متعدد امریکی ارکان کانگریس اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے حالیہ جوہری معاہدے پر امریکی ارکان کانگریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیئم کی افزودگی کی اجازت دی گئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی محکمۂ توانائی نے اعلان کیا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب نے کئی دہائیوں پر مشتمل اربوں ڈالرز مالیت کے پُرامن شہری جوہری تعاون اور حفاظتی اقدامات سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے ہیں تاہم اس معاہدے کی منظوری امریکی کانگریس سے لینی ہو گی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی لیکن ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’یورینیئم کی افزودگی نہیں ہو گی‘ اور امریکا صرف غیر افزودہ ایندھن پر مبنی پُرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یورینیئم کی افزودگی عالمی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت ممنوع نہیں تاہم زیادہ درجے کی افزودگی سے جوہری ہتھیار بھی تیار کیے جا سکتے ہیں۔
الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کے لیے طویل عرصے سے شہری جوہری پروگرام کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ پُرامن شہری جوہری تعاون کے معاہدے پر نئی شرط رکھ دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسی صورت نافذ ہو گا جب سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا، بصورت دیگر معاہدہ ختم تصور ہو گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کی منظوری دی جائے گی تاہم یہ مکمل طور پر سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے منصوبے سے آگاہ ہیں تاہم تاحال نگرانی اور معائنوں کے لیے باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
الجزیرہ کے مطابق ابراہیمی معاہدہ پہلی بار 2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ کیے تھے۔
بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی اس معاہدے میں شامل ہو گئے جبکہ امریکا کئی برس سے سعودی عرب پر بھی اس معاہدے میں شمولیت کے لیے زور دیتا رہا ہے۔