مستحکم اور معتبر معاشرے میں رچنے بسنے والے لوگ آلتو فالتو سوالوں سے آپ کی آؤ بھگت نہیں کرتے… وہ زیادہ تر مطلب کا سوال پوچھتے ہیں، اور مطلب کے جواب کی آپ سے امید رکھتے ہیں۔ مستحکم معاشرے کے لوگ زیادہ تر ایک ہی نوعیت کے سوال پوچھتے ہیں۔ مثلاً، وہ پوچھتے ہیں کہ اگست انیس سو پینتالیس کی چھ تاریخ کے روز امریکہ اگر ہیروشیما پر ایٹم بم نہیں گراتا تو کیا دوسری جنگ عظیم اب تک جاری رہتی؟ ہے آپ کے پاس یا کسی اور کے پاس کوئی جواب؟
مستحکم اور معتبر معاشرے میں اسی نوعیت کا ایک سوال بہت سے لوگ پوچھتے ہیں۔بقول سوال پوچھنے والوں کے کہ بڑی عدالت کے بڑے منصفوں نے تحریری طور پر بتادیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت عدالتی قتل تھا۔ معافی کا طلب گار ہوں۔ میں عمر کے جس حصے میں پہنچ چکا ہوں میں اپنے دماغ پر انحصار نہیں کرسکتا۔ کچھ اداروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ معتبر معاشرے کے لوگوں کے ہوبہو سوال کے الفاظ مجھے یاد نہیں پڑتے۔ میں صرف سوال کا مفہوم لکھ سکتا ہوں۔ پھر بھی معافی مانگ لیتا ہوں۔
مستحکم اور معتبر معاشرے کے لوگوں نے پوچھا ہے: چلئے مان لیتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت عدالتی(یا پھر کہ) سیاسی موت تھی۔ سوال پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوکر واپس نہیں آسکتے۔ ان منصفوں کے بارے میں اعلیٰ عدالت نے کیا سزا تجویز کی ہے جو منصفین اللہ سائیں کو پیارے ہوگئے ہیں؟ سوال پوچھنے والے متجسس ہوکر پوچھتے ہیں کیا ذوالفقار علی بھٹو کو بیگناہ ثابت کرنے کیلئے پچاس سال پرانے مقدمے کو ا زسر نو چلایا جائےگا؟ ذوالفقار علی بھٹو کا دامن داغوں سے صاف کرنے کیلئے سرکار کو ہر صورت میں قانون سازی تو کرنی پڑے گی؟ ایک بےگناہ شخص کی بےگناہی تک بات محدود نہیں ہے۔ اُن ججوں کے بارے میں بھی سرکار کو فیصلہ دینا ہے جنہوں نے جان بوجھ کر ایک بےگناہ کو موت کی سزا دے دی۔
ایک پیچیدہ سوال سے پھوٹ کر نکلنے والے دس ضمنی سوالوں کاہے کوئی جواب کسی کے پاس ؟ یہ تو طے ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں ان کے ساتھ نا انصافی کی گئی تھی۔ جس شخص نے اپنے ہاتھ سے کسی کو خنجر نہیں گھونپا۔ کسی پر گولی نہیں چلائی، اس شخص کو معزز جج صاحبان نے سزائے موت دے دی۔ مجھے یاد پڑتا ہے یا میرا دماغ میری یادداشت مجھے دھوکہ دے رہی ہے۔ چار سرکاری گواہان جن کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف گواہی دینے کیلئے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں ان کو بھی سزائے موت دی گئی تھی۔ مستحکم اور معتبر معاشرے کے لوگ پوچھتے ہیں کہ غلط فیصلے جاری کرنیوالے جج صاحبان ہمیشہ کیلئے بری الذمہ قرار دیئے جائینگے؟
تاریخ میں لاتعداد مثالیں ملتی ہیں جن میں غلط فیصلے صادر کرنیوالے مدفن پر عدالتوں میں مقدمے چلائے گئے ہیں ان کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔ معتبر معاشرے کے لوگ پوچھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ چلانے اور سزائے موت سنانے والے ججوں پر مرجانے کے باوجود مقدمہ چلایا جائےگا؟۔
ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ چلانے اور سزا سنانے والے ایک جج صاحب کا کچھ عرصہ بعد انتقال ہوگیا تھا۔ نماز جنازہ کے دوران شہد کی مکھیوں نے جنازے پر اور نماز جنازہ میں موجود افراد پر حملہ کردیا تھا۔ بھاگ دوڑ مچ گئی۔ میت چھوڑ کر لوگ بھاگ کھڑے ہوئے معتبر معاشرے کے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا جج صاحبان پر مقدمہ چلایا جائےگا آپ اس طرح کسی کی جان نہیں لے سکتے۔ لوگ جواب کے منتظر ہیں۔
آج کل معتبر معاشرے کے لوگ پوچھتے پھر رہے ہیں کہ گم ہونے اور غائب ہونے میں کیا فرق ہے ؟ آپ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ گم ہوجانا یا غائب ہوجانا ایک ہی بات ہے۔ پچھلے دنوں تک میں بھی یہی سمجھتا تھا۔ مگر ایک بزرگ دانشور نے مجھے بات سمجھائی۔ بات میری سمجھ میں آگئی۔ گم ہوجانا یا غائب ہوجانا ایک ہی بات نہیں ہے۔ دونوں وارداتیں مختلف نوعیت کی ہیں۔ آپ ایک سیاسی جلسے جلوس میں زوردار نعرے لگارہے ہیں اس روز شام ہوجانے کے بعد آپ گھر واپس نہیں آگے۔ رات بھر گھر کا کنبہ آپ کا انتظار کرتا رہتا ہے آپ گھر نہیں آتے ۔ آپ دن بھر گھر نہیں لوٹتے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ آپ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں۔ دوسرے دن آپ کے آبا ؤا جداد تھانے میں رپورٹ لکھوانے جاتے ہیں۔ آپ کی رپورٹ نہیں لکھی جاتی۔ صحافی بھائیوں سے بات چیت کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آپ گم ہوچکے ہیں۔
تلاش کرنے والے آپ کو ڈھکن کے بغیر کھلے گٹروں میں تلاش کرتے ہیں۔ معتبر معاشرے کے لوگ جانتے ہیں کہ گٹر وہ واحد جگہ ہے۔ جہاںآپ اطمینان سے گم ہوسکتے ہیں۔ مگر غائب ہوجانے والی گتھی مجھے مشکل لگ رہی تھی۔ تب اچانک ایک شخص مجھے ملا جو کچھ کچھ گورا اور کچھ کچھ کالا تھا۔ پوچھا ۔کیا پریشانی ہے؟
میں نے کہا: میں جاننا چاہتاہوں کہ گم ہوجانے اور غائب ہوجانے میں کیا فرق ہے؟
وہ ہنس پڑا ۔کہا،’’آنکھیں بند کرو۔‘‘
میں نے آنکھیں بند کردیں
اس نے کہا، ’’اب آنکھیں کھولو۔‘‘
میں نے آنکھیں کھول دیں۔ اجنبی مجھے کہیں دکھائی نہیں دیا۔ میں نے اسے اِدھر اُدھر تلاش کیا۔ وہ مجھے نہیں ملا۔ کئی روز بعد وہ مجھے گاناگاتے ہوئے ملا۔ میں نے اسے روکا۔ میں نے کہا’’مجھے لگتا ہے ہم پچھلے دنوں ملے تھے۔‘‘
’’تب میں غائب ہوگیا تھا۔‘‘ وہ پھر سے غائب ہوگیا۔ ‘‘