے ،آپ کی دنیا اسرار اور رموز سے بھری ہوئی ہے۔ آپ کب تک اور کہاں تک باتوں کے انبار سمجھنے کے بعد سنبھال کر رکھتے جاؤگے؟ کام کی باتوں پر توجہ دیں… اور باقی باتوں پر دھول ڈالیں۔ جن باتوں سے آپ کا لینا نہ دینا، ایسی باتوں کو سمجھنے کے لئے سر کھپانے سے کیا فائدہ؟ یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک ہی بات سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یاد رکھیں کہ کوشش کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ محنت کرنے والوں کی جھولی کبھی خالی نہیں رہتی۔ جھولی بھرنے کی بہتات آپ اجمیر شریف پہنچنے کے بعد سنیں گے۔ اور دیکھیں گے۔ خواجہ غریب نواز کے ہاں برصغیر کے لوگ خالی جھولی لے آتے ہیں، اور اپنے مقصد اور مطلب کی چیزیں خالی جھولیوں میں بھر کر لے جاتے ہیں یاد رکھیں کہ اپ کی اپنی خالی جھولی صرف آپ کو دکھائی دیتی ہے۔دوسرا کوئی شخص آپ کی جھولی میں جھانک کر دیکھ نہیں سکتا۔ عین اسی طرح آپ کسی اور کی خالی جھولی میں جھانک کر دیکھ نہیں سکتے۔بظاہر سب کو ایک دوسرے کی جھولیاں خالی دکھائی دیتی ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا دور دراز سے لوگ خالی جھولیاں لیکر اجمیر شریف آتے ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے لدی لدائی جھولیاں بھر کر واپس جاتے ہیں۔ غیب کا علم رکھنے والے بتاتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنی جھولی میں بیٹی نہیں مانگتا خالی جھولی میں اولاد بھر کر لے جانے والے خواجہ غریب نواز سے بیٹے مانگتے ہیں۔ بیٹے لاٹری کی ٹکٹ کی طرح ہوتے ہیں۔ آپ کے کام آتے ہیں۔ یا پھر بیوی کو ساتھ لیکر بھاگ جاتے ہیں۔ ایک شہر میں الگ تھلگ مکان میں رہتے ہیں، مگر آپ کو دیکھنے اور ملنے کی ان کو فرصت نہیں ملتی۔ یاد رکھیں کہ لاٹری سے ہر بار اور ہمیشہ وارے نیارے نہیں ہوتے۔ اکثر اوقات لاٹری آپ کو پھکڑ بھی کرسکتی ہے۔
آج ہم لاٹریوں کی بات نہیں کریں گے۔ اپنی دنیا میں ہم نے ایسے خو ش نصیب بھی دیکھے ہیںہر بار جن کی لاٹری خالی نہیں جاتی کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ وہ لوگ لاٹریاں جیتنے کیلئے اس دنیا میں آتے ہیں۔ میں کچھ ایسے خوش نصیبوں کو جانتا ہوں جن کا سر ہمیشہ کڑھائی میں رہتا ہے۔ انگریز کے دور سے لیکر آج تک وہ لوگ حکومت کرتے آئے ہیں۔ وزارتیںان کے در کی لونڈیاں ہوتی ہیں۔ میں نے کئی سیانوں سے پوچھا ہے کہ سر کڑھائی میں ہونے کے باوجود ان کا نایاب سر سڑ کر پکوڑہ کیوں نہیں ہوجاتا؟ سیانوں نے ملتا جلتا جواب دیتے ہوئے کہا’ محاورہ میں کیا لکھا ہوا ہے کہ سر کڑھائی میں ہوتے ہوئے کڑھائی میں کھولتا ہوا تیل اور کڑھائی کے نیچے آگ جل رہی ہوتی ہے؟‘ تب ہم بائولوں نے سیانوں کو سلام کیا اور قبول کرلیا کہ جب سر کڑھائی میں ہوتا ہے تب کڑھائی کے نیچے آگ اور کڑھائی میں کھولتا ہوا تیل نہیں ہوتا۔ چھوڑیں بیکار کی ان باتوں کو آج ہمیں بات کرنی ہے گم یا غائب ہوجانے کے اسرار پر۔ آپ نے کبھی انہماک یعنی غور سے سوچاہے کہ اچانک گم ہوجانا، غائب ہوجانا کس قدر ڈراؤنا اور بھیانک عمل ہے؟ بھیانک عمل اب ہمارے ہاں عام ہوتا جارہاہے، بلکہ عام ہوچکا ہے، گم ہوجانا، غائب ہوجانا، دو بڑے ہی ڈراؤنے الفاظ ہیں۔ اوسان خطاہوجاتے ہیں۔ دو الفاظ سن کر لوگ سدھ بدھ کھوبیٹھتے ہیں۔ حال ہی کی بات ہے، پچھلے دنوں میں فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے کراچی کی دلفریب پہچان ،بغیر ڈھکن کے گٹر میں گر پڑا تھا۔ اور لوگوں کی آنکھوں سے اُوجھل یعنی غائب ہوگیا تھا۔ ملک میں کھلبلی مچ گئی تھی۔آل انڈیا نے خبر شائع کردی کہ حکومت سے آلو اور پیاز کے بھاؤ پر اختلاف رکھنے والے ایک بیحد عقل مند، دانا روشن خیال، فہم و ادراک والے ذہین شخص کو سرکار نے غائب کروادیا ہے۔ یہ فتنہ خیز خبر مجھے اندھیر ے گٹر میں پڑے ہوئے ملی۔ میں بھڑک اٹھا۔ میں ایک معمولی مچھر…میری ایسی اوقات کہاں کہ حاکم وقت سے اختلاف کرسکوں؟ حاکم وقت کے تنگ جوتوں کی چبھن مجھے اپنے تلووں میں محسوس ہوتی ہے۔ اب چونکہ مجھے گم یا غائب قرار دے دیا گیا تھا، میں نے محسوس کیا کہ مجھے بچانے اور تلاش کرنے کیلئے کوئی عاقل اور بالغ گھر سے باہر نہیں نکلے گا، میں گندے گٹر کی بدبو اور غلاظت میں مرجاؤں گا۔ میں نے ہمت باندھی۔ جتنے پیروں فقیروں کے نام مجھے یاد تھے، ان کا نام لیا، زور لگایا اور گندے گٹر سے باہر نکل آیا۔ گٹر سے باہر آنے کے بعد میں نے آل انڈیا کی ایسی کی تیسی کردی۔ تب جاکر میرے دوستوں اور دشمنوں کو پتہ چلا کہ میں غائب نہیں کیا گیا تھا۔ میں گم بھی نہیں ہوا تھا۔ میں ڈھکن کے بغیر گٹر میں گر پڑا تھا۔ گٹر میں گر پڑنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ گٹر میں گر پڑنا انگریز کی یاد تازہ کردیتا ہے۔ تب سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے گٹروں کے ڈھکن چرائے نہیں جاتے تھے۔ انگریز بڑے بیوقوف تھے۔