یورپی یونین اور بھارت کے مابین دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد گزشتہ ماہ 27؍جنوری کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، یورپین کمیشن کی صدر ارسلالیون اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا نے دہلی میں آزاد تجارتی معاہدے ((FTA پر دستخط کئے جسے بھارتی وزیراعظم نے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیا۔ معاہدے کے تحت بھارت 27یورپی ممالک کو بغیر کسٹم ڈیوٹی ٹیکسٹائل سمیت دیگر مصنوعات ایکسپورٹ کرسکے گا جسکے بدلے بھارت اپنی بڑی مارکیٹ ان 27ممالک سے فری ٹریڈ کیلئے کھولے گا اور اس طرح دنیا کا سب سے بڑا فری زون بھارت اور یورپی یونین 25سے 30فیصد گلوبل GDP اور 2 ارب افراد کیلئے معاشی مواقع فراہم کرینگے جسکے تحت یورپی یونین اور بھارت بغیر ڈیوٹی تجارت کرسکیں گے۔ خدشات ہیں کہ اس معاہدے سے پاکستان کی یورپی یونین ٹیکسٹائل بالخصوص ہوم ٹیکسٹائل ایکسپورٹ متاثر ہوسکتی ہیں۔ بھارت سے EU ڈیوٹی فری ایکسپورٹ مصنوعات میں ٹیکسٹائل، لیدر، جیمز اینڈ جیولری، انجینئرنگ گڈز اور کیمیکلز شامل ہیں جبکہ EU سے بھارت ایکسپورٹ میں آٹو موبائل، مشینری، کیمیکلز، فارماسیوٹیکل، میڈیکل آلات اور کچھ فوڈ آئٹمز شامل ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت کیا گیا جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکہ کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کی وجہ سے متبادل شراکت داروںسے تجارتی روابط بڑھارہے ہیں۔اس معاہدے کی یورپی یونین، بھارتی پارلیمنٹ اور کابینہ سے توثیق ہونا باقی ہے جسکے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہو جائیگا۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں کھنچائو، بھارت پر حالیہ امریکی اضافی جوابی ٹیرف جو پاکستان سے زیادہ ہے اور پاک امریکہ بڑھتے تعلقاتEU بھارت تجارتی معاہدے (FTA) سائن کرنیکا فوری سبب بنے۔ اسکے علاوہ بھارت خطے کی ایک بڑی پرکشش مارکیٹ ہے جہاں یورپی یونین اپنی مصنوعات ایکسپورٹ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یورپی یونین کا پاکستان کو ڈیوٹی فری سہولت دینے میں 800ملین یورو اور بھارت کو ڈیوٹی فری درجہ دینے میں کسٹم ڈیوٹی چھوٹ کی مد میں سالانہ 4ارب یورو کا خسارہ ہے جسے یورپی یونین، بھارت کو اضافی ایکسپورٹ سے پورا کرنا چاہتی ہے۔ یورپی یونین نے بنگلہ دیش اور پاکستان کیساتھ 2014ء میں کم ترقی یافتہ ممالک کی حیثیت سے GSP پلس سائن کیا تھا۔ اس معاہدے سے پہلے پاکستان کی یورپی یونین ایکسپورٹ3.56 ارب یورو تھی جو معاہدے کے بعد 10 سے 12فیصد ڈیوٹی ختم ہو جانے کے باعث بڑھ کر 2024 ء میں 9.3ارب ڈالر اور پاکستان کی EU سے امپورٹ 3.2ارب ڈالر رہی۔ اس طرح پاک EU باہمی تجارت108فیصد بڑھ کر ریکارڈ 14.85ارب یورو تک پہنچ گئی۔ اس سہولت سے بنگلہ دیش کی یورپی یونین ایکسپورٹ بھی 21ارب ڈالر ہوگئی لیکن بھارت پر یورپی یونین کی طرف سے عائد 12فیصد کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے بھارت کی EU ایکسپورٹ صرف 5.6 ارب ڈالر تک محدود رہی مگر اب بھارت کو حالیہ معاہدے کے تحت پاکستان کی طرح ڈیوٹی فری سہولت حاصل ہو جائیگی اور توقع کی جارہی ہے کہ FTA کے نتیجے میں بھارتی ایکسپورٹ 30ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے جس سے لاکھوں بھارتیوں کو اپنے ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع حاصل ہوں گے۔
گزشتہ چند سال سے پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹ 32ارب ڈالر سے نہیں بڑھ پارہی جسکی اصل وجہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہے جس میں بجلی کے اونچے نرخ، بلند شرح سود اور ایکسپورٹ سیکٹر پر اضافی ٹیکسز ہیں۔ پاکستان میں بجلی فی یونٹ 13.5سینٹ ہے جبکہ بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام میں بجلی فی یونٹ 8 سینٹ ہے۔ بھارت میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 15 فیصد جبکہ پاکستان میں یہ شرح 35فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ بھارت میں گیس کے نرخ 9ڈالر فی MMBTU جبکہ پاکستان میں گیس کے نرخ 16ڈالر فی MMBTU ہیں، جسکی وجہ سے خطے میں پاکستان کی صنعتوں کی پیداواری لاگت غیر مقابلاتی ہوگئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ حال ہی میں وزیراعظم نے صنعتوں اور ایکسپورٹرز کیلئے بجلی ٹیرف میں 4.04روپے فی یونٹ، ایکسپورٹ ری فنانس کی شرح سود میں 3فیصد کمی اور وہیلنگ چارجز کم کرکے 9روپے فی یونٹ کردیئے ہیں جس سے نہ صرف ہماری پیداواری لاگت میں کمی ہوگی بلکہ ہم انٹرنیشنل مارکیٹ میں مقابلاتی بن سکیں گے تاہم ٹیکسٹائل مصنوعات کو مقابلاتی بنانے کیلئے کاٹن کی مقامی طور پر دستیابی بھی ضروری ہے۔ میری وزیراعظم کو تجویز ہے کہ وہ ایکسپورٹرز کے پیکیج کیساتھ کاٹن کی پیداوار بڑھانے کیلئے بھی اقدامات کریں تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو کپاس امپورٹ نہ کرنا پڑے۔
گزشتہ ماہ یورپی یونین کے 7رکنی مانیٹرنگ مشن نے GSP پلس سہولت کی تجدید کیلئے 27 کنونشنز پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ وفد نے مختلف وزراء کے علاوہ پرائیوٹ سیکٹر کے نمائندوں سے فیڈریشن ہائوس کراچی میں بھی ملاقاتیں کیں۔ پارلیمنٹرین کی حیثیت سے مجھے بھی اس میٹنگ میں مدعو کیا گیا۔ مانیٹرنگ مشن نے پاکستان میں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، چائلڈ لیبر اور سزائے موت دینے پر اپنے تحفظات اور لیبر قوانین، ماحولیات، گورننس، سیاسی عدم استحکام اور آزادی اظہار رائے سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ملک میں بڑھتی دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کی وجہ سے 2024ء تک 6164 مجرموں کو پھانسی کی سزا ئیں سنائی گئیں مگر 2019 ء سے اب تک کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی بلکہ زیادہ تر پھانسی کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کردی گئیں۔ یاد رہے کہ یورپی یونین نے سری لنکا میں انسانی حقوق کی پامالی پر GSP سہولت واپس لے لی تھی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ لابنگ کرکے GSP پلس معاہدہ جو 2027ء میں ختم ہورہا ہے، کی تجدید کیلئے EU کے نئے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے نہیں تو بھارت، پاکستان سے EU کی بڑی مارکیٹ کا شیئر چھین سکتا ہے۔