• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں سے بھیک منگوانے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی: سہیل آفریدی

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بچوں سے بھیک منگوانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی، بچوں کو گداگری سے نکال کر تحفظ دینا حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمے داری ہے۔

سہیل آفریدی کو وگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن بل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے دوران بھیک پر پہلی بار وارننگ، بحالی مرکز منتقلی یا 1 ماہ قید اور جرمانے کی تجویز پیش کی گئی۔

بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ، فراڈ اور دھوکا دہی سے بھیک مانگنے پر 1 سے 2 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ جعلی معذوری اور فریب سے مبنی بھیک مانگنا اب قابل سزا سنگین جرم ہو گا جبکہ منظم و جبری بھیک میں ملوث عناصر کے لیے 3 سال تک قید اور 4 لاکھ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل صوبے میں بھیک مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے تاریخی قانون سازی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ نیا بل گداگروں کے منظم نیٹ ورکس، استحصال کے خلاف فیصلہ کن وار ثابت ہو گا، نیا وگرنسی بل منظم بھیک کو قابل سزا جرم بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کے لیے سخت سزائیں تجویز کی ہیں، بحالی مراکز، ہنرمندی اور روزگار کے ذریعے بھیک کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کا کہنا ہے کہ عوام سے اپیل ہے کہ خیرات منظم نیٹ ورکس کے بجائے مستند بحالی نظام کے ذریعے دیں، بھیک مافیا کے سرغنوں اور سہولت کاروں کے لیے سخت ترین سزاؤں کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بھیک کو پیشہ اور کاروبار بنانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

قومی خبریں سے مزید