• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سےخصوصی تحریر)

بہت عرصہ پہلے انسان نے یہ جان لیا تھا کہ عالم انسانیت کو کسی مستقل نقصان سے بچانے اور پائیدار اقدار پر مبنی سماج کی تشکیل کے لیے زبان کو ایک آلۂ کار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس جنگ میں لفظ ہمارے ہتھیار ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم ذہن بدل سکتے ہیں، پرانے خیالات کی جگہ نئے خیالات پیدا کر سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔چوں کہ ہم نے سمجھ لیا کہ زبان ہمارا ذہن ہی نہیں، مزاج بھی بدل سکتی ہے۔نقطۂ نظر بدل سکتی ہے، طرز فکر و احساس بدل سکتی ہے لہٰذا یہ بھی جان لیا کہ زبان ایک طاقت ہے اور طاقت ہمیشہ دو طرح سے استعمال ہوتی ہے۔ مثبت اور منفی۔ زبان کو دونوں طرح سے استعمال کرنے کے مظاہرے ہم ہر سطح پر ہر روز دیکھتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو زبان انسانی فکر کا ماخذ ہے۔ زبان ہی خیالات کا سرچشمہ اور تصورات کا منبع ہے۔یہی نہیں بلکہ زبان تاریخ کا سب سے بڑا مظہر بھی ہے۔بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ زبان ہی انسانی سماج کی تاریخ ہے۔ زبان نہیں توسماجی تاریخ بھی نہیں، محض مفروضے باقی رہ جاتے ہیں۔زبان انسان کے ذہنی وفکری ارتقا کی ذمہ دار ہے اور انسانی سماج کا بنیادی ہتھیار ہے۔

لیکن دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہی زبان سامراج کی لونڈی بنتی جا رہی ہے اور انسان کے استحصال کا ہتھکنڈہ بن کے رہ گئی ہے۔یہ ایک عجیب و غریب حقیقت ہے کہ ہر عہد کی ایپسٹمالوجی اس عہد کی فکر کا قید خانہ بن جاتی ہے۔ ہم اپنے عہد کے علمیاتی سیاق و سباق سے باہر نکل کر سوچنے کے قابل نہیں رہتے۔ ہماری ذہنی تربیت ہمیں انھی الفاظ و تراکیب اور اصطلاحات میں محدود کر دیتی ہے جو ہمارے حافظے کے صحن میں دھرے ہوتے ہیں اور حافظے کےصحن میں وہی الفاظ دھرے رہتے ہیں جو بار بار استعمال میں آتے ہیں، درسگاہوں، اخباروں اور دیگر ذرائع ابلاغ سے نشر ہوتے رہتے ہیں، یا نصابوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہمارا فنکشنل یا اطلاقی ذخیرۂ الفاظ اکثر بہت محدود ہوتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہم بالخصوص پس ماندہ اقوام کے افراد، رٹی رٹائی باتیں دہرانے کے عادی اور تخلیقی فکر سے عاری ہوتے ہیں۔ گویا زبان جہاں تخلیق خیال کا باعث ہے وہاں ہمارے امکانات کا قفس بھی ہے۔

زبان کی اس صلاحیت کا فائدہ استحصالی طبقے نے خوب اٹھایا ہے اور ہر زمانے میں مخصوص الفاظ و اصطلاحات کے ذریعے انسانی فکر کو اپنی مطلوبہ سمت میں موڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس مذموم کوشش کا ایک پہلو زبان کی گلوبلائزیشن ہے۔اس گلوبلائزیشن نے زبانوں میں بھی طبقاتی امتیاز پیدا کر دیا ہے۔ بڑی اور چھوٹی زبان کی تقسیم اور بڑی یعنی طاقت ور کی زبان کے ذریعے چھوٹی، یعنی پیچھے رہ جانے والے انسانی گروہوں کی زبان کو ہڑپ کر جانے کی یہ سعیٔ نا مشکورانسانی تجربات کے ذخیرے کو محدود سے محدود تر کردینے پر تلی ہوئی ہے۔اس لسانی امتیاز کے نتیجے میں افکار و نظریات کا تنوع ختم ہوتا جا رہا ہے۔ طرزِ فکر و احساس کی یکسانی ہمارا مقدر بنتی جا رہی ہے۔اور نتیجے کے طورپر ہمارا سماج مختلف جغرافیائی خطوں کے مقامی ماحول سے جڑے ہوئے تجربات اور ان تجربات سے پھوٹتی ہوئی مقامی دانش سے محروم ہو تا جا رہا ہے۔

کرۂ ارض کے مختلف خطوں میں رہنے ولے لوگ چند طاقت ور اور ثروت مند خطوں میں پیدا ہونے والے تجربات کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کی انفرادیت پہلے گروی رکھی جاتی ہے اور پھر اس متاع کو ہمیشہ کے لیے دریا برد کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نسلیں تخلیقی فکر سے محروم ہوتی جاتی ہیں کیوں کہ وہ جس زبان میں سوچنے پر مجبور کیا جاتے ہیں وہ زبان ان کے وجود اور روح کے تجربات سہارنے کی اہل ہی نہیں ہوتی۔ اس نافذکردہ زبان میں صرف وہی باتیں سوچی جا سکتی ہیں جو کسی اور نے پہلے سے سوچ کر الفاظ کے ذریعے نشر کر دی ہیں۔

زبانوں کی گلوبلائزیشن ایک بلیک ہول ہے جس میں صرف چھوٹی سمجھی جانے والی زبانیں ہی نہیں، طاقت کے مراکزسے دور حاشیے پر رہنے والے انسانوں کی تاریخ، ان کی لوک دانش، ان کے ذہنی، جسمانی اور روحانی تجربات، ان کے جغرافیائی نشیب و فراز، ان کے رنگ، ان کی خوشبوئیں، ان کے ساز، ان کے گیت، ان کی آرزوئیں، ان کے خواب بھی دفن ہوتے جا رہے ہیں۔

زبانوں کی انفرادیت ، تنوع اور نیرنگی میں چھپے ہوئے معانی بنی نوع انسان کی مشترکہ میراث ہیں۔ اس میراث کی حفاظت کیے بغیرسماجی، ماحولیاتی اور معاشی پائیداری قائم کرنے کی ہر کوشش ادھوری اور ناقص رہے گی۔کوئی زبان چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی۔ ہر زبان منفرد اور یکتا ہوتی ہے۔ جب کوئی زبان مٹتی ہے تو انسانی تاریخ اور تجربے کا ایک امکان ہمیشہ کے لیے مر جاتاہے۔ عالم انسانیت کا سرمایہ کم ہو جاتا ہے، انسان پہلے سے مختصر اور چھوٹاہو جاتا ہے۔ اس عمل کی مزاحمت ہر سطح پر لازم ہے۔

تازہ ترین