• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی ایپکس باڈی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI) نے اپسوس (Ipsos) کے تعاون سے پاکستان کے پہلے مقامی سروے ’’انڈیکس آف ٹرانسپرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی اِن پاکستان‘‘ ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس اسلام آباد میں لانچ کیا جسکے مہمان خصوصی وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال تھے۔ مجھے بھی اس تقریب میں خصوصی طور پر اسلام آباد مدعو کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں فیڈریشن کے صدر عاطف اکرام شیخ، پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین، وفاقی حکومت کے تمام اہم محکموں کے سربراہان، یوٹیلیٹی اداروں، چیئرمین سی ڈی اے، ڈی جی نیب، ایف بی آر،آئی جی پولیس، کمشنر اسلام آباد، نجی شعبے، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں کے سربراہان، ملکی اور غیر ملکی میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔

ایف پی سی سی آئی اور اپسوس سروے کا مقصد پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے پیمانے کیلئے انڈیکس بنانا تھا۔ یہ سروے حکومت اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کا غیر جانبدارانہ جائزہ پیش کرتا ہے۔ نئے اعداد و شمار کیلئے یہ سروے گزشتہ دو مہینوں دسمبر 2025اور جنوری 2026کے دوران کیا گیا جو سرکاری اداروں کے ساتھ عوامی معاملات پر ایک غیر جانبدارانہ جائزہ فراہم کرتا ہے۔ اس سروے میں 6ہزار سے زائد افراد سے حکومتی اداروں کے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ ایف پی سی سی آئی کے سروے سے پہلے بین الاقوامی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان میں شفافیت، اکاؤنٹیبلٹی اور گورننس پر سفارشات پیش کی تھیں اور ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، نیب، SECP اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) جیسے حکومتی اداروں کے سربراہان کی تقرریوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے جہاں میرٹ اور شفافیت پر سمجھوتہ نظر آتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے سروے کے مطابق پاکستان میں سرکاری اداروں کے امیج اور حقیقت میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان میں 68 فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی اداروں میں رشوت عام ہے جبکہ سروے کے مطابق صرف 27فیصد لوگوں نے بتایا ہے کہ ان سے ذاتی طور پر رشوت مانگی گئی۔

اسی طرح پاکستان میں 56فیصد لوگوں کا یہ تاثر ہے کہ سرکاری اداروں میں اقربا پروری پائی جاتی ہے لیکن سروے میں صرف 24فیصد افراد نے سرکاری اداروں میں اقربا پروری کی ذاتی تجربے کی بنیاد پر تصدیق کی جہاں ملازمتوں میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا۔ 59فیصد پاکستانیوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین غیر قانونی طور پر ناجائز دولت (کالا دھن) بنانے میں ملوث ہیں جبکہ سروے کے مطابق صرف 24 فیصد افراد نے اس بات کی ذاتی طور پر تصدیق کی۔ اسی طرح 67 فیصدافراد میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سرکاری اداروں میں افسران بدعنوانی میں ملوث ہیں لیکن صرف 15.6فیصد افراد اس کی ذاتی طور پر تصدیق کرتے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی سروے میں کچھ حکومتی اداروں کے بارے میں اچھی رائے بھی دی گئی ، جن میں نادرا سرفہرست ہے جبکہ ایف بی آر کے بارے میں رائے اچھی نہیں۔ سروے کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران لوگوں کا سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ تعلق سرکاری اسپتالوں (53 فیصد)، تعلیمی ادارے (34 فیصد)، نادرا (32 فیصد) اور ڈسکوز (13 فیصد) سے رہا جہاں عوام کو رشوت، بدعنوانی اور اقربا پروری کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے رپورٹ میں مختلف صوبوں میں رشوت کے بارے میں عوام کے تاثر میں پہلے نمبر پر سندھ (83 فیصد)، دوسرے نمبر پر بلوچستان (70 فیصد)، تیسرے نمبر پر اسلام آباد (69 فیصد)، چوتھے نمبر پر خیبرپختونخواہ (65 فیصد) اور پانچویں نمبر پر پنجاب (62 فیصد) رہا۔ سروے میں بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف سب سے سرگرم ادارہ نیب ہے جسکے بعد ایف آئی اے اور وفاقی اور صوبائی محتسب کے ادارے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کا ملکی اور غیر ملکی سطح پر کرپشن کے معاملات پر تاثر حقیقت کے برعکس بہت زیادہ ہے جو کہ درست نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایف پی سی سی آئی کی یہ کاوش پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

مجھے اس وقت دلی افسوس ہوتا ہے جب ہمارے اپنے پاکستانی بھائی بہن اپنے ملک کے نقائص بڑھاکر سوشل میڈیا افواہوں اور فیک نیوز کی بنیاد پر ایسی حتمی رائے دیتے ہیں جو 100 فیصد گمراہ کن ہوتی ہیں جس سے ملک کا تشخص بری طر ح متاثر ہوتا ہے اور عوام میں مایوسی پھیلتی ہے۔ اگر ان غیر حقیقی منفی تاثرات کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو یہ ملک میں سرمایہ کاری اور قومی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں لہٰذ ااس تاثر اور حقیقت کے درمیان خلا کو کم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تازہ ترین