• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاور ڈپلومیسی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو

گزشتہ سال سے بین الاقوامی امور میں جو تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں، اُن سے مختلف ممالک اور خطّوں کے درمیان تعلقات نئی صُورت اختیار کر رہے ہیں۔ اِن تبدیلیوں میں کئی عوامل کا کردار ہے، جن میں اقتصادی معاملات کو بہرحال فوقیت حاصل ہے۔ اِسی لیے اب کسی بھی مُلک کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی یا ترمیم کرتے ہوئے معاشی معاملات سامنے رکھنے پڑیں گے اور یہ پیش رفت پاکستان کے فارن پالیسی مینیجرز کے لیے بھی بہت اہم ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے اقتصادی کم زوری نے ہمیں کئی معاملات میں سمجھوتوں پر مجبور کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے عالمی تبدیلیوں میں تیزی آئی اور ایسا ہونا بھی تھا کہ وہ ایک تاجر صدر ہیں اور عالمی امور کو اِسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ ٹیرف کو دبائو کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور کئی ممالک میں کام یاب بھی ہوئے، لیکن معاشی پابندیوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں حملہ آور قوّتیں شہروں کے محاصرے کر کے اُن پر اِسی نوعیت کے دبائو ڈالتی تھیں۔ 

تاہم، نئی بات یہ ہوئی کہ امریکا، جسے ایک جمہوری اور لبرل قوّت کا درجہ حاصل تھا، کُھل کر قوم پرست طاقتوں کی صف میں چلا گیا۔ درحقیقت، اِس عمل کے پس منظر میں بھی فائدے اور نقصان کی تھیوری کارفرما ہے۔ بلاشبہ، امریکا سپر پاور ہے اور دنیا پر اس کے ہمہ گیر اقتصادی، سیاسی اور فوجی اثرات ہیں۔ پاکستان کو تبدیلی کی اِن لہروں میں بہت سے مواقع ملے، جنہیں اس نے دانش مندی سے استعمال کیا۔ 

ہم نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا کی حُکم رانی تاجر خاندانوں کے پاس ہے، اِس لیے ایک دوسرے کو سمجھنا زیادہ آسان ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔ دوسری طرف، مشرقِ وسطی میں بھی صُورتِ حال نے پلٹا کھایا۔ غزہ میں صدر ٹرمپ نے سیز فائر کروادیا، جس میں اہم مسلم ممالک کی مشاورت بھی شامل تھی۔ یہ ایک احسن قدم تھا، جس نے بہت سے منفی اثرات کی راہ روکی۔ اِس شمولیت سے اسلام آباد کی اہمیت بڑھی اور مسلم دنیا کے تنازعات میں تنائو کے اثرات کم کرنے میں بھی مدد ملی۔

تاہم، ایک اور اہم سمت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ابھی تک کوئی خاص کام یابی حاصل نہیں کرسکی اور وہ ہے، اقتصادی مفادات کا حصول۔ اِس ناکامی کی اہم وجوہ میں پاک/بھارت جنگ، افغانستان سے ہونے والی مسلسل دہشت گردی اور ایران کے غیر مستحکم حالات وغیرہ شامل ہیں۔ اس کا یہ بھی مطلب ہوا کہ مُلک کی تین سرحدوں پر تشویش ناک حالات رہے۔ 

ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے دو بڑی طاقتوں، چین اور امریکا سے تعلقات بیک وقت اچھے ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ حکمتِ عملی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ چین، پاکستان کے بہت قریب ہے اور اِس کی معاشی مشکلات کو بخوبی سمجھتا ہے، اِسی لیے اُسے پاک، امریکا قربت پر کوئی اعتراض نہیں۔ اگر ہم یہ توازن قائم رکھنے میں کام یاب رہے، تو اپنی مشکلات پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔

اِن دنوں دنیا بَھر میں پاور ڈپلومیسی کا بہت شہرہ ہے۔ اس کی بنیاد امریکی صدر کی وینزویلا میں فوجی کارروائی اور وہ بیانات بنے، جو اُنہوں نے گرین لینڈ اور ایران کے حوالے سے دیئے۔ وہ گرین لینڈ کو امریکا کا حصّہ قرار دیتے ہیں، جب کہ اُنہوں نے ایران میں احتجاج کے دَوران بار بار ایرانی مظاہرین کو یقین دِلایا کہ امریکا اُن کے ساتھ ہے۔

ویسے حالیہ دس سالوں میں فوجی طاقت کے زور پر اپنے مطالبات منوانے کی شروعات صدر پیوٹن نے کیں۔ روس کوئی جمہوری مُلک نہیں ہے، جب کہ صدر پیوٹن ماضی کی مشہور روسی جاسوس ایجینسی، کے جی بی کے کرتا دھرتا رہ چُکے ہیں۔ پیوٹن ہی نے شام کی خانہ جنگی میں فوجی دخل اندازی کی اور کبھی معذرت خواہ نہ ہوئے، جب کہ مسلم ممالک نے بھی اُن کی کوئی سرزنش نہیں کی۔ اُنھوں نے اپنے اتحادی، بشار الاسد کی حمایت میں مسلسل دو سال تک بم باری کی اور لاکھوں شامی شہریوں کی ہلاکت اور بے گھری میں حصّہ دار بنے۔ 

اُنھوں ہی نے پہلے یوکرین کے جزیرے، کریمیا پر قبضہ کر کے اُسے روس کا حصّہ بنایا اور پھر2022ء میں یوکرین پر باقاعدہ حملہ کردیا۔ اب اِس جنگ کو بھی تین سال ہوگئے اور صدر پیوٹن اپنے مطالبات فوجی طاقت کے بل پر منوانے پر تُلے ہوئے ہیں، جب کہ70 ہزار سے زاید افراد ہلاک ہوچُکے اور لاکھوں زخمی سسک رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی فوجی جارحیت ہوتی ہے، روس کے پاس بیانات کے علاوہ اُسے روکنے یا اُس کی مذمّت کے لیے کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہوتی۔ 

شام کے معاملے میں مسلم ممالک کے مقابلے میں یورپ کا ردّعمل بہت شدید رہا اور روس کے بڑھتے قدم رُک گئے۔ ایسی ہی فوجی مثالوں سے شہہ پا کر اسرائیل نے بھی غزہ پر دو سال تک بم باری اور بدترین جارحیت کی، کیوں کہ اُسے معلوم تھا کہ اُسے روکنے والا کوئی نہیں۔ گو، اس کی وجوہ مختلف ہیں۔ اب ٹرمپ نے وینزویلا، ایران اور گرین لینڈ پر طاقت آزمانی شروع کر رکھی ہے۔ روس ہو یا امریکا، طاقت کی ڈپلومیسی عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے کہ اِس میں فوجی طاقت کو فوقیت حاصل ہوتی ہے، جب کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد مذاکرات کے اصول پر اتفاق ہوا تھا اور یہ بھی کہ کسی بھی علاقے پر کوئی مُلک قبضہ نہیں کرے گا۔ لیکن اسے بھی سوویت یونین ہی نے پہلی افغان وار اور افغانستان پر حملہ کر کے تہس نہس کیا۔

سوویت یونین کے اِس اقدام سے پاکستان کی مشکلات شروع ہوئیں، جو آج تک جاری ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مختلف ممالک پر جارحیت کے ضمن میں امریکا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے اور روس پر کبھی کبھار ہی بات ہوتی ہے۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ روس ہمیشہ سے آمرانہ نظام میں رہا، جب کہ امریکا جمہوریت کا عَلم بردار ہے۔ اِسی لیے روس کی کارروائیوں پر دنیا زیادہ شور نہیں مچاتی، لیکن امریکا جب یہ طرزِ عمل اختیار کرتا ہے، تو لبرل قوّتوں کو جمہوریت، انسانی حقوق اور امن سب ہی خطرے میں نظر آتے ہیں۔ ویت نام میں بھی یہی ہوا۔

دنیا میں چار بڑی طاقتیں ہیں، جو گہرے اثر ورسوخ کی حامل ہیں۔ امریکا، چین، روس اور یورپ۔ روس اور یورپ، یوکرین میں زور آزمائی کر رہے ہیں۔ چین اپنی اقتصادی اور فوجی قوّت بڑھانے میں مصروف ہے۔ امریکا بہت دُور ہے اور دیکھا جائے تو یہ دُوری، اُس کی بڑی طاقت بھی ہے۔ وہ خُود تو مختلف ممالک کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر سکتا ہے، مگر اس پر حملے کے لیے فاصلے کی خلیج پار کرنے کے ساتھ خاص ہتھیاروں اور بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے۔

بہرکیف، خوش قسمتی سے پاکستان کے چاروں بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات ہیں، اِس لیے اسے آج’’بگ پاور ڈپلومیسی‘‘ سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگر اسلام آباد اِن طاقتوں میں توازن قائم کرلے، تو وہ بہت سے اقتصادی مفادات حاصل کرسکتا ہے۔ یہ فیصلے اس کی شارٹ، لانگ ٹرم خارجہ پالیسی اور مُلکی ترقّی میں بے حد سود مند ثابت ہوں گے۔ چین سے ہمارے بہت قریبی روابط ہیں، جب کہ امریکا میں ٹرمپ بھی ہم سے خوش ہیں، جو بار بار پاک، بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ وہ موجودہ حکومت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پسند کرتے ہیں۔ 

پھر یورپ سے بھی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ برطانیہ ہمارا دوست ہے۔ یوں اِس عالمی طاقت کی ڈپلومیسی میں پاکستان کے لیے فی الحال کوئی مشکل نہیں، بس اسے صرف توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے اقتصادی معاملات پر توجّہ مرکوز رکھنی ہوگی۔ یاد رہے، خارجہ پالیسی اندرونی مضبوطی یا کم زوری کا عکس ہوتی ہے، اِس لیے ہمارا تمام تر زور معاشی طاقت بڑھانے پر ہونا چاہیے اور اِس امر کا ادراک جہاں حکومت کے لیے ضروری ہے، وہیں عوام کو بھی اِسی سمت فوکس کرنا ہوگا۔

اندرونی اور علاقائی طور پر دیکھا جائے، تو پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدیں کافی عرصے سے گرم چلی آ رہی ہیں۔ دونوں طرف لڑائیاں اور جنگیں منڈلاتی رہیں۔ عوام، حکومت اور فوج نے مل کر اِن ایشوز پر قابو پایا اور کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، پریشانی کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت انتہائی غیر مستحکم ہے۔ وہاں کوئی گورنینس ہے اور نہ ہی انفرا اسٹرکچر۔ 

اسے دنیا میں ایک مُلک کے علاوہ کسی نے باقاعدہ طور پر تسلیم بھی نہیں کیا۔ دوسرے الفاظ میں، طالبان حکومت خلا میں معلّق اور منجمد کیفیت سے دوچار ہے۔ اس کے نااہل اور ناسمجھ حُکم ران نہ تو مُلک میں کسی مستحکم نظام کے طرف بڑھنے کا اشارہ دے رہے ہیں اور نہ ہی اُن شرائط پر عمل پہ رضامند ہیں، جن کا وعدہ اُنہوں نے دوحا معاہدے میں کیا تھا، جہاں پاکستان بھی موجود تھا۔ اطلاعات کے مطابق اب افغانستان میں بھی دو گروپ ہیں، ایک کابل اور دوسرا قندھار گروپ۔ 

قندھار گروپ، جس کی قیادت طالبان کے سربراہ کر رہے ہیں، قدامت پسند اور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حامی ہے، جب کہ حقانی برادران کا کابل گروپ چاہتا ہے کہ معاشرے کو سانس لینے دیا جائے۔ انٹرنیٹ اور تعلیم کے دروازے سب پر کھولے جائیں۔ خواتین کو تعلیم اور ملازمتوں میں جگہ دی جائے۔ یہ اختلافات کیا رنگ لاتے ہیں، آنے والے وقت ہی میں پتا چلے گا اور ممکن ہے کہ افغانستان ایک بہتر اور تعمیر و ترقّی کی صُورتِ حال کی طرف بڑھے۔ 

البتہ، اِس وقت تو افغان حکومت احسان فراموشی کرتے ہوئے دہشت گرد گروپس کی سرپرستی کر رہی ہے۔ اِس پالیسی نے خود افغان حکومت کو بھی مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے اور خطّے کو بھی عدم استحکام سے دوچار کردیا، مگر اِس کے باوجود وہ اصلاحِ احوال پر تیار نہیں۔ اِن حالات میں پاکستان کے لیے اہم ہوگیا ہے کہ وہ نرم، گرم افغان پالیسی اپنا کر انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کرے اور اِس طرح کے اقدامات سے سرحدی علاقوں میں حالات بہتری کی طرف جا بھی رہے ہیں۔ 

پاکستان میں جو عناصر افغانستان کی اِس غیر مستحکم پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، اُنہیں علم ہی نہیں کہ وہ افغان حکومت اور علاقے کے لیے کیا مصیبت مول لے رہے ہیں اور افغان عوام سے کیسی دشمنی کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں قبائلی نظام سے جدید حکومت چلانا ممکن نہیں۔ 

افغان طالبان حکومت اب تک زیادہ سے زیادہ ایک ملیشیا حکومت ہے اور ابھی تک سیاسی حکومت بننے میں ناکام رہی ہے۔ اِسی لیے پاکستان کو فوج اور سیاست، دونوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، طالبان کی بھارت سے قربت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اِس ضمن میں پاکستان اُن امکانات کا جائزہ لے، جن سے طالبان حکومت دہشت گردی کی سرپرستی سے باز آجائے۔ اِس سلسلے میں چین اور عرب ممالک کا تعاون اہم ہوگا، کیوں کہ اِن ممالک کے پاکستان، بھارت اور افغان طالبان سے بہتر تعلقات ہیں۔ یاد رہے، پہلے بھی تُرکیہ اور قطر میں افغان مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی کانفرنسز ہوچُکی ہیں۔

مشرقِ وسطی میں اہم مسلم ممالک کے ساتھ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں شرکت سے پاکستان کی عالمی اہمیت تو تسلیم ہوئی، لیکن ابھی تک کوئی خاص اقتصادی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اِسے اپنی زیادہ تر توانائی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے پر صَرف کرنی پڑ رہی ہے۔ دیکھا جائے، تو جنوبی ایشیا آبادی، ٹیلنٹ اور انسانی وسائل کے لحاظ سے بہت زرخیز خطّہ ہے، تاہم اِن دونوں بڑے ہم سایوں کی دشمنی نے خطّے کو اُس ترقّی سے محروم کیا ہوا ہے، جس کے عوام حق دار ہیں۔ 

ٹرمپ اِس سلسلے میں کردار ادا کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں، جب کہ چین بھی یہی چاہے گا، کیوں کہ اس کی اقتصادی پیش رفت میں جنوبی ایشیا بہت اہم ہے۔ یورپ بھی یہی چاہتا ہے کہ یہاں امن ہو کہ وہ خطّے کا اہم اقتصادی پارٹنر ہے۔ پھر روس سے بھی پاکستان کے تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ یوکرین جنگ، پاکستان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھی، کیوں کہ پاکستان کے یوکرین سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، جب کہ روس بھی اسلام آباد سے کسی قسم کی مخالفت نہیں چاہتا۔ 

بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ یوکرین نے ہمیں فوجی ساز و سامان، خاص طور پر ٹینک اور فضا میں تیل ٹرانسفر کرنے والے ٹینکر طیارے دیئے، جب کہ وہ گندم اور کوکنگ آئل کا عالمی ایکسپورٹر بھی ہے، پاکستان یہ دونوں اشیاء وہاں سے لیتا رہا ہے۔ پاکستان نے توازن کی پالیسی اختیار کی اور روس کو ناراض نہیں ہونے دیا، جب کہ یوکرین سے بھی تعلقات رکھے۔ جنوب مشرقی ایشیا، پاکستان جیسے ترقّی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑی مثال ہے۔

جاپان ہمیں بڑی تعداد میں امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی گاڑیوں کی مارکیٹ بڑی تو نہیں، تاہم جاپانی کاریں یہاں بہت مقبول رہی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سنگاپور، انڈونیشیا، ویت نام، تھائی لینڈ، فلپائن، جنوبی کوریا اور دوسرے ممالک سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں۔ نیز، ہمیں کینیڈا اور جنوبی امریکا سے بھی تعلقات معمول پر رکھنے ہوں گے، کیوں کہ یہ امریکا کا’’زون آف انفلوینس‘‘ ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسلم دنیا کو اہم مقام حاصل ہے، کیوں کہ یہاں کے عوام اپنے مسلمان بھائیوں کی ہر تکلیف کو اپنی تکلیف اور ہر آزمائش کو اپنی آزمائش سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے وہ بہت سی قربانیاں بھی دیتے رہے، یہاں تک کہ اپنے مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔ پاکستان مسلم اُمّہ کے معاملات میں ایک توانا آواز بن کر اُبھر رہا ہے۔خاص طور پر غزہ کے معاملے میں پاکستان نے بڑی دانش مندی سے کام لیا۔

پاکستان اگر اپنے مفادات کو اوّلیت دیتے ہوئے سب سے اچھے تعلقات یا کم ازکم’’کسی سے بھی دشمنی نہیں‘‘ کی پالیسی اپناتا ہے، تو یہ اس کی سیکیوریٹی اور ترقّی، دونوں کے لیے اہم ہوگی۔ فی الحال ہماری تمام تر توجّہ اپنے اقتصادی حالات بہتر کرنے کی طرف ہونی چاہیے تاکہ عوام میں تحفّظ کا احساس پیدا ہو۔ نیز، اِسی اقتصادی مضبوطی سے ہمیں اپنی آبادی اور پوزیشن کے لحاظ سے دنیا میں اہم مقام حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

سنڈے میگزین سے مزید