• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے منصب کی طاقت یا اختیارات کا غیر قانونی اور بے جا استعمال کرکے دولت بنانے، کسی مستحق کو اس کے جائز حق سے محروم کرنے یا کسی کو ناجائز فائدہ پہنچانے کا اصطلاحی نام کرپشن یا بدعنوانی ہے۔ یہ عالمی سطح کا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور دنیا کا ہر ملک اس سے دو چار ہے۔ معاشی ناانصافیاں اس ناسور کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور بعض دوسرے متعلقہ اداروں کے حالیہ سروے میں اس حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کرپشن یقیناً ہے لیکن اتنی بھی نہیں جتنا اس کا تاثر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی کے سروے کے دوران 67؍ فیصد لوگوں نے اس طرح کی کرپشن یا بدعنوانی کی شکایت کی جبکہ ان میں سے صرف 27؍فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں رشوت ستانی کا ذاتی تجربہ ہوا۔ اقربا پروری بھی کرپشن ہی ہے۔ 56؍ فیصد لوگوں نے بتایا کہ میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مستحق لوگوں کو نوازا جاتا ہے لیکن ان میں سے 24؍ فیصد نے کہا کہ وہ خود اس صورتحال سے گزرے ہیں۔ 59؍فیصد نے کہا کہ سرکاری اداروں میں غیر قانونی طور پر دولت کمانے کا رجحان ہے ان میں سے صرف 5؍ فیصد خود اس کا شکار ہوئے۔

ملک گیر سروے میں عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کا خود سامنا نہ ہونے کی تصدیق کی۔ گویا زیادہ تر شکایات سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ ہوسکتا ہے حقیقت یہی ہو لیکن عمومی تاثر یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں ر شوت ستانی عام ہے، اقربا پروری اور نا انصافی کے واقعات بھی بہت ہیں لیکن ان پرپردہ ڈالا جاتا ہے۔ 62؍ فیصد لوگوں نے بتایا کہ انہیں براہ راست کسی بدعنوانی کا سامنا کرنے کا تجربہ نہیں، 73؍ فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی نہ اقربا پروری سے واسطہ پڑا۔ سروے کے مطابق انسداد بدعنوانی کے اداروں میں نیب کو سب سے موثر ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر کچھ لوگ اس سے بھی مطمئن نہیں۔ سرکاری اداروں میں عوام سب سے زیادہ پولیس سے شاکی ہیں خاص طور پر ٹریفک پولیس سے انہیں زیادہ شکایتیں ہیں۔

کرپشن کی شکایات سے ملک کی سا کھ خراب ہوتی ہے۔ 2025ء میں پاکستان کا اسکور 28؍ رہا جو 182؍ ممالک کے اوسط اسکور 42؍ سے کافی کم ہے 2024ء میں دنیا کے 180؍ ممالک میں پاکستان کا نمبر 135؍ واں تھا جو 2025ء میں ایک درجہ بہتر ہو کر 182؍ ممالک میں 136؍ ہوگیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا بھر میں کرپشن کی صورتحال بدتر ہورہی ہے۔ مسلمہ جمہوری ممالک میں بھی کرپشن بڑھ رہی ہے۔ 2012ء کے بعد 31؍ ممالک میں کچھ بہتری آئی۔ 50؍ میں تنزلی اور ایک سو میں صورتحال برقرار رہی کرپشن انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے بنی نوع انسان کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ یہ ایک بڑا سماجی اور معاشی مسئلہ ہے، عوامی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے نہ صرف قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔ ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور معاشرتی ناانصافیاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی کے اسباب میں کمزور ادارہ جاتی نظام اور احتساب کے ادارے کے آزاد اور موثر نہ ہونے کا بنیادی عمل دخل ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور احتسابی عمل میں سیاسی اثر و رسوخ کا بے جا استعمال بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ قانون کی سختی سے عملداری میں ناکامی مقدمات کا طویل ہونا، سزاؤں پر عمل نہ ہونا، بار بار حکومتوں کی تبدیلی، پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہ رہنا ایسے عوامل ہیں جو کرپشن کے فروغ کا باعث ہیں۔

ملازمین کی کم تنخواہیں، مہنگائی اور معاشی دباؤ بھی کرپشن کے رجحان میں اضافہ کرتا ہے۔ شفافیت اور حقیقی احتساب کا فقدان، سرکاری ٹھیکوں، بھرتیوں، ترقیاتی کاموں میں ہیر پھیر اور غیر منصفانہ طرز عمل، بدعنوانی کے مو اقع پیدا کرتا ہے۔ نگرانی کا کمزور نظام بھی اسے بڑھاتا ہے۔ اس صورتحال کے تسلسل سے معاشرے میں کرپشن کو برا کہنے کی اخلاقی جرات ختم ہو نے لگتی ہے اور لوگ اسے معمول کی بات سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر یہ رویہ آگے آنے والی نسلوں کو منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔

کرپشن کے خاتمے کے لئے دنیا کے ہر ملک میں احتساب کے ادارے اور قوانین موجود ہیں۔ڈنمارک کا شمار اس وقت دنیا کے کم ترین کرپشن والے ملک کے طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں ادارے مضبوط اور نظام شفاف ہے میڈیا بھی آزاد اور قوانین سخت ہیں، سنگاپور نے اعلیٰ تنخواہوں اور سخت احتساب سے صورتحال کو بڑی حد تک قابو میں رکھا ہوا ہے چین میں کرپشن کی سزا موت ہے جس سے کسی کو بدعنوانی کی جرات نہیں ہوتی۔ دنیا کے اکثر ممابک میں ڈیجیٹلائزیشن سے کرپشن پر قابو پانے کی کوشش کی گئی ہے اس سے معاملات میں انسانی مداخلت ختم ہوجاتی ہے جو کرپشن کی بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر عوامی خدمات کے شعبے میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن سے عام آدمی کی مشکلا ت ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔

افغانستان میں طویل خانہ جنگی، سیاسی عدم استحکام اور کمزور اداروں کی وجہ سے کرپشن زوروں پر ہے۔ ماہرین مضبوط اور خود مختار احتسابی نظام، ڈیجیٹلائزیشن ، ای گورننس اور سرکاری خدمات کو آن لائن کرنے سے رشوت ستانی کے مواقع کم کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ پاکستان میں کرپشن کی جڑیں اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم استحکام ور سماجی رویوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسی لئے کرپشن کے خلاف اقدامات کو موثر بنانے کی غرض سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا گہرائی سے جائزہ لینے کا حکم دیاہے اور آزاد ارکان پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بدعنوانی روکنے کے لئے ان شعبوں کی نشاندہی کی جائے جن میں یہ مسئلہ پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی مدد اور مشاورت سے اس صورتحال کا تدارک کیا جائے۔ پاکستان نے کرپشن روکنے کے اقدامات کے حوالے سے سو میں سے 28؍ نمبر حاصل کئے ہیں جبکہ اوسط نمبر 42؍ ہیں لیکن جن ملکوں میں بدعنوانی کم ہے ان کا اسکور 80؍ اور 90؍ سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو کرپشن کے خاتمے کے لئے زیادہ موثر حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔

تازہ ترین