تحریر : ثانیہ انور
ماڈل: عائشہ صدیق
ملبوسات: Balreej Fashoins by Bilal
آرائش: Sleek by Annie
عکاسی: ایم کاشف
کوارڈی نیشن: جرار رضوی
لے آؤٹ: نوید رشید
زندگی ایک سیلِ مسلسل، مُداومَت سےرواں دواں ہے اور اس راہ گزرِ حیات کے ہر خم پر مختلف رشتوں، حیثیتوں میں نت نئے لوگوں کی آمد بھی جاری و ساری ہے۔ اب خواہ وہ اسکول، کالج میں کوئی تازہ داخلہ ہو یا دفتر، کام کی جگہ پر کسی نووارد کی تشریف آوری، شادی کے ذریعے جڑنے والے نئے بندھن ہوں یا خاندان میں کسی نومولود کا ظہور۔ ویسے برِعظیم پاک وہند میں اکتوبر تا مارچ کاعرصہ موسمی وثقافتی طور پر ’’شادی بیاہ سیزن‘‘کہلاتا ہے۔
زندگی کی اہم ترین تقریبات کے لیے یہ انتخاب نہ صرف گرمی، حبس سے بچنے کے لیے ہے بلکہ زرعی پس منظرمیں فصل ِخریف کی کٹائی سے کسانوں کو اپنی محنت کا ثمر بھی ملتا ہے۔
تو جہاں اُن کے دل سرسراتی ہوامیں لہلہاتی فصلوں کی سرمستی دیکھ کرخوشی سے جھوم جھوم اُٹھتے ہیں، وہیں اُن کا ہاتھ بھی کُھل جاتاہے۔ سو، وہ شادی بیاہ، تیج تہواروں، جشنِ بہاراں اور بسنت وغیرہ پر خُوب خوش دلی سے خرچ کر پاتے ہیں۔
نیز، اس گہما گہمی کی بڑی وجہ تعطیلات بھی بن جاتی ہیں، کیوں کہ دیارِغیر میں بسے اپنوں کی سال کے اس حصّے میں آمد نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ یوں نہ صرف بچھڑے ہوئے پھر سےآن ملتے ہیں بلکہ اس مِلن رُت میں کچھ نئے رشتے، تعلق بھی بن جاتےہیں۔
جیسے کسی اچھی شخصیت سے تعارف انسان کو جذباتی ومعاشرتی طور پر متحرک کر کے اندرونی مسرت دیتا ہے، ویسے ہی پرانے رابطوں کی بحالی تنہائی کا احساس ختم کر کے زندگی میں ایک نئی توانائی بھرتی ہے۔
زندگانی میں نسیمِ سحر کی سی سبک خرامی سے داخل ہوتے کچھ افراد بہارکی نوید سناتے، نئے امکانات روشن کرتے، ایک نیا نقطۂ نظر دے کر زندگی کو مختلف زاویوں سے دیکھنے، سمجھنے، پرکھنے، برتنے کا شعور دیتے ہیں، تو ساتھ ہی سوچ کو وسعت دے کر نئے افق، نئی گہرائیوں سے بھی روشناس کرواتےہیں۔ بعض اوقات یہ نئے رفیق جذباتی سہارابن کرایسی اپنائیت اور سکون فراہم کرتے ہیں کہ جو مسافتِ روز وشب میں مفقود ہو چُکا ہوتا ہے۔
جیون کے مشکل سفر میں کسی مخلص و ہم درد شخص کا اضافہ گویا اُمید کی ایک کرن بن جاتا ہے۔زندگی بہت بامعنی، بےحد خُوب صُورت لگنے لگتی ہے۔ وہیں یہ خیال پختہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں۔ اور…زندگی میں شامل ہونے والے ایسے افراد کا استقبال شایانِ شان طریقےہی سے ہونا چاہیے، بطورِ خاص نکاح کے مقدّس بندھن میں بندھنے والے جوڑے کا کہ شادی محض دو نفوس کی یک جائی یا دو خاندانوں کا ملاپ نہیں، یہ ایک متوازن گھرانے، صحت مند معاشرے کی قیام کی جانب پہلا قدم بھی ہے۔ سو، دلی گرم جوشی، اگر چہرے پہ سجی مسکراہٹ اور لہجے کی نرمی سے بھی عیاں ہو تو نوخیز رشتے پر گویا عزت و محبّت کی مُہر ثبت ہوجاتی ہے۔
عزیزواقارب کےسامنےایک دوجے کی خوبیاں نمایاں کرنا فطری ہچکچاہٹ اور دباؤ سے آزاد کرکے طرفین کو خُود اعتمادی دیتا ہے، تو ایک دوسرے کے خاندان میں خوش دِلانہ شمولیت، باہمی تعلقات مضبوط کرنے کی پہلی منزل بن جاتی ہے۔ اور اِس ضمن میں عقلِ سلیم بھی، شفیق الرحمٰن کی تقلید کی تائید کرتی ہے کہ وہ اپنی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ میں فرماتے ہیں۔ ’’ہمارا تو ایمان ہے، اپنے شریکِ حیات سے محبّت کرنا، محبّت نہ کرنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔‘‘
بہرکیف، اپنی آج کی بزم کی اَور چلے آتے ہیں کہ جب کرشمۂ روز و شب حیران کیے دیتا ہے، سردیوں کی تنہا سُرمئی شاموں میں کسی ہم دم و دَم ساز کی طلب سر اُٹھاتی ہے یا جب بہار میں چار سُو پھول ہی پھول کھلے دکھائی دیتے ہیں، تو دل میں اُمیدوں، رفاقتوں کے نت نئے شگوفے بھی پھوٹنے، سر اُٹھانے لگتے ہیں۔ اس سمے تخیّل کیا کیا نئے خواب بُنتا ہے، زندگی کس قدر حسین تر نظر آتی ہے۔
کسی دل بر کا رُخِ روشن راحتِ جاں قرار پاتا ہے، تو کسی خوش جمال کی خاطر یا خُود اپنی ہی خوشی کے لیے خُود کو خوب آراستہ و پیراستہ کرنے کو دل مچل مچل اُٹھتا ہے۔ تو ایسے میں ہماری روشن چہرہ ماڈل کے دیدہ زیب پہناوے آپ کو اپنی ضرورت کے مطابق چناؤ کا بہترین موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
ذرا دیکھیے تو بھاری کڑھت سے مزیّن سیاہ رنگ پہناوے کے ساتھ سُرمئی رنگ دوپٹے کی موزونیت اور گہرے زرد رنگ نفیس ایمبرائڈرڈ پہناوے پر دھانی رنگ دوپٹے کا کنٹراسٹ کیسا منفرد و حسین تاثر دے رہے ہیں، جب کہ نگ ورک، ایمبرائڈری، موٹفس اور ٹسلز سے مرصّع آتشی گلابی رنگ ٹراؤزر، قمیص دوپٹے کے حُسن و دل کشی کے بھی کیا ہی کہنے۔ پھر گہرے پِیچ رنگ لباس کو ستارہ ورک سےانتہائی شان دار روایتی سا انداز دیا گیا ہے، تو نیٹ کے اسٹائلش سیاہ لباس پر ساٹن سِلک کا پرنٹڈ، ملٹی شیڈڈ دوپٹا ملبوس کو خاصا ماڈرن لُک دے رہا ہے۔