دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں قباحت محسوس نہیں کرتے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنیوں کا شمار دنیا کی چند بہترین، پیشہ ور اورفن سپاہ پر عبور رکھنے والوں میں ہوتا ہے-
6 فروری 2026 کی نمازِ جمعہ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر خودکش حملہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ دہشت گردانہ واقعہ نہ صرف امن و امان کے لئے ایک بڑا دھچکا تھا بلکہ پاکستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کی کارروائیوں کی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔
اس دھماکے میں کم از کم 37 نمازی شہید اور 170 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے سے قبل مرکزی دروازے پر تعینات سیکیورٹی سٹاف پر فائرنگ کی لیکن نمازیوں کے درمیان پہنچنے میں ناکام رہا کیونکہ دروازے کی قریبی صفوں میں موجود 24 سالہ عون عباس جو حالت نماز میں تھا، خطرے کو بھانپ گیا اور خودکش حملہ آور کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے اس سے لپٹ گیا لیکن خودکش بمبار نے خود کو بارود سے اڑا لیا، عون عباس کے اس دلیرانہ عمل نے جانوں کے بڑے نقصان سے بچا لیا جو دہشتگرد کے نمازیوں کے درمیان پہنچ کر دھماکہ کرنے کی صورت میں 100 سے زیادہ ہو سکتا تھا۔جبکہ اس دھماکے میں کم از کم 37 نمازی شہید اور 170 سے زائد زخمی ہوئے، اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں دل ہلا دینے والی دہشتگردی کے چند گھنٹوں میں ہی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب خودکش دھماکہ کرنے والے دہشتگرد کے بنیادی نیٹ ورک کو توڑنا اور پاکستان میں موجود داعش کا خاتمہ اور اس کے دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے مشن کا آغاز کر دیا۔واقعہ کے فوراً بعد داعش نے اپنی ایپ کے ذریعے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کا مقصد اُن کے نزدیک "دشمنوں کو نشانہ بنانا" تھا۔ یہ دعویٰ داعش کے علاقائی شاخوں کے جاری کردہ بیانات کی روشنی میں سامنے آیا، جس نے حملے کی نوعیت کو ایک عالمی دہشت گرد تنظیم کی کارروائی کے طور پر پیش کیا۔ داعش نے ٹیلی گرام نامی اپنی ایپ اور نیوز ایجنسی کے ذریعے دہشتگردی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خودکش بمبار یاسر خان کا نام سیف اللہ انصاری جو دہشتگرد تنظیم کی خفیہ شناخت ہے ظاہر کرتے ہوئے اقرار کیا کہ یہ خودکش بمبار اسی تنظیم ہی کا ہے۔انٹیلی جنس اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے دہشتگردی کی خونی واردات کے پس پردہ متحرک عناصر کا تعاقب کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں ہی اڈیالہ روڈ سمیت راولپنڈی کے نواحی علاقوں سے دو دہشتگردوں کو گرفتار کر کے تفتیش کی تو انہوں نے کچھ سہولت کار خودکش بمبار کی رہائش گاہ، نوشہرہ کی نواحی بستی حکیم آباد جو کینٹ ایریا کے قریب واقع ہے موجود ہیں جہاں ریڈ کیا تو اندر موجود دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی کا افیسر شہید اور تین زخمی ہو گئے۔جس کے فوراً بعد پاکستان کے تحقیقاتی اور انٹیلی جنس اداروں سی ٹی ڈی، انسپکشن ایجنسیز، فرنٹ لائن پولیس، اور دیگر سیکیورٹی فورسز، نے ایک بھرپور آپریشن شروع کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران چار سہولت کار گرفتار کیے گئے جن میں حملہ کا ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش سے تربیت یافتہ تھا۔ خودکش حملہ آور کے دو بھائی اور ایک خاتون کو بھی پشاور سے گرفتار کیا گیا، جس سے مزید انکشافات متوقع ہیں۔ مشترکہ کارروائیاں پشاور اور نوشہرہ میں ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کی روشنی میں انجام پائیں، جس میں مقامی اور
بین الاقوامی نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے نشان ملتے ہیں۔تحقیقاتی ٹیموں نے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا، سماجی روابط، اور ٹریول ہسٹری سمیت دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں، جس سے دھماکے کی منصوبہ بندی، عبوری راستے، اور حملہ آور کے نیٹ ورک کا خاکہ بن رہا ہے۔ اس واقعہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ معاشرتی محاذوں پر فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، مذہبی و سیاسی، اور عوامی ردعمل نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔ 6 فروری کا خودکش حملہ، دہشت گرد تنظیموں کی پاکستان میں موجودگی کی غمازی کرتا ہے۔
لیکن سیکیورٹی کے ادارے خصوصاً نیشنل سائیبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی NCCIA سانحۂ امام بارگاہ ومسجد خدیجۃ الکبریٰ کے وقوع پذیر ہونے کے فوراً بعد پاکستان دشمن عناصر کی جانب سے شروع کئے جانے والے فرقہ وارانہ نفرت اور پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پر کیوں خاموش تماشائی بنے دکھائی دیتے ہیں؟؟؟