• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق وزیراعظم نواز شریف نے گلگت میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایسا شکوہ کیا ہے جس نے اُن کے بہت سے ساتھیوں اور پرستاروں کو حیران بلکہ پریشان کر دیا ہے۔اس شکوے کےبعد مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین کاجوابِ شکوہ بھی سامنے آ رہا ہے، لیکن بحث کا رخ گلگت بلتستان کے مسائل سے ہٹ کر پاکستانی سیاست دانوں کی بیچارگی کی طرف مڑ گیا ہے۔ نواز شریف تین دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، افسوس کہ تینوں مرتبہ وہ اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کر سکے۔ گلگت کے جلسے میں انہوں نے وہاں کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت کو نظر انداز کیوں کیا گیا؟ انہوںنے کہا کہ آج این ایف سی کے ذریعے گلگت بلتستان کیلئے فنڈز مانگے جا رہے ہیں، لیکن میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 2017ء میں میری حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے گلگت بلتستان کے مستقبل کے بارے میں سفارشات مرتب کی تھیں جن پر ہم نے عمل درآمد کرنا تھا، لیکن پھر مجھے حکومت سے نکال دیا گیا۔ نواز شریف صاحب نے شکوے کے انداز میں کہا کہ مجھ سے گلہ نہ کرو، میں گلہ سننے کو تیار نہیں۔ قصور تو آپ کا بھی ہے کیونکہ جب مجھے دیس سے نکالا گیا تو آپ نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ آگے چل کر انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کے مسائل حل کرنے کیلئےشہباز شریف سے بات کروں گا۔ نواز شریف بھول گئے کہ 2017ء میں اُنہیں سپریم کورٹ نے نااہل کیا تو اُن کی جگہ اُنہی کے نامزد کردہ شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے۔ 2022ء میں شہباز شریف وزیر اعظم بنے۔2024ءکے انتخابات کے بعد شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنائے گئے۔میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ اُن کی دوسری بیٹی کے سسر اسحاق ڈار ڈپٹی وزیر اعظم ہیں۔ نواز شریف نے خود کہا کہ وہ گلگت والوں کے مسائل حل کرنے کیلئے شہباز شریف سے بات کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ شہباز شریف واقعی بہت کچھ کر سکتے ہیں، تو پھر انہوں نے گلگت والوںسے شکوہ کیوں کیا؟مجھےیادہےکہ 2017ء میں نااہلی کے بعد نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ اگر اس لانگ مارچ میں وسطی پنجاب کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے تو سیاسی حکومتوں کے خلاف سازشوں میں کمی آ جاتی، لیکن وسطی پنجاب اور خاص طور پر لاہور کے لوگ کیوں باہر نہ آئے؟ نواز شریف کا شکوہ بجا ہے لیکن یہ شکوہ گلگت والوں سے نہیں بنتا لاہور والوں سے بنتا ہے جہاں سے نوازشریف 1985 میں پہلی دفعہ ایم پی اے بنے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر والے تو ابھی تک اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ یہاں جب بھی الیکشن ہوتا ہے تو پاکستان کے بڑے بڑے سیاستدان اپنا اپنا لشکرلے کر پہنچ جاتے ہیں، ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں اور پھر الیکشن کے بعد حکومت بنا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مسائل وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری بھی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ سازش کون کر رہا ہے؟تحریکِ انصاف والے آپس میں لڑے جا رہے ہیں، حالانکہ 2020ء میں عمران خان نے بطور وزیرِ اعظم گلگت بلتستان کیلئے عبوری صوبے کی حیثیت کا اعلان کیا تھا۔ تحریکِ انصاف کے کچھ رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انہیں انتخابی مہم سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ انکی آپس میں نااتفاقی ہے۔ یہ نااتفاقی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں بھی نظر آ رہی ہے، لیکن وہ ایک دوسرے کا نام نہیں لے رہے۔ تحریکِ انصاف اُسی طرح کے سیاسی بحران کا شکار ہے، جس بحران سے 2017ء میں مسلم لیگ (ن) دوچار تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ 2018ء کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور تحریکِ انصاف کے ساتھ 2024ء کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ 2019ء میں نواز شریف ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اپنے دیس سے باہر بھیج دیے گئے لیکن 2026 میں عمران خان ایسا کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ مجھے تحریکِ انصاف کے کئی سرکردہ رہنما کہہ چکے ہیں کہ خان صاحب سیاست نہیں کر رہے بلکہ ضد لگا کر بیٹھے ہیں۔ اگر وہ تھوڑی سی لچک دکھائیں تو کم از کم ہم انہیں جیل سے نکال لیں گے۔جب میں پوچھتا ہوں کہ خان صاحب لچک کیوں نہیں دکھاتے تو کہا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔ عمران خان پچھلے تین سال سے جیل میں ہیں اور یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ اُن میں اور نواز شریف میں بہت فرق ہے۔اُن کے حامی سوشل میڈیا پر بڑے متحرک ہیں۔ سوشل میڈیا پر عمران خان بڑے مقبول نظر آتے ہیں لیکن وطن عزیز کی سڑکوں پر یہ مقبولیت نظر نہیں آتی۔ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر گھنٹوں بیٹھی رہتی ہیں اور سٹریٹ پاور کا انتظار کرتی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر نظر آنے والی پاور ہمیں سٹریٹ پر دکھائی نہیں دیتی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومتی بندوبست کو کہیں سے کوئی خطرہ نہیں؟ اپوزیشن جماعتوں کی کمزوریوں اور بے چارگی کا مطلب یہ نہیں کہ حکومتی بندوبست بالکل محفوظ ہے۔ اس بندوبست کیلئے سب سے بڑا خطرہ اسکے اپنے اکنامک مینیجرز ہیں جو نہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں اور نہ ہی وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہیں۔ وہ دراصل عالمی معاشی اداروں کی ڈکٹیشن پر پالیسیاں بناتے ہیں۔ عوام پر مسلسل مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، لیکن عوام کب تک صبر کریں گے؟آنے والے بجٹ میں عوام پر مہنگائی کے بوجھ میں مزید اضافہ کیا گیا تو عوامی ردِعمل انتہائی شدید ہو سکتا ہے۔ خیال رکھیں کہ گلگت بلتستان کو لاہور اور کراچی والوں نے آزادی نہیں دلوائی تھی۔ یہاں کے لوگوں نے یکم نومبر 1947ء کو خود ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کی اور مقامی گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے اسلامی جمہوریہ گلگت کی عبوری حکومت کا اعلان کیا۔ بعد ازاں اس عبوری حکومت نے رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کیا۔ پھر ہنزہ اور نگر کی ریاستیں پاکستان میں شامل ہوئیں اور مقامی آبادی نے اپنے زور بازو سے 14 اگست 1948ء کو سکردو آزاد کرایا۔ اس علاقے سے وہ شاہراہِ ریشم گزرتی ہے جو پاکستان کو چین سے ملاتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو تو پلکوں پر بٹھا کر رکھنا چاہیے، لیکن افسوس کہ آج گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید سیاسی بے چینی نظر آ رہی ہے۔ ان سے کئے جانے والے وعدے پورے نہیں ہوتے۔ ان علاقوں کے لوگوں کا مزاج وسطی پنجاب سے مختلف ہے۔ اگر اس مرتبہ یہاں دھاندلی ہوئی تو اس کا ردِعمل بہت شدید ہو سکتا ہے۔ بجٹ کے بعد مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو پھر نواز شریف اور بلاول پیچھے رہ جائیں گے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر ایسی تحریک شروع ہو سکتی ہے جو کسی سیاسی جماعت کے کنٹرول میں نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومتی بندوبست اپنی سفارتی کامیابیوں پر بڑا ناز کر رہا ہے، لیکن ان سفارتی کامیابیوں کو سیاسی کامیابیوں میں تبدیل کرنے کیلئے کوئی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ اگر امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہو جائے تو تیل کی قیمت کم ہو جائے گی اور عوام کو وقتی ریلیف مل سکتا ہے، لیکن موجودہ حکومتی بندوبست کی سیاسی نااہلی خود شہباز شریف نہیں بلکہ ریاست کی ساکھ کیلئے بھی ایک مستقل خطرہ ہے۔ اس لیے کم از کم گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروا کے ریاستِ پاکستان کی ساکھ کو کچھ تو سہارا دیں۔

تازہ ترین