مشرقِ وسطیٰ کی بحرانی صُورتِ حال کا ایک بڑا سبب امریکا اور ایران کے درمیان دشمنی کی حد تک پائی جانے والی کشیدگی ہے، جو تقریباً45 سال سے جاری ہے۔ اِس دشمنی سے جہاں علاقے کے عرب ممالک تشویش میں مبتلا رہتے ہیں، وہیں اس سے اسرائیل بھرپور فائدہ اُٹھاتا رہا ہے اور اب بھی فائدہ اُٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
ایسے میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خبر نہ صرف علاقے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر ہے۔ پاکستان کو بھی اِن مذاکرات میں شامل کیا گیا اور یہ واحد مُلک ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اِس سے عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا، ایران اور عرب ممالک پاکستان پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔
پوری دنیا کی یہی خواہش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کام یاب ہوجائیں تاکہ خطّے پر کئی ہفتوں سے ایک اور جنگ کے منڈلاتے بادل چَھٹ سکیں۔تاہم، یہ بھی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں فریقین مذاکرات کی میز سمیٹ کر جنگ کا آغاز نہ کردیں۔ بہرحال، اِن سطور کی اشاعت تک صُورتِ حال بہت حد تک واضح ہوجائے گی کہ امریکا اور ایران مذاکرات کے ذریعے کسے نتیجے پر پہنچتے ہیں یا پھر خطّے کے مقدّر میں ایک اور جنگ لکھی ہے۔
اسرائیل ہمیشہ سے امریکا، ایران دشمنی کی آڑ میں امریکا سے جدید ہتھیار، ٹیکنالوجی اور مالی امداد حاصل کرتا ہے اور پھر اسے بڑی حد تک کُھلی چُھوٹ بھی مل جاتی ہے کہ وہ جہاں چاہے، فوجی جارحیت کرے۔غزہ، لبنان اور شام، سب ہی اُس کے حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے مشرقِ وسطیٰ پر ایک مرتبہ پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔امریکا اور ایران کے جانب سے آنے والے بیانات سے یوں لگا کہ امریکا حملہ کرنے والا ہے اور ایران اپنی پوری قوّت سے اس کا جواب دے گا۔
صدر ٹرمپ تواتر سے ایران کو دھمکیاں دیتے رہے کہ وہ احتجاج کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے، وگرنہ امریکا حملہ کرے گا، جب کہ وہ احتجاج کرنے والوں کو بھی یقین دِلاتے رہے کہ امریکی امداد بس پہنچنے ہی والی ہے۔ یوں کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور جنگ کی پیش گوئیاں کی جانے لگیں۔ صدر ٹرمپ نے انتہائی قدم اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طاقت وَر بحری بیڑہ( جسے اُنہوں نے’’آرمیڈا‘‘ کہا۔آرمیڈا پرانے زمانے میں طاقت وَر حملہ کرنے والے بحری بیڑے کو کہا جاتا تھا) ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اُنھوں نے گول مول بات کی کہ’’امریکا، ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔‘‘بعدازاں، یہ امریکی بحری بیڑہ، مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اردگرد سمندروں میں پہنچ گیا۔ ساتھ ہی ٹرمپ اِس امر پر زور دیتے رہے کہ ایران فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے امریکا سے معاہدہ کرلے، جس کے لیے اُنھوں نے کچھ شرائط بھی میڈیا کے ساتھ شیئر کیں۔ اُدھر، ایران کا کہنا تھا کہ وہ بات چیت کے لیے تو تیار ہے، لیکن کسی کی دھونس، دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔
اِسی دوران ایک اہم خبر یہ آئی کہ یورپی یونین نے ایران کی مسلّح فورس، ’’پاسدارانِ انقلاب‘‘ کو دہشت گرد گروہ قرار دے دیا۔ یاد رہے، امریکا2017ء میں بھی ایسا اعلان کرچکا ہے۔ اِسی تناؤ کی فضا میں اچانک ایرانی صدر کا بیان سامنے آیا کہ ایران، امریکا سے بات چیت کرے گا۔ دراصل، اِس بریک تھرو میں علاقے کے مسلم ممالک، خاص طور پر تُرکیہ، سعودی عرب اور قطر کا بنیادی کردار تھا، جب کہ پاکستان بھی آن بورڈ رہا۔
امریکا، ایران مذاکرات کے لیے تُرکیہ کے شہر، استنبول کا انتخاب کیا گیا، مگر بعدازاں ایران کے مطالبے پر مذاکراتی میز مسقط میں سجائی گئی۔ پہلے جب بھی امریکا، ایران مذاکرات کی بات ہوتی، تو اُس میں نیوکلیئر پروگرام ہی شامل ہوتا، مگر اب ایرانی میزائل پروگرام، احتجاجی مظاہرے اور ایرانی ملیشیاز کے معاملات سے متعلق مطالبات بھی مذاکرات کا حصّہ بن گئے۔
صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو عملی شکل دینے کے لیے ایران کے اردگرد سمندر میں اپنا ایک طاقت وَر بحری بیڑہ لاکھڑا کیا۔ اِس بیڑے میں سب سے اہم اور امریکی طاقت کی علامت، نیوکلیئر پاور ایئر کرافٹ کیریئر، ابراہم لنکن ہے۔ یہ امریکی پانچویں فلیٹ کا حصّہ ہے۔
اسے مشہور امریکی فوجی بحرے اڈّے سینٹ ڈیاگو سے بحیرۂ عرب بھیجا گیا۔ ابراہم لنکن نیوکلیئر پاور سے چلنے کی وجہ سے طویل عرصے تک سمندر میں رواں دواں رہ سکتا ہے۔ اس پر 70لڑاکا طیارے موجود ہیں، جو فضائیہ کی زبان میں چھے اسکواڈرن کے برابر ہیں۔
یہ شوگن طیارے بڑی تیز رفتاری سے ہدف کو اپنے میزائلز سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اِن طیاروں کو محض دو سیکنڈ میں فضا میں لانچ کیا جاسکتا ہے۔ اِس ایئر کرافٹ کیریئر کی مدد اور حفاظت کے لیے اس کے اطراف میں کئی تباہ کُن جہاز اور آب دوزیں موجود ہیں۔ یہ تباہ کُن جہاز ہاک کروز میزائلز سے لیس ہیں، جن کی رینج2500 کلو میڑ ہے اور یہ آواز کی رفتار سے بھی تیز ہدف کی طرف بڑھتے ہیں۔ ایسے ہی میزائل صدر ٹرمپ کے پہلے دَورِ حکومت میں شام میں ایرانی تنصیبات پر تباہی مچا چُکے ہیں۔
ابراہم لنکن کے ساتھ چلنے والی آب دوزیں بھی ہاک میزائلز سے لیس ہیں اور یہ بھی سمندر سے زمین پر ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ ابراہم لنکن، بحیرۂ عرب اور خلیجِ اومان کی نگرانی کر رہا ہے، جو امریکی سینٹ کام کا علاقہ ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے فوجی اڈّوں پر مزید فوجی، طیارے اور ڈیفینس سسٹمز بھی پہنچا دیئے ہیں۔ یہ اُسی قسم کا فوجی پاور بلڈاپ ہے، جیسا گزشتہ سال ایران/اسرائیل جنگ کے دَوران امریکی بم باری کے وقت دیکھنے میں آیا۔ عرب ممالک اور تُرکیہ میں امریکا کے فوجی بیسز ہیں، جہاں دفاعی تیاریاں کی گئیں۔
ایئر کرافٹ کیریئر، ابراہم لنکن اور امریکی اسٹرائیک فورس ایران کے چاروں طرف موجود ہے، تاہم پہلے مرحلے میں امریکا نے ایران سے بات چیت کا آغاز کیا، جو مسلم ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق، سعودی عرب، تُرکیہ اور دوسرے علاقائی مسلم ممالک نے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، ٹرمپ کو بات چیت کی طرف راغب کیا۔ اِس ضمن میں مسلم ممالک کے سربراہان نے ایرانی قیادت سے برابر رابطہ رکھا۔
غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مشرقِ وسطی میں جنگوں کی بجائے مذاکرات کی باتیں ہونے لگیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکی حملے سے خطّہ افراتفری کی لپیٹ میں آجائے گا، جب کہ مذاکرات کا اعلان خود ایرانی صدر نے کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’صدر ٹرمپ کی پیش کش مسلم ممالک کے کہنے پر قبول کی۔‘‘نیز، ایران یہ بھی کہتا رہا کہ وہ دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی اقتصادی کم زوریوں کی وجہ سے دباؤ محسوس کرتی رہی اور پھر جب منہگائی اور ریال کی گراوٹ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، تو اُسی وقت اشارے ملے کہ ایرانی حکومت کوئی پُرامن حل چاہتی ہے۔
ایرانی حکومت نے جب مظاہروں پر قابو پا لیا، تو ٹرمپ نے پیچھے ہٹنے کی بجائے امریکی طاقت کا مظاہرہ بحیرۂ عرب میں ابراہم لنکن اسٹرائیک فورس بھیجنے کی صُورت کیا۔ فوجی ماہرین کی رائے میں ٹرمپ نے اِس طرح دھونس، دھمکیوں کو عملی شکل دے کر جنگ کو علاقے میں پہنچا دیا۔ ظاہر ہے، امریکی بیانات کے جواب میں ایران کی طرف سے بھی زوردار بیانات داغے جاتے رہے، لیکن بہرکیف، اس نے طاقت کے جواب میں اعلیٰ ڈپلومیسی سے کام لیا اور مذاکرات کو جنگ پر ترجیح دی۔ اِس طرح کم ازکم کچھ دنوں کے لیے تو مشرقِ وسطیٰ کو جنگ سے بچا لیا گیا۔
اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ امریکا فوجی لحاظ سے ایران کے مقابلے میں بہت طاقت وَر ہے۔ پھر ایران کی اندرونی کم زوریاں، جو اقتصادی بھی ہیں اور فوجی بھی، نمایاں ہو رہی ہیں۔نیز، اس کی پراکسی ملیشیاز بھی تقریباً غیر مؤثر ہوچُکی ہیں، جن میں حزب اللہ، حوثی اور عراقی ملیشیاز شامل ہیں۔ یہ گروہ کسی جنگ کی صُورت میں ایران کی زیادہ مدد کے قابل نہیں رہے۔ علاوہ ازیں، گزشتہ برس کی جنگ میں ایرانی فوجی قوّت، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب، باقاعدہ فوج اور ایٹمی تنصیبات کو بہت نقصان ہوا۔ بھرپور عوامی احتجاج نے بھی اندرونی تقسیم ظاہر کی۔
یورپ نے ایران پر اسنیپ بیک پابندیاں لگا کے اور پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دے کر معاملے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کیں، جو یقیناً صدر ٹرمپ کے حق میں جاتی ہیں۔ نہ صرف رضا پہلوی، بلکہ ایران کے کچھ سابق اہم رہنماؤں، جیسے مہدی کروبی، حسن موسوی اور حسن روحانی نے حکومتی پالیسیز کے خلاف بیانات دئیے، جن میں ایرانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان میں سے کچھ رہنما2004 ء تک ایرانی پارلیمان اور حکومت کا حصّہ رہے اور اُنہوں نے صدارتی الیکشن میں بھی حصّہ لیا۔ جب کہ حسن روحانی تو دو مرتبہ مُلک کے صدر بھی رہ چُکے ہیں۔ اِن رہنماؤں کو عام طور پر’’اصلاح پسند‘‘ کہا جاتا ہے۔
اب صدر ٹرمپ کے مطالبات پر بھی بات ہوجائے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک مرتبہ پھر نیوکلیئر ڈیل میں شامل ہوجائے۔ یاد رہے، پہلی نیوکلیئر ڈیل ایرانی صدر، حسن روحانی کے دَور میں ہوئی تھی۔ روحانی’’اصلاح پسند گروپ‘‘ سے تعلق رکھتے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنی اقتصادی حالت مضبوط کرنی چاہیے۔
پہلی نیوکلیئر ڈیل2015ء میں ہوئی، جس میں ایک طرف ایران تھا، جب کہ دوسری طرف امریکا، چین، روس، برطانیہ اور یورپی ممالک تھے، یعنی عالمی طاقتیں۔ اِس ڈیل کے نتیجے میں ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام پر پابندیاں قبول کیں۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ یورینیم افزودگی پانچ فی صد پر رکھے گا۔
معاہدے کے نتیجے میں امریکا نے ایران کو اُس کے منجمد اثاثوں میں سے چالیس ارب ڈالرز دیئے، جب کہ اُس پر عاید بہت سی پابندیاں بھی اُٹھا لی گئیں۔ اِس موقعے پر ٹی وی پر وہ مناظر دیکھے گئے، جب ایرانی عوام نے ڈیل کی خوشی میں رات بھر تہران کی سڑکوں پرجشن منایا۔ لیکن یہ ڈیل دیرپا ثابت نہ ہوسکی۔ ایک طرف سخت گیر ایرانی تھے، جو اِس ڈیل کے مخالف تھے۔
وہ امریکا اور یورپ پر بھروسا کرنے پر تیار نہ تھے۔ دوسری طرف، اسرائیل نے بھی ڈیل مسترد کردی۔ تیسری طرف، عرب ممالک کو تحفّظات تھے کہ اُنہیں اعتماد میں لیے بغیر یہ ڈیل کی گئی۔ اُس زمانے میں عرب،ایران تنازعہ، شامی خانہ جنگی کی وجہ سے عروج پر تھا، جس میں ایران اور روس بشار الاسد کے ساتھ تھے، جب کہ عرب ممالک اور تُرکیہ شامی اپوزیشن کی حمایت کر رہے تھے۔ یہ نیوکلئیر ڈیل اُس وقت ختم ہوئی، جب ٹرمپ پہلی بار اقتدار میں آئے۔ وہ مسلسل کہتے رہے تھے کہ’’ اِس سے ناقص معاہدہ اُنہوں نے دیکھا ہی نہیں۔‘‘ اور آخرکار امریکا نے اسے خیر باد کہہ دیا۔
یوں یہ ڈیل غیر مؤثر ہوگئی۔ کہا جاتا رہا کہ ایران نے یورینیم افزودگی بہت بڑھا دی ہے اور اس کا ایٹمی پروگرام جلد ایٹم بم بنانے کے قابل ہوجائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں نے بھی اِس امر کی تائید کی۔ تاہم، ایران تمام الزامات مسترد کرتا رہا، اُس کا کہنا ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے۔ صدر جوبائیڈن کے دَور میں اس نیوکلیئر ڈیل کو بحال کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں، لیکن غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کے بعد یہ سلسلہ تقریباً ختم ہوگیا، جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔
صدر ٹرمپ نے دوسری بار حکومت میں آتے ہی ایرانی سپریم لیڈر کو نیوکلیئر ڈیل کی بحالی کے لیے مذاکرات کی دعوت دی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ایران نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر ختم کرے گا۔ ایران نے اسے دھمکی اور ناجائز مطالبہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ یوں ایران پر امریکا، یورپ اور مغربی ممالک کی پابندیاں سخت سے سخت تر ہوتی چلی گئیں اور باوجود یہ کہ وہ دنیا میں تیل پیدا کرنے والا چوتھا بڑا مُلک ہے، اس کی معیشت بیٹھ گئی۔
حالیہ احتجاجی مظاہرے بھی اِس جانب واضح اشارہ ہیں کہ ایران کے عوام معاشی صُورتِ حال سے ناخوش ہیں۔ اِسی لیے صدر پزشکیان نے کہا تھا کہ ’’مظاہرین کے بہت سے مطالبے جائز ہیں، جن پر ہم دردی سے غور کی ضرورت ہے۔‘‘ اِس عوامی احتجاج نے صدر ٹرمپ کو موقع فراہم کیا، جس سے وہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید اِسی لیے سپریم لیڈر اور ایرانی حکومت، عوامی احتجاج کو امریکی اور اسرائیلی سازش قرار دیتے ہیں۔