• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتشار، اخلافات اور تصادم کی سیاست کا انجام

پاکستان تحریک انصاف اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے اور پارٹی کی غیر فطری قیادت جسمانی انتشار کے بعد ذہنی الجھن کا شکار ہے۔ بظاہر پارٹی کے رویے میں نرمی، احتجاجی سیاست میں کمی اور مفاہمتی اشارے دیکھے جا رہے ہیں، تاہم غور کرنے سے واضع ہوتا ہے کہ یہ تبدیلی کسی نظریاتی ارتقا کی بجائے وقتی سیاسی مجبوریوں کا نتیجہ ہے-

زمینی حقائق یہ ہیں کہ پی ٹی آئی کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ براہ راست تصادم کی سیاست نہ تو عمران خان کی رہائی ممکن بنا سکی اور نہ ہی پارٹی کو منظم رکھنے میں کامیاب رہے- عمران خان کی طویل قید، پارٹی کی تنظیمی کمزوری اور اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ سے محاذ آرائی کے نتائج نے قیادت کو مجبور کیا ہے کہ لہجے میں نرمی لائے تاہم اس نرمی کو جارحانہ سیادت سے مکمل دستبرداری سمجھنا درست نہیں کیونکہ پی ٹی آئی اس وقت دوہری حکمت عملی پر عمل پیرس ہے۔ ایک طرف تو اوپرکی سطح پر دباؤ اور مزاحمتی بیانیہبرقرار رکھا جا رہا ہے، تاکہ کارکنان مکمل طور پر بددل نہ ہوں۔ سیاست میں صحت کا ہمیشہ کلیدی کردار ہوتا ہے اور کامیابی میں مؤثرسیاسی ہتھیار ثابت ہوتا ہے اور پی ٹی آئی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ عمران خان کی آنکھ کی تکلیف کو انسانی ہمدردی، ریاستی ظلم اور مبینہ سازش کے بیانیے میں میں لپیٹ کر عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کی کاششوں کا آغاز ہو چکا ہے-

تاہم 9مئی جیسے واقعات کو دہرانا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہا، ان حالات میں جب پی ٹی آئی 9مئی جیسا انتشار برپا کرنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے بھی ہزار بار سوچے گی کیونکہ پارٹی کے اندر موجود امن پسند اور مثبت سیاست کرنے والوں کی اکثریت نے انتشار کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے معاملات سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے- دوسری طرف پارٹی کے نوجوان کارکن، جن پر پارٹی فعال تصور کی جاتی تھی، سیاسی تھکن اور گھمبیر مایوسیوں کا شکار ہیں جن کی اکثریت پارٹی کی انتشار کی پارلیسی اور کال پر لبیک کہنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ انتشار کی پالیسی پر ریاست ردعمل کہیں زیادہ سخت ہے، جس کے نتیجے میں پارٹی کے اندر بھی خوف اور تقسیم واضع طور پر ظاہر ہو رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی کے بھگوڑوں کی جانب سے اسٹبلشمنٹ کے خلاف منفی بیانیے ضرور تشکیل دئیے جارہے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں عوام کو سڑکوں پر لانے پر لانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں- یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت بھی بیرون ملک مقیم بھگوڑوں کی جانب سے جاری پاکستان اور فوج دشمن بیانیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرنے پر مجبور ہے- عمران خان کی پمز ہسپتال کو "رات کی تاریکی" سے جوڑ کر مشکوک بنانے کی کوشش بھی سیاسی مزاج کا حصہ ہے جس کے تحت پی ٹی آئی ہر ریاستی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ عدالتی اور میڈیکل کی نگرانی میں کیا جانے والا علاج حکومت کے لئے سیاسی طور نقصان کا باعث بننے کی بجائے فائدہ مند ثابت ہوا- اسی لئے یہ منفی بیانیہ پارٹی کے سخت گیر حلقوں تک محدود رہا جبکہ قومی سطح پر اس کی گونج انتہائی محدود سنائی دیتی ہے-

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان خوشگوار ماحول میں ہونے والی غیر متوقع ملاقات نے امید کی چراغ روشن کر دئیے ہیں لیکن ناقدین اس عمل کو پی ٹی آئی کی جزو وقتی اشارہ قرار دے رہی ہے جن کا ماننا ہے پارٹی کا ہر لیڈر سیاسی طور پر اپاہج اور لاغر ہے اور اپنے طور پر عمران خان کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا پالیسی فیصلہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا البتہ اگر عمران خان کی منشا اس میں شامل ہے تو ملک میں سیاسی استحکام کی امید کی روشنی کو بڑھاوا دیا جا سکتا ہے-موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاج نہ صرف مشکل بلکہ سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مکمل منسوخی کے بجائے علامتی، محدود اور کنٹرولڈ احتجاج زیادہ ممکن دکھائی دیتا ہے۔ پارٹی قیادت جانتی ہے کہ ناکام یا کمزور احتجاج اس کے بیانیے کو مزید کمزور کر دے گا۔ امید اور یاس کے اس سیاسی کھیل سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف اس وقت ایک رائے رکھنے والی کوئی متحد نظریاتی جماعت کی حیثیت قائم کرنے کی اہل نہیں بلکہ مختلف سیاسی سوچ اور نظریے رکھنے والے افراد یا جماعتوں کا مغلوبہ ہے، ایک مزاحمتی یا سخت گیر دھڑا بیانیہ بناتا ہے لیکن فیصلہ سازی کی طاقت یا اختیار سے محروم ہے- جبکہ مفاہمتی یا عملیت پسند دھڑا عملی سیاست، قانونی راستوں اور خاموش پیش رفت پر یقین رکھتا ہے اور اس وقت فیصلہ سازی میں زیادہ اثرانداز ہے تو خاموش دھڑا حالات کا رخ دیکھ کر مجبوراً مستقبل کی صف بندی کرے گا اور پارٹی کے دھڑوں کے درمیان اختلافات اور انتشار کا باعث بنے گا-

تازہ ترین