تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ
ماڈل: عروہ جٹ
ملبوسات: ڈولی کلیکشن
آرائش: دیوا بیوٹی سیلون
عکّاسی: عرفان نجمی
کوارڈی نیشن: عباس شاہ
لے آؤٹ: نوید رشید
افلاطون نے حُسن کوAnamnesis" '' کہا تھا۔ یعنی ’’یادِ ازلی‘‘۔ اس نظریے کے مطابق حُسن (Beauty) صرف ظاہری خُوب صُورتی نہیں، بلکہ ایک ابدی، غیر مادی اور مثالی حقیقت ہے۔ وہ حُسن کو ’’نظریہ مثال‘‘ (Theory of Forms) کا حصّہ مانتے ہیں، جہاں حقیقی حُسن عقل و رُوح سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ جسمانی شکل سے۔ ان کے مطابق، زمینی حُسن صرف عالمِ مثال (World of Forms) کے اعلیٰ حُسن کا عکس ہے۔ جسم میں آنے سے قبل رُوح، مثال کی دنیا میں تھی، جہاں اس نے حُسن، خیر اور حق کو براہِ راست دیکھا۔
دنیا میں آنے کے بعد وہ سب کچھ بھول جاتی ہے اور پھر کسی خُوب صُورت شے، منظر کو دیکھنے کے بعد در آنے والے احساسات کوئی نیا تجربہ نہیں، درحقیقت اِک پرانی یاد کی بےداری ہوتے ہیں۔ اِسی لیے افلاطون نے کہا۔ ’’ہم حُسن کو سیکھتے نہیں، یاد کرتے ہیں۔‘‘ بقول افتخار نسیم ؎ اُس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا…آسماں پہ چاند پورا تھا، مگر آدھا لگا۔ وہیں امانیول کانٹ کا فلسفہ "disinterested pleasure" ہے، جو خُوب صُورتی کا اصل حَظ محض اُس کے پُرشوق دیداراور سراہے جانے کو قرار دیتا ہے، مگر یہ حَظ کسی فائدے یا ملکیت کی خواہش سے مبرا ہو۔
یعنی ہم اُسےچاہتے ہیں، مگر صرف سراہتے ہیں، جب کہ جان رسکن کے’’مورال تھیوری آف بیوٹی‘‘ میں یہ دلیل دی گئی کہ خُوب صُورتی محض موضوعاتی ذائقے یا حسی لُطف کا معاملہ نہیں، یہ ایک گہری اخلاقی، روحانی اور معروضی خوبی ہے، جو خدا کی الوہی فطرت کی عکّاسی کرتی ہے۔ اُنہوں نے ایک ’’منقسم جمالیات‘‘ کی تجویز پیش کی، جو خُوب صُورتی کے تصوّر کو براہِ راست اخلاقی صحت اور مذہبی عقیدت سے جوڑتی ہے۔
مطلب، حُسن بلند آواز سے قائل کرنے کی بجائے، برتاؤ سے اثر ڈالتا ہے اور شائستگی نمائشی کی بجائے فطری ہوتی ہے۔ یوں سمجھیے،احمد فراز کی زبان زدِعام غزل ان تمام فلسفوں کا خلاصہ کرتی معلوم ہوتی ہے ؎ ’’سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں…سو، اُس کے شہرمیں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں…سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں…یہ بات ہے، تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں…سُنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے…ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں…سُنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں…سُنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں…سُنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں…سُنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں…سُنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اُس کی…سُنا ہے شام کو سائے گزرکے دیکھتے ہیں…سُنا ہےاس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں…سو، ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں…بس اِک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا…سو، رہروانِ تمنا بھی ڈرکے دیکھتے ہیں… رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں… چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔‘‘
سو، کوئی ایسا، جس کےنہ اندازمیں دعویٰ ہو، نہ موجودگی بوجھ۔ جس کا ہونا ہی اِک غیرمحسوس سا اطمینان ہو، جیسے شور کے بعد خاموشی بسیرا کرنے آجائے، تو ایسی شخصیت کی سب سے بڑی آرائش تو اُس کا وقار ہی ہوا کرتی ہے۔ اِسی لیے وہ تعریف کی طلب میں نہیں رہتی بلکہ تعریف اُس کے پیچھے چلتی ہے۔ وہ جھیلی ہوئی زندگی کی تہذیب ہوتی ہے، جس کے سامنے ہر روز دھوپ بھی پھیکی پڑجاتی ہے۔
اور…آج کی یہ بزم، آپ کو بھی نازوانداز کے ایسے ہی کچھ گُرسکھانےکو ترتیب دی گئی ہے۔ ذرا دیکھیے، سیاہ رنگ کے فٹڈ ٹاپ کی ایمبریلا سلیوز اور کمر پر باریک الاسٹک smocking کا حسین انداز، جسے باریک چیک دار سُرمئی پینٹ کے ساتھ پہنا اور شوخ گلابی رنگ کے اسکارف سے مزید نمایاں کیا گیا ہے۔
ہلکے گلابی رنگ میں، فر کے سویٹر کے ساتھ جینز کی کُھلے پائنچوں والی پینٹ، لباس کو کیژول کے ساتھ اسٹائلش لُک بھی دیتی نظر آرہی ہے۔ اور پھر سفید و سُرمئی کی آمیزش میں اسٹرائپڈ فر کا ٹاپ بھی، ٹائی اینڈ ڈائی کی ڈینم پینٹ کے ساتھ ایک شان دار کامبی نیشن ہے، جب کہ پینٹ پر ٹائیگر پرنٹ، ڈریس کو قدرے بولڈ ہی نہیں، گرمائش والا لُک بھی دے رہا ہے۔
لائٹ اسکن اور گلابی رنگوں کے ملاپ سے تیار کردہ اسرائپڈسوئیٹر کاشمری لُک، اُسے ایک پارٹی وئیر بنارہا ہے، جب کہ کلاسک ڈینم پینٹ کےساتھ اس کا استعمال روزمرّہ کا بھی مقبول ٹرینڈ ہے۔ لیپرڈ پرنٹ میں، ٹرٹل نیک ٹاپ بھی روایتی ڈینم پینٹ ہی کے ساتھ آزمایاگیا ہے، یہ یقیناً جدید فیشن کا عکّاس ہے۔ اِسے فنکی پارٹیز میں بآسانی پہنا جا سکتا ہے۔ کچھ رنگ کبھی بھی فیشن سے آؤٹ نہیں ہوتے، جیسے سیاہ رنگ، تو کالے رنگ کے سادہ وی نیک ٹاپ کے ساتھ ڈینم پینٹ کا امتزاج بھی خُوب ہے۔ ٹاپ کی بناوٹ میں ہلکاسا ڈیزائن ہے، جو اِسے ہر جگہ ہی پہننے کے لیے بے حد موزوں بنا رہا ہے۔