پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارٹی اجلاس میں گرما گرمی ہوئی ہے جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندورنی کہانی سامنے آگئی، جس کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی پارٹی ارکان پر برہم ہوگئے، انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت دوسری طرف پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ہی ہماری تذلیل کرتا ہے۔
معین قریشی نے کہا کہ ہم سب کو اپنی اپنی بساط اور صوبے کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ ہم انسان ہیں، ہر شخص کے ساتھ خوشی غمی ہوتی ہے، اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے نہ آئے تو اس پر سوشل میڈیا پر الزامات لگائے جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر ممبران صوبائی اسمبلی کی تضحیک کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیڈر شپ سے کہتا ہوں کہ ایک طرف حکومت دوسری طرف ہمارا سوشل میڈیا ہی ہماری تذلیل کرتا ہے، ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہم پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کی تقریر کے دوران شیخ وقاص اکرم نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ کیا ہم سب سن سکتے ہیں یا بول بھی سکتے ہیں۔
جس پر معین قریشی نے کہا کہ ہم نے پنجاب کی طرف سے ہر آپشن کو سیاسی کمیٹی کے سامنے رکھا، ہم پوری کوشش کریں گے آپ ہم پر اعتماد کریں۔
فیصل جاوید نے کہا کہ اپنے لوگوں کی نیتوں پر شک نہ کیا جائے، اس اجتماع کو سب سپریم کورٹ کی بلڈنگ تک لے کر جائیں اور وہاں بیٹھ جائیں، ہم سب اپنی جگہ محنت کر رہے ہیں لیکن یہ انداز خدارا مت اپنائیں۔
رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کی سہولیات اور رسائی پارٹی ارکان کی وجہ سے بند ہے، محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے احتجاج سے متعلق ابہام پیدا کیا۔
اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بہت ہوگیا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں یا ان کی فیملی پر جملے کسنے والا پارٹی میں نہیں رہے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے مشعال یوسف زئی کے بیانات پر ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔
مشعال یوسف زئی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے علیمہ خان کو میڈیا پر سیاست سے متعلق بات چیت سے منع کر رکھا ہے، علیمہ خان کی سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو یقیناً اے آئی جنریٹڈ ہوگی، اس لیے وہ اس پر کمنٹ کرنا وقت کا ضیاع سمجھتی ہیں۔