وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پر خطر مسئلے پر آپ سے مخاطب ہوں، امن کو لاحق خطرات ہم سب کےلیے تشویش کا باعث ہیں۔
قوم سے اہم خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے، مسلح افواج بہادر سپہ سالار کی قیادت میں وطن کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ آئندہ 2 ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50فیصد کٹوتی کی جارہی ہے، تمام محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو 2 ماہ کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 20 گریڈ اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے 2 دن کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی، تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سرکاری دفاتر میں گاڑی، اے سی اور دیگر اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وصوبائی وزرا، مشیران، معاون خصوصی اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر 50 فیصد اسٹاف کام کرے گا، ہفتے میں صرف 4 دن دفاتر کھلیں گے، ہفتے میں 1 دن اضافی چھٹی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فوری طور پر تمام اسکولوں کو 2 ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں، تمام تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو خبردار کرتا ہوں کہ ناجائز منافع خوری نہ کریں، ان کے خلاف کارروائی کے لیے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کردی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر ہوں گے، پاکستان کو اتحاد، قومی یکجہتی کی جتنی آج ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔