• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مدیر: ضیاء الرحمٰن ضیاء

صفحات: 107، قیمت: 500 روپے

برائے رابطہ: 504/A-3الرؤف رائل سٹی، گلستانِ جوہر بلاک-19، کراچی۔

فون نمبر: 2211187 - 0300

’’ادبی ڈائجسٹ‘‘ ایک پُرانا جریدہ ہے، جس نے ضیاء مارشل لاء کے دَوران پابندیوں کا بھی سامنا کیا، مگر اس کی اشاعت کا سلسلہ کسی نہ کسی طرح جاری رہا، تاہم اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جریدے کے مدیر کی ہمّت جواب دینے لگی ہے۔ ضیاء الرحمٰن ضیاء نے ادبی ڈائجسٹ کے تازہ شمارے میں اپنے قارئین اور ادب سے دل چسپی رکھنے والوں کے ساتھ یہ افسوس ناک خبر شیئر کی ہے کہ ’’مشکلات کے باوجود’’ادبی ڈائجسٹ‘‘ اب تک نکالتا رہا۔ 

اِس دوران کچھ اداروں نے سرپرستی بھی کی، مگر خریدار نہ بن سکے۔ اِن حالات میں جریدے کا جاری رہنا ناممکن ہوگیا ہے اور یہ شمارہ شاید آخری شمارہ ہو۔‘‘ البتہ، لفظ’’شاید‘‘ سے یہ اُمید باقی ہے کہ کوئی ایسا سامان ہوجائے، جس سے علم و ادب کی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ تازہ جریدے میں چار، پانچ اشتہارات تو موجود ہیں، لیکن کاغذ، چھپائی، ترسیل سمیت دیگر اخراجات اِس قدر بڑھ چُکے ہیں کہ محض اِتنے اشتہارات سے مالی بوجھ کم نہیں ہوسکتا، جب کہ اب ایسے اشتہارات کے ریٹس بھی خاصے کم ہوچُکے ہیں۔

جہاں تک خریداری کی بات ہے، تو کتابیں اور جرائد مفت وصولنے کا رواج، اب گویا، ادبی روایت بن چُکی ہے۔ کتابوں کی رُونمائی کی تقاریب میں بھی اکثر شرکاء کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ مصنّف سے کتاب ’’ہتھیا‘‘ لی جائے، حالاں کہ اُن میں سے بہت سوں کے لیے ہزار، پانچ سو کی کتاب خریدنا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ آج کل جس طرح کتابیں دھڑا دھڑ مارکیٹ میں آ رہی ہیں، اُن کی ایک بڑی تعداد’’بانٹنے‘‘ ہی کے لیے چھاپی جاتی ہے، مگر خرید کر پڑھنے کے لائق کتب کی بھی کمی نہیں ہے۔ 

ایسے میں ادبی جرائد کی حالت تو مزید دگرگوں ہے کہ اُن کے خریدار سرے سے نظر ہی نہیں آتے۔ اِسی رویّے کے سبب ادبی جرائد ایک، ایک کرکے بند ہوتے چلے گئے اور جو جیسے تیسے چَھپ رہے ہیں، وہ سلسلہ بھی اب لپیٹا جا رہا ہے۔ بڑی ادبی شخصیات، بالخصوص ادبی تنظیموں کو اِس ضمن میں کوئی ٹھوس حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ ادبی رسائل، جو ہماری تاریخ کا حصّہ ہیں، اپنی اشاعت جاری رکھ سکیں۔ 

صرف کراچی شہر میں درجنوں ادبی تنظیمیں موجود ہیں اور اِن میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے، مگر کسی تنظیم نے ادبی رسائل سے متعلق کوئی خاص سنجیدہ قدم نہیں اُٹھایا۔ سب کا اِس معاملے پر صرف’’ڈرائنگ روم بحث مباحثوں‘‘ہی پر زور ہے۔

اِسی طرح متعلقہ حکومتی اداروں اور آرٹس کاؤنسلز وغیرہ کو بھی اِس طرف اپنی توجّہ مرکوز کرنی چاہیے۔ نئے ادبی جرائد جاری نہ بھی کیے جائیں، تو کم ازکم’’ادبی ڈائجسٹ‘‘ جیسے پُرانے جرائد کی مالی سرپرستی کی کوئی راہ تو ضرور نکالی جانی چاہیے۔

سنڈے میگزین سے مزید