پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026ء کا اجراء کر دیا گیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ 135 اداروں میں 600 سے زائد گورننس اصلاحات ہوئیں۔
ریفارمز رپورٹ ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر انسٹیٹوٹ مشعل پاکستان نے تیار کی۔
رپورٹ کے مطابق گورننس اصلاحات کی منظم دستاویز بندی کی گئی ہے، دوسرے ایڈیشن میں 660 اصلاحات ریکارڈ کی گئیں، اصلاحات 135 وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور منسلک اداروں پر محیط ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اصلاحات کے حجم میں 5 گنا اضافہ ہوا، پالیسیز طویل المدتی ریاستی صلاحیت کی تعمیر کی جانب منتقل ہو چکی ہے، توانائی کا شعبہ مجموعی اصلاحاتی سرگرمیوں کا تقریباً 40 فیصد حصہ ہے، قانون و انصاف، ڈیجیٹل گورننس اور آئی ٹی کے شعبے نمایاں ہیں، رجحان ساختی اور ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب مضبوط جھکاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد اصلاحات اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نافذ کی جا چکی ہیں، شفافیت میں اضافہ ہوا اور صوابدیدی اختیارات میں کمی آئی ہے، مالیاتی اور توانائی کے شعبے میں اقدامات سے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی ازسرِنو تشکیل دی گئی، پاور سیکٹر میں 1.4 کھرب روپے کی بچت متوقع ہے، پاکستان مقامی توانائی اور معدنی وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے، 6 ارب ڈالرز کے ریکوڈک تانبہ اور سونا منصوبے میں پیشرفت ہوئی ہے، ٹائٹ گیس اور آف شور ایکسپلوریشن کی نئی پالیسیوں سے 5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا ہدف ہے۔